ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سمیت4شعبوں کا ریفنڈز نہ ملنے پر احتجاج کا انتباہ
حکومتی پالیسیوں سے برآمدات کم ہورہی ہیں،پاورٹیرف میں کمی کے اعلان پر عملدرآمد نہیں کیاگیا،جاوید بلوانی
350 ارب کے ریفنڈنہ ملے توتمام ٹیکس دفاتر،کسٹم ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا،پریس کانفرنس سے خطاب ۔ فوٹو: فائل
ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سمیت دیگر4 زیروریٹڈشعبوں نے 350 ارب روپے سے زائد مالیت کے سیلزٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک، ڈی ایل ٹی ایل ریفنڈزفوری طور پرادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کومتنبہ کیا ہے کہ برآمدکنندگان کے رکے ہوئے کلیموں کی ادائیگیاں فوری طور شروع نہیں کی گئی توملک گیراحتجاج کے ساتھ تمام علاقائی ٹیکس دفاتراور کسٹم ہاؤس کے سامنے مسائل کے حل تک دھرنابھی دیا جائے گا۔
پی ایچ ایم اے ہاؤس میں پیر کوپاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمدجاوید بلوانی نے ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل، کارپٹ اوراسپورٹس گڈزکے نمائندوںکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے پانچ زیروریٹڈ سیکٹر کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 فروری سے شروع کیا جانا تھا جس کے لیے کچھ دن پہلے ہی مقامات اور تاریخوںکاکی فیصلہ کر لیا گیا تھ۔
اتاہم وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے انڈسٹری کے نمائندوں پرمشتمل اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ایک ہفتے میں ریفنڈز کے اجرا کے سلسلے میں اسٹیک ہولڈرزسے ملاقات اور ادائیگیوں کا طریقہ کار طے کرنے کے عندیے کے بعدہم نے آج صرف کراچی میں پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ کیاہے لیکن اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مجوزہ اجلاس میں مطالبات پورے نہ کیے گئے تو نئی تاریخوں کے ساتھ احتجاجی تحریک شروع کردی جائے گی۔
حکومت پرسیلزٹیکس ڈی ایل ٹی ایل اورڈیوٹی ڈرابیک کی مد میں اگرچہ 350 ارب روپے سے زائد مالیت کے واجبات ہیں لیکن فی الوقت حکومت نے220 ارب روپے کے واجبات کو تسلیم کیا ہے، ن لیگ کی موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملکی برآمدات میں14.5 فیصد کی کمی سے 32 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے وفاقی بجٹ سال2015-16 کی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ 31 مئی2015 کے ٹیکس کے عرصے کے تمام ریفنڈ کلیمز 31 اگست2015 تک جاری کردیے جائیں گے لیکن اس پر عمل درآمد نہ کیا گیا اور پیوستہ سال بھی وزیرخزانہ اسی قسم کا وعدہ کرچکے تھے جس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ نے مالی سال 2014-15کے بجٹ تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے ایف بی آر کوہدایت کردی ہے کہ 30 ستمبر2014 کے زیرالتوا ریفنڈکلیمز کلیئرکردیں اور مستقبل میں تمام قابل قبول ریفنڈز کی ادائیگیاں 3 ماہ میں کردیے جائیں۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ وزیراعظم نے 28 دسمبر2015 کو کراچی میں صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخ3 روپے فی یونٹ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا لہٰذا بجلی کے نرخ میں فی الفور3 روپے کمی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ گیس ٹیرف فی ایم ایم بی ٹی یو بنگلہ دیش میں 3، انڈیا میں4.66جبکہ پاکستان میں7.68ڈالر ہے اور بجلی کا ٹیرف فی کلوواٹ، بنگلہ دیش میں 0.10، انڈیامیں 0.10 جبکہ پاکستان میں 0.14ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں پاکستان نے ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 267 فیصد افزائش حاصل کی ہے جبکہ بھارت نے699 فیصد اور بنگلہ دیش نے2705 فیصد افزائش حاصل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔
پی ایچ ایم اے ہاؤس میں پیر کوپاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمدجاوید بلوانی نے ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل، کارپٹ اوراسپورٹس گڈزکے نمائندوںکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے لیے پانچ زیروریٹڈ سیکٹر کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 15 فروری سے شروع کیا جانا تھا جس کے لیے کچھ دن پہلے ہی مقامات اور تاریخوںکاکی فیصلہ کر لیا گیا تھ۔
اتاہم وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے انڈسٹری کے نمائندوں پرمشتمل اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ایک ہفتے میں ریفنڈز کے اجرا کے سلسلے میں اسٹیک ہولڈرزسے ملاقات اور ادائیگیوں کا طریقہ کار طے کرنے کے عندیے کے بعدہم نے آج صرف کراچی میں پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ کیاہے لیکن اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مجوزہ اجلاس میں مطالبات پورے نہ کیے گئے تو نئی تاریخوں کے ساتھ احتجاجی تحریک شروع کردی جائے گی۔
حکومت پرسیلزٹیکس ڈی ایل ٹی ایل اورڈیوٹی ڈرابیک کی مد میں اگرچہ 350 ارب روپے سے زائد مالیت کے واجبات ہیں لیکن فی الوقت حکومت نے220 ارب روپے کے واجبات کو تسلیم کیا ہے، ن لیگ کی موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملکی برآمدات میں14.5 فیصد کی کمی سے 32 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے وفاقی بجٹ سال2015-16 کی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ 31 مئی2015 کے ٹیکس کے عرصے کے تمام ریفنڈ کلیمز 31 اگست2015 تک جاری کردیے جائیں گے لیکن اس پر عمل درآمد نہ کیا گیا اور پیوستہ سال بھی وزیرخزانہ اسی قسم کا وعدہ کرچکے تھے جس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ نے مالی سال 2014-15کے بجٹ تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے ایف بی آر کوہدایت کردی ہے کہ 30 ستمبر2014 کے زیرالتوا ریفنڈکلیمز کلیئرکردیں اور مستقبل میں تمام قابل قبول ریفنڈز کی ادائیگیاں 3 ماہ میں کردیے جائیں۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ وزیراعظم نے 28 دسمبر2015 کو کراچی میں صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخ3 روپے فی یونٹ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا لہٰذا بجلی کے نرخ میں فی الفور3 روپے کمی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ گیس ٹیرف فی ایم ایم بی ٹی یو بنگلہ دیش میں 3، انڈیا میں4.66جبکہ پاکستان میں7.68ڈالر ہے اور بجلی کا ٹیرف فی کلوواٹ، بنگلہ دیش میں 0.10، انڈیامیں 0.10 جبکہ پاکستان میں 0.14ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں پاکستان نے ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 267 فیصد افزائش حاصل کی ہے جبکہ بھارت نے699 فیصد اور بنگلہ دیش نے2705 فیصد افزائش حاصل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔