دہشت گردی یہ پوری دنیا کی جنگ ہے

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی قربانیاں دی ہیں

گرفتار دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ فوٹو:فائل

RAWALPINDI:
پاکستان گزشتہ کئی سال سے دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹ رہا ہے، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے، دہشت گردوں کے بیس کیمپس، پناہ گاہیں اور اسلحہ ساز فیکٹریاں تباہ ہو ئیں اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہونے کے بعد وہ ملکی سلامتی کے لیے ویسا بڑا خطرہ نہیں رہے جو کبھی محسوس کیے جاتے تھے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گرد ابھی تک ملک کے مختلف حصوں میں چھپے ہوئے اور وقفے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا لیکن بعدازاں بعض سیاستدانوں کی جانب سے یہ اعتراضات بھی سامنے آئے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کے معنی و مفہوم کے مطابق عمل نہیں ہو رہا بالخصوص صوبہ سندھ میں بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ان تحفظات کو دور نہ کیے جانے کے باعث سیاسی جماعتوں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ویسا تعاون اور گرمجوشی دکھائی نہیں دے رہی جیسا کہ ہونی چاہیے تھی لہٰذا ملک کو دہشت گردی سے مکمل طور پر نجات دلانے کے لیے ناگزیر ہے کہ وفاقی حکومت تمام صوبائی قیادتوں اور سیاسی جماعتوں کو نہ صرف اعتماد میں لے بلکہ انھیں اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ متحرک کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کرے۔

ترجمان پاک فوج اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایکسپریس ٹریبیون کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاک فوج اور پوری قوم دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے تاہم دنیا یہ بات یاد رکھے کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس کا دنیا بھر میں مقابلہ کرنا ہو گا پوری دنیا کو ہماری مدد کرنی چاہیے' پاکستان کو بھرپور یقین ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی سمت بالکل درست ہے۔


پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی قربانیاں دی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دہشت گردی کے عفریت کو پیدا کیا اور اس کی اعانت کی وہ تو پرامن زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستان جس کا دہشت گردی کی اس جنگ سے تعلق نہیں تھا وہ اس کا نشانہ بن گیا اور جنہوں نے یہ جنگ شروع کی وہ بڑے آرام سے اس سے باہر نکل گئے مگر آج یہ پاکستان کی جنگ بن چکی ہے اور وہ تنہا اس میں قربانیاں دے رہا ہے۔

اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ عفریت سب نے مل کر پیدا کیا لیکن ہم اس کے خلاف لڑ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پوری دنیا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمارا ساتھ دے گی۔ پاکستان نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر کے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ زندہ گرفتار بھی کیا جنھیں سزائیں دینے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔

بعض حلقوں کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے جس پر ترجمان پاک فوج نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ صرف خطرناک اور جارح مزاج دہشت گردوں کے کیس فوجی عدالتوں کو بھیجے جاتے ہیں' وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ان دہشت گردوں کے کیسز ایک میکانزم کے تحت فوجی عدالتوں کو بھجوائے جاتے ہیں جب کہ انھیں سزائیں بھی قانون کے مطابق اور شفاف عدالتی کارروائی کے بعد سنائی جاتی ہیں۔

گرفتار دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے کیونکہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ نہ صرف دہشت گرد سسٹم میں موجود اسقام کے باعث سزاؤں سے بچ جاتے ہیں بلکہ ان کے سہولت کار بھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے جس کے باعث سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی قیادت اور عدلیہ پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ سسٹم میں موجود اسقام کو دور کرے تاکہ دہشت گرد کسی بھی طور سزا سے نہ بچ سکیں۔

امریکا اور دیگر عالمی قوتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اس شروع کی ہوئی جنگ جو پاکستان لڑ رہا ہے میں اس کی نہ صرف مالی مدد کریں بلکہ جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی بھی فراہم کریں۔ یہ صرف پاکستان کی نہیں پوری دنیا کی جنگ بن چکی ہے۔
Load Next Story