مغربی روٹ راہداری منصوبہ کا حصہ قرار
اس منصوبہ سے بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصے مستفید ہونگے اور یہ گیم چینجر منصوبہ قرار دیا گیا ہے
سی پیک کے مغربی روٹ پر گوادر سے سراب سیکشن پر کام رواں سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ فوٹو: فائل
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے راہداری منصوبے پر خدشات دور کر دیے، وفاق نے یقین دلایا ہے کہ مغربی روٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے، اس کے لیے فنڈز موجود ہیں اور اسے2018تک مکمل کیا جائے گا۔
یاد رہے وفاقی حکومت نے نہ صرف مجوزہ منصوبہ پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات و خدشات دور کرنے کے لیے 13 جنوری2016 کو کل جماعتی کانفرنس بلائی جس میں تمام جماعتوں کے مقتدر سیاست دانوں نے شرکت کی بلکہ دو دن بعد 11 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی گئی جوپاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی نگرانی کریگی۔
اسی ضمن میں گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کے ساتھ منصوبے کے بارے میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیرکو پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت قائم ہونے والے مغربی روٹ اور اکنامک زونز کے بارے میں انھوں نے خدشات سے آگاہ کیا اور وفاقی حکومت سے واضح لائحہ عمل کے اظہار کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ مغربی روٹ کے بارے میں یہ ایک اچھی نشست تھی۔
وفاقی حکومت نے اجلاس میں اکنامک زون کے قیام کے بارے میں بھی صوبے کے خدشات دور کیے اور صوبائی حکومت بہت جلد تحریری صورت میں ان زونز کے بارے میں اپنی سفارشات مرکزکو بھیجے گی لیکن وزیراعلیٰ کو گلہ ہے کہ چشمہ لیفٹ بینک کینال کے بارے میں وفاقی وزیر نے یقین تو دلایا کہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ فنڈز کی فراہمی کے لیے بات ہو رہی ہے مگر وفاق کی طرف سے عملی اقدامات نہ کیے جانے تک مجھے تسلی نہیں ہوگی کیونکہ وفاق نے توانائی کی مد میں صوبے کو دی جانے والی رقم کا وعدہ پورا نہیں کیا ۔
امید کی جانی چاہیے کہ وفاق اس کا مثبت جواب خیبر پختونخوا حکومت کو ارسال کرے گی تاکہ اقتصادی راہداری منصوبہ کے متعلق اب خدشات کا در بند ہونا چاہیے کیونکہ اس منصوبہ سے بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصے مستفید ہونگے اور یہ گیم چینجر منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ مغربی روٹ منصوبے کا حصہ ہے اور ٹرانسپورٹ، پلاننگ اور جے سی سی کے اجلاسوں کی کارروائی میں اس کا باقاعدہ ذکر ہے، یہ مستحسن انداز نظر ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر اس بات کا یقین دلایا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اس منصوبے کے ثمرات سے محروم نہیں ہوں گے جب کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر گوادر سے سراب سیکشن پر کام رواں سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔
یاد رہے وفاقی حکومت نے نہ صرف مجوزہ منصوبہ پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات و خدشات دور کرنے کے لیے 13 جنوری2016 کو کل جماعتی کانفرنس بلائی جس میں تمام جماعتوں کے مقتدر سیاست دانوں نے شرکت کی بلکہ دو دن بعد 11 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی گئی جوپاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی نگرانی کریگی۔
اسی ضمن میں گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کے ساتھ منصوبے کے بارے میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیرکو پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت قائم ہونے والے مغربی روٹ اور اکنامک زونز کے بارے میں انھوں نے خدشات سے آگاہ کیا اور وفاقی حکومت سے واضح لائحہ عمل کے اظہار کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ مغربی روٹ کے بارے میں یہ ایک اچھی نشست تھی۔
وفاقی حکومت نے اجلاس میں اکنامک زون کے قیام کے بارے میں بھی صوبے کے خدشات دور کیے اور صوبائی حکومت بہت جلد تحریری صورت میں ان زونز کے بارے میں اپنی سفارشات مرکزکو بھیجے گی لیکن وزیراعلیٰ کو گلہ ہے کہ چشمہ لیفٹ بینک کینال کے بارے میں وفاقی وزیر نے یقین تو دلایا کہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ فنڈز کی فراہمی کے لیے بات ہو رہی ہے مگر وفاق کی طرف سے عملی اقدامات نہ کیے جانے تک مجھے تسلی نہیں ہوگی کیونکہ وفاق نے توانائی کی مد میں صوبے کو دی جانے والی رقم کا وعدہ پورا نہیں کیا ۔
امید کی جانی چاہیے کہ وفاق اس کا مثبت جواب خیبر پختونخوا حکومت کو ارسال کرے گی تاکہ اقتصادی راہداری منصوبہ کے متعلق اب خدشات کا در بند ہونا چاہیے کیونکہ اس منصوبہ سے بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصے مستفید ہونگے اور یہ گیم چینجر منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ مغربی روٹ منصوبے کا حصہ ہے اور ٹرانسپورٹ، پلاننگ اور جے سی سی کے اجلاسوں کی کارروائی میں اس کا باقاعدہ ذکر ہے، یہ مستحسن انداز نظر ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر اس بات کا یقین دلایا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اس منصوبے کے ثمرات سے محروم نہیں ہوں گے جب کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر گوادر سے سراب سیکشن پر کام رواں سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔