انجمن ترقی پسند مصنفین کا احیاء

سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ہر لڑائی، ہر اختلاف کے پیچھے ذاتی اور جماعتی مفادات کارفرما ہوتے ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

بورژوازی سیاست کرنے والوں نے اپنے جرائم، اپنی مفاد پرستیوں کو چھپانے کے لیے کئی کئی گمراہ کن اصطلاحیں ایجاد کر رکھی ہیں۔ ان ہی اصطلاحوں میں ایک اصطلاح ہے ''اختلافات جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں''۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت اس قدر بدصورت ہوتی ہے کہ اس میں حسن تلاش کرنا ایک حسین فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔

سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ہر لڑائی، ہر اختلاف کے پیچھے ذاتی اور جماعتی مفادات کارفرما ہوتے ہیں لیکن نظریاتی جماعتوں میں اختلاف رائے کی ایک حد ہوتی ہے، اگر نظریاتی کارکن اس حد کو پار کر لیتے ہیں تو وہ عملاً بورژوا سیاست سرمایہ دارانہ خود غرضیوں کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی عالمگیر برائیاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہیں، اس قسم کی خطرناک صورتحال میں استحصالی نظام کو بدلنے کا بڑا اور اہم ترین ٹاسک رکھنے والوں کو بڑا محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کی ایک روشن تاریخ ہے، بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں جب انجمن تشکیل دی گئی تو اس وقت دنیا پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریاں بھگت رہی تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلی جنگ کی انسان کش تباہیوں کے پیش نظر دنیا کو دوسری کسی عالمی جنگ سے بچانے کی کوشش کی جاتی لیکن اس نظام کے تضادات نے ذاتی، جماعتی اور طبقاتی مفادات رکھنے والوں کو دوسری عالمی جنگ میں ملوث کر دیا اور اس جنگ نے کروڑوں بے گناہ انسانوں کو سرمایہ دارانہ نظام کی مانگ کو کروڑوں عوام کے خون سے بھر دیا۔

اس المیے سے دنیا ابھی سنبھلی بھی نہ تھی کہ سامراجی سازشوں نے متحدہ ہندوستان کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور اس تقسیم کے نتیجے میں انسان کے ہاتھوں انسان کو اس بیدردی سے قتل کروا دیا کہ خود ظلم شرمسار ہو کر رہ گیا۔ بلاتخصیص مرد، عورت، جوان، بوڑھے لگ بھگ 22 لاکھ انسانوں کو اس طرح قتل کیا گیا کہ ہر گھر، گلی، محلہ، ہر بستی ماتم کدے میں بدل گئی۔ فرقہ وارانہ منافرت کے اس طوفان کو روکنے کے لیے ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں پر مشتمل ادیبوں شاعروں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے پرچم تلے خوفزدہ غمزدہ انسانوں کو زندہ رہنے کا حوصلہ اور مذہب کے نام پر کشت و خون کے نتائج و عواقب سے آگاہ کر کے انھیں انسانی رشتے کی ایک لڑی میں پرونے کی کامیاب کوشش کی۔

1947ء سے آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک انجمن مختلف مراحل سے گزرتی رہی لیکن وہ نامساعد حالات میں بھی انسانوں کے درمیان محبت، اخوت، بھائی چارے کے چراغ جلاتی رہی۔ انجمن سے وابستہ لوگ بھی انسان ہیں اور ان میں بھی بشری کمزوریاں موجود ہیں، ان کمزوریوں نے انجمن کو نہ صرف ایک سخت آزمائش سے دوچار کر دیا ہے بلکہ ان دانستہ یا نادانستہ غلطیوں کی وجہ سے انجمن کی تاریخ داغدار ہو رہی ہے اور یہ غلطیاں اس وقت سرزد ہو رہی ہیں جب سرمائے کے سرپرستوں نے طبقاتی تضادات سے دنیا کے 7 ارب غریب انسانوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اضطراب اور اشتعال کو قابو کرنے کے لیے اپنی پٹاری سے مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے بے انتہا زہریلے سانپ کو نکال کر ساری دنیا کے عوام کی توجہ کا رخ طبقاتی استحصال سے ہٹا کر دہشت گردی کی طرف موڑ دیا ہے۔ اور اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اس کا مقابلہ کرنے کی ایکٹنگ بھی کر رہا ہے۔ یہ بڑا نازک مرحلہ ہے، کیونکہ اس پر فریب جال میں ساری دنیا پھنستی جا رہی ہے اور دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ طبقاتی استحصال عوام کی نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔


غریب عوام حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے دعویدار ہر جگہ مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے کیوں قتل کر رہے ہیں اور ان سامراجی مجاہدین کا میدان جنگ مسلم ملک ہی کیوں بنے ہوئے ہیں۔ سامراجی ملکوں کی اس چال یا سازش کی کامیابی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گئی ہے اور دنیا کا حقیقی سب سے بڑا مسئلہ طبقاتی استحصال پس منظر میں چلا گیا ہے۔

افغانستان سے روس کو نکالنے کے لیے مذہبی انتہاپسندی کا بیج بونے والے اور ہر بڑی ضرورت کے موقع پر مذہبی انتہاپسندی کو استعمال کرنے والے اپنے پیدا کردہ عفریتوں کے دشمن کیسے ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس شیطانی کھیل کا سب سے بڑا میدان بنا ہوا ہے، اس شیطانی کھیل میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ غریب پاکستانی اپنی جانیں ضایع کر چکے ہیں، اسلحے کی تجارت سے اربوں ڈالر کمانے والے ملک اب بھی اپنے اسلحے کی کھپت کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں تا کہ اسلحے کی کھپت میں کمی نہ ہو۔

آزمائشوں کی اس نازک گھڑی میں انسانیت کا درد رکھنے والے اور سامراجی سازشوں کو سمجھنے والوں کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں اتحاد اور اعتماد برقرار رکھیں اور عوام کو سامراج اور ان کے مقامی گماشتوں کی خطرناک سازشوں سے آگاہ کرتے رہیں۔ دنیا کے اہم اور خطرناک مسائل کے مضمرات سے آگاہ کرنا ترقی پسند طاقتوں کی ذمے داری ہوتی ہے اور اس مشن میں ادیب، شاعر، فنکار، دانشور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انجمن ترقی پسند مصنفین محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، اس تحریک میں شامل ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے 1947ء میں برصغیر کے عوام کو لگنے والے زخموں کو بھرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بدقسمتی یا المیے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں ترقی پسند طاقتیں انتشار اور دھڑے بندی کا شکار ہیں، اس کی دوسری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں وہ مدر تنظیم موجود نہیں جو اپنے تمام فرنٹس کو جوڑ کے رکھتی ہے۔ اس کمزوری کا یہ مطلب نہیں کہ انتشار اور بدنظمی کے سیلاب میں سب بہہ جائیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اور زیادہ عزم و حوصلے کے ساتھ اس بدتر صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کی جائے۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ عشروں سے انجمن ترقی پسند مصنفین کی ادبی سرگرمیاں تنقیدی نشستوں کی بے مقصد نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، ترقی پسند سیاسی جماعتوں کی طرح انجمن ترقی پسند مصنفین بھی عوام سے کٹ گئی ہے۔ آج کے حالات کا تقاضا ہے کہ انجمن کے دوست اپنے بے معنی اختلافات کو الگ کر کے خود احتسابی کے ذریعے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ادراک کر کے ان کا ازالہ کریں اور انجمن کو عشروں کے جمود سے نکال کر اسے فعال بنائیں ادب اور شاعری انسانی ذہنوں کو تبدیل کرنے کی زبردست صلاحیتیں رکھتی ہیں۔

ان صلاحیتوں کو عوام میں ذہنی انقلاب لانے کے لیے کامیابی سے اسی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب کارکن اپنی ذات کی نفی کر کے اپنی نظریاتی ذمے داریوں کو اپنی سرگرمیوں کا محور بنائیں۔ نظریاتی کام کرنے والوں میں اختلافات اس وقت ابھر کر سامنے آتے ہیں جب تحریکیں جمود کا شکار ہو جاتی ہیں اختلافات اور اختلافی مسائل کو حل کرنے کا بہترین طریقہ حرکت اور فعالیت ہے۔ کیا دوست اس سے اتفاق کریں گے؟
Load Next Story