محکمہ صحت کی زبوں حالی

عوام کے بنیادی مسائل میں صحت کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

عوام کے بنیادی مسائل میں صحت کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہر انسان کو پیدائش سے لے کر موت تک علاج معالجے کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ اس مسئلے کی اسی اہمیت کے پیش نظر دنیا بھرکی حکومتیں عوام کو بلا معاوضہ علاج معالجے کی سہولتیں عوام کو فراہم کرتی ہیں، لیکن پسماندہ ملکوں خصوصاً پاکستان میں نظام تعلیم کی طرح صحت کے شعبے میں بھی دہرا نظام رائج ہے۔

یہاں بھی کالے پیلے سرکاری اسکولوں کی طرح غریب طبقات کے لیے کالے پیلے اسپتال موجود ہیں اور ان کی تعداد کراچی جیسے دوکروڑ کی آبادی میں اس قدرکم ہے کہ ان اسپتالوں میں ہر وقت مریضوں کا ہجوم رہتا ہے، مریضوں کی تعداد کے تناسب سے ڈاکٹروں کی تعداد اس قدرکم ہوتی ہے کہ ڈاکٹر محض اپنی ذمے داری نبھانے کے لیے دو چارمنٹ ہر مریض کو دیتے ہیں اس کلچر کی وجہ سے مریض اپنی بیماریوں سے نجات حاصل نہیں کرسکتا۔ کراچی کے بڑے اسپتالوں کا المیہ یہ ہے کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد ایڈمیشن کے انتظار میں فٹ پاتھوں پر پڑی رہتی ہے۔

پرائیویٹ اسپتال منافع بخش انڈسٹری میں بدل گئے ہیں۔ ان اسپتالوں میں غریب آدمی علاج کا تصور بھی نہیں کرسکتا، پچھلے دنوں پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے دوران ہمارے ایک بھتیجے کو پیٹ میں پر اسرارگولیاں لگیں چونکہ یہ نوجوان پی آئی اے میں ملازم ہے اس لیے اسے علاج کی سہولت حاصل ہے، سو اسے اسپتال میں داخل کردیاگیا، دوسرے دن جب ہم اس نوجوان کو دیکھنے کے لیے اسپتال گئے تو پتہ چلا کہ اس کا آپریشن ہنوز ویٹنگ لسٹ میں ہے، بہر حال رات میں آپریشن کرکے گولیاں نکال لی گئیں۔ یہ تو شہر کا بڑا اسپتال تھا جہاں کسی نہ کسی طرح کامیاب آپریشن ہوگیا لیکن دوسرے اسپتالوں میں لاپرواہی اور غیر ذمے داری کی صورتحال کیا ہوسکتی ہے، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔

پچھلے دنوں ایکسپریس کے کالم نگار برادرم مقتدا منصور کو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ایک درمیانے درجے کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل ہونا پڑا جہاں دو دن کے قیام پر ان کو 50 ہزار سے زیادہ کا بل تھمادیا گیا، اس کا ذکر مقتدا منصور نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے۔ شہر کے تمام پرائیویٹ اسپتالوں کی یہی بلکہ اس سے بد تر صورتحال ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے سے بد ترین لاپرواہی کے ساتھ کرپشن کا عالم یہ ہے کہ کئی سرکاری اسپتالوں میں کروڑوں روپوں کی بدعنوانیوں کی داستانوں سے میڈیا بھرا ہوا ہے، سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج سے غفلت و لاپرواہی کے ساتھ ساتھ مریضوں کے لیے خریدی جانے والی کروڑوں روپوں کی دوائیں اسپتال کے باہر قائم میڈیکل اسٹوروں میں فروخت کردی جاتی ہیں۔ یوں مریض سرکاری دواؤں سے محروم ہوکر بازار سے دوائیں خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

کراچی جیسے دو کروڑ کی آبادی کے شہر میں صرف تین بڑے سرکاری اسپتال موجود ہیں، ان اسپتالوں میں ہر روز مریضوں کا میلہ لگا رہتا ہے اور بیچارے مریض گھنٹوں خوار ہونے کے بعد چند ہری پیلی دوائیں لے کر واپس آتے ہیں، نہ ان کے مرض کی تشخیص کی زحمت کی جاتی ہے نہ ضرورت کے مطابق دوائیں فراہم کی جاتی ہیں۔


سرکاری اسپتالوں کو خصوصی طور پر تیار کی ہوئی دو نمبر کی دوائیں فراہم کی جاتی ہیں جو مریض کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچاتی ہیں۔ ہمارے دواؤں کی کمپنیوں میں ایسی کمپنیاں بھی ہیں جو دو نمبر کی دوائیں تیار کرتی ہیں اور یہ دو نمبر کی دوائیں بھاری قیمتوں کے ساتھ کھلے عام میڈیکل اسٹوروں پر فروخت ہوتی ہیں جس کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں، سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے اسپیشلسٹ ڈاکٹر مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینکس کا پتہ دیتے ہیں اور مجبور مریض ان ماہر ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینکس پر جاکر بھاری فیس ادا کرکے اپنا علاج کراتے ہیں۔ یہ ایک ایسا اوپن سیکریٹ ہے جس سے ہر شہری واقف ہے۔

تعلیم اور علاج انسانوں کی دو اہم بنیادی ضرورتیں ہیں، جس کے پیش نظر عوام دوست حکومتیں اپنے بجٹ میں ضرورت کے مطابق رقوم رکھتی ہیں لیکن پاکستان کی حکومتیں ہر سال ان دو شعبوں کے لیے اپنے بجٹ کا 3-2 فی صد حصہ مختص کرتی ہیں، جس میں سے آدھا حصہ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے اور جو بچ رہتا ہے وہ اسپتالوں میں کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے مریضوں کو بازار سے دوائیں خریدنی پڑتی ہیں۔

سرکاری اسپتالوں میں انتظامیہ کی نا اہلیوں کا عالم یہ ہے کہ اسپتالوں کے لیے منگوائی جانے والی کروڑوں روپے کی مشینری بندرگاہوں پر پڑی پڑی خراب ہوجاتی ہے اور فور ایم آر آئی اور سٹی اسکین جیسی ضروری مشینیں مہینوں خراب رہتی ہیں مریضوں کو باہر سے ایم آر آئی اور سٹی اسکین کرانے کا حکم دیا جاتا ہے لیکن ان مشینوں کی فوری مرمت کا انتظام نہیں کیا جاتا۔

یہ صورتحال کراچی جیسے بڑے شہروں کی ہے دیہی علاقوں میں تو صورتحال اس قدر شرمناک ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں وڈیروں کے مویشی باندھے جاتے ہیں یا انھیں مارکیٹوں میں بدل دیا جاتا ہے ان اسپتالوں کا عملہ اسپتالوں میں صرف تنخواہیں وصول کرنے کے لیے آتا ہے، ہر شعبے کے اسپیشلسٹ پرائیویٹ اسپتالوں میں بھاری فیس لے کر مریضوں کو دیکھتے ہیں ۔

ان میں بڑی تعداد سرکاری اسپتالوں میں ملازم ڈاکٹروں کی ہوتی ہے۔ یہ اسپیشلسٹ کئی اسپتالوں میں بیٹھتے ہیں اور ان کے مریضوں کی بھیڑ اتنی ہوتی ہے کہ کوئی اسپیشلسٹ مریض کو چار پانچ منٹ سے زیادہ وقت ہی نہیں دے سکتا علاج کے نام پر لوٹ مار کر یہ سلسلہ سارے ملک میں جاری ہے۔

دیہی سندھ میں صورتحال کا اندازہ تھر پارکر کی صورتحال سے کیا جاسکتا ہے جہاں برسوں سے معصوم بچے بھوک اور علاج سے محرومی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں موت کا شکار ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں، میڈیا میں شورشرابے کے باوجود حکمران اس حوالے سے جھوٹے جواز پیش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کررہے ہیں۔

ویسے تو اس سسٹم میں بالواسطہ قتل عام کے اس سلسلے کو روکا نہیں جاسکتا لیکن اگر پنجاب جیسا ہیلتھ کارڈ کا نظام پورے ملک میں رائج کیا جائے اور عوام کو اپنی مرضی کے پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کی مفت سہولتیں فراہم کی جائیں اور اس کی مانیٹرنگ کا کڑا اہتمام کیا جائے تو اس ملک کے غریب عوام کو بھی معیاری علاج کی سہولتیں حاصل ہوسکتی ہیں۔
Load Next Story