ترقیاتی منصوبے فروری سے قبل مکمل کیے جائیںوزیراعلیٰ سندھ
محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ خزانہ کو زیادہ سے زیادہ فنڈزریلیز کر نے کی ہدایت
صوبے میں جاری نئی ترقیاتی اسکیموں پر کام کی رفتار تیز کر دی جائے ،قائم علی شاہ فوٹو: فائل
BAGHDAD:
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ خزانہ کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہواجس میںسالانہ ترقیاتی پروگرام 2012-13کے تحت نئے اور گذشتہ سال سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ صوبے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے فروری 2013 سے قبل مکمل کرلیے جائیں جبکہ نئی ترقیاتی اسکیموں پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے تاکہ ان اسکیموں کے ثمرات جلد سے جلد عوام تک پہنچ سکیں ۔ انھوں نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ اہم اسکیموں کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز ریلیز کیے جائیں اور تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیر جیسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے نیزجاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید 25 فیصد رقم فراہمکی جائے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت نے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری خزانہ محمد عارف خان نے 2012-13کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 2611 ترقیاتی منصوبوں کیلیے161.000بلین روپے مختص کیے۔ ان ترقیاتی منصوبوں میں 1288 جاری ترقیاتی منصوبے اور 1323نئے منصوبے شامل ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ 31.682 بلین روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 31-10-2012تک 9.173 بلین کے اخراجات ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق 1019ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کی اسکیمیں ، 163فراہمی و نکاسی آب کی اسکیمیں، 157تعلیم کی، 70 زراعت کی، 29جنگلات، جنگلیحیات اور کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی، 25صنعتوں کی اسکیمیں جبکہ پی پی ایڈ ایچ کے 352 منصوبے، کول اینڈ انرجی کے 35،مائنز اور منرل کے 13،صحت کے 156، اسپورٹس کے 31، امور نوجواناں کے 17،سیاحت کے 18،اوقاف، زکوٰۃ اور مذہبی امور کے 17،ترقی نسواں کے 20، زراعت کے 30،سماجی فلاح وبہبود کے 13جبکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی و دیگر شعبوں میں 25ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔52 اسپیشل پیکیجزاور 209اسپیشل پروجیکٹس اس کے علا وہ ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ خزانہ کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہواجس میںسالانہ ترقیاتی پروگرام 2012-13کے تحت نئے اور گذشتہ سال سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ صوبے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے فروری 2013 سے قبل مکمل کرلیے جائیں جبکہ نئی ترقیاتی اسکیموں پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے تاکہ ان اسکیموں کے ثمرات جلد سے جلد عوام تک پہنچ سکیں ۔ انھوں نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ اہم اسکیموں کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز ریلیز کیے جائیں اور تعلیم، صحت، سڑکوں کی تعمیر جیسے منصوبوں کو ترجیح دی جائے نیزجاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید 25 فیصد رقم فراہمکی جائے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حکومت نے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری خزانہ محمد عارف خان نے 2012-13کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 2611 ترقیاتی منصوبوں کیلیے161.000بلین روپے مختص کیے۔ ان ترقیاتی منصوبوں میں 1288 جاری ترقیاتی منصوبے اور 1323نئے منصوبے شامل ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ 31.682 بلین روپے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 31-10-2012تک 9.173 بلین کے اخراجات ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق 1019ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کی اسکیمیں ، 163فراہمی و نکاسی آب کی اسکیمیں، 157تعلیم کی، 70 زراعت کی، 29جنگلات، جنگلیحیات اور کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی، 25صنعتوں کی اسکیمیں جبکہ پی پی ایڈ ایچ کے 352 منصوبے، کول اینڈ انرجی کے 35،مائنز اور منرل کے 13،صحت کے 156، اسپورٹس کے 31، امور نوجواناں کے 17،سیاحت کے 18،اوقاف، زکوٰۃ اور مذہبی امور کے 17،ترقی نسواں کے 20، زراعت کے 30،سماجی فلاح وبہبود کے 13جبکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی و دیگر شعبوں میں 25ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔52 اسپیشل پیکیجزاور 209اسپیشل پروجیکٹس اس کے علا وہ ہیں۔