ریلوے ہی کو مثال بنالیں
اگر پہلے ہی ضرورت سے زیادہ عملے کی بھرتی نہ ہوتی تو پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا نہ جاتا
دو افراد کی جانیں ضایع ہونے، ساڑھے تین ارب روپے کے ملکی نقصان اور مسافروں خصوصاً عمرہ زائرین کو دربدر اور سخت پریشان کرائے جانے کے بعد پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال اپنے انجام کو پہنچی اور اب کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کو حقائق نہیں بتائے گئے اور حکومت اور پی آئی اے کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی گئیں جس کے بعد اب حقائق میاں شہباز شریف کے ذریعے وزیراعظم تک پہنچائے جائیں گے۔ قوم حکومت اور ہڑتالیوں سے یہ ضرور پوچھنا چاہے گی کہ ملک و قوم کا جو مالی و جانی نقصان ہوا اس کا ازالہ کیسے ہو گا اور کون کرے گا تا کہ ایسی ہڑتال آیندہ نہ ہو۔
آٹھ روز تک پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری پر خوب سیاست چمکائی گئی۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور سے انحراف کیوں کیا اور تمام سیاسی جماعتیں قومی مفاد کو نظرانداز کر کے حکومت کی مخالف میں بیان بازیاں کرتی رہیں جب کہ وزیر اعظم اور حکومت ڈٹے رہے اور نجکاری کا معاملہ پھر کچھ عرصے کے لیے لٹک کر رہ گیا۔حکومت اپنے بقول پی آئی اے کا مالی خسارہ بھرتے بھرتے تنگ آ گئی اور اسی لیے پی آئی اے کی نجکاری پر مجبور ہو گئی جب کہ حکومت کو اسٹیل ملز اور دیگر سرکاری اداروں میں ہونے والے نقصانات کا ابھی خیال نہیں آیا جہاں قوم کی محنت کی کمائی جان بوجھ کر لٹوائی جا رہی ہے۔
دنیا کی بہترین قرار دی جانے والی اور دوسرے ممالک کی ایئرلائنز کو تربیت دے کر کامیاب کرانے والی ہماری قومی ایئرلائن اس انجام کو کیوں پہنچی اس سے سب باخبر ہیں مگر اپنی غلطی ماننے کا اعزاز کوئی حاصل کرنے کو تیار نہیں ہو گا ، کیونکہ پی آئی اے کو اس حال میں پہنچانے میں تمام سیاسی جماعتیں ملوث ہیں جنھوں نے اپنے کارکن بھرتی کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
اگر پہلے ہی ضرورت سے زیادہ عملے کی بھرتی نہ ہوتی تو پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا نہ جاتا اور نہ قوم آٹھ روز کے عذاب میں مبتلا نہ کی جاتی۔ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ میں بہت سخت آدمی ہوں آ کر واپس نہیں جاتا وزیر ریلوے نے اپنی ڈھائی سالہ کارکردگی سے ریلوے کو جس طرح اٹھایا اور غلام احمد بلور کی وزارت میں تباہ ہونے نہیں بلکہ جان بوجھ کر تباہ کرائی جانے والی پاکستان ریلوے پر عوام کا اعتماد بحال کرایا ہے وہ ایک ایسی روشن مثال ہے جس کی تقلید دوسرے سرکاری محکموں کو یقینی طور پر کرنی چاہیے۔
صرف حکومت تبدیل ہوئی اور وہی ریلوے بھی تبدیل کرا دی گئی جو مسلسل خسارے ہی میں نہیں تھی بلکہ عوام کا اعتماد بھی گنوا چکی تھی اور لوگوں نے ریلوے پر عدم اعتماد کر کے بسوں سے سفر کو ترجیح دینا شروع کر دی تھی۔پاکستان ریلوے کے عملے کے متعلق اسلام آباد میں اس وقت کے وزیر ریلوے غوث بخش مہر کو دی جانے والی بریفنگ میں راقم بھی موجود تھا اس وقت بھی ریلوے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بتائی گئی تھی جن میں اکیس اور بائیس گریڈ کے اعلیٰ افسران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو سابق بلور وزارت میں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں محکمہ ریلوے سے وصول کر رہے تھے اور ریلوے کی تباہی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اور ریلوے سے وفاداری نبھاتے ہوئے کسی اعلیٰ افسر نے مستعفی ہونا گوارا نہیں کیا تھا اور وہ بھی ریلوے کی تباہی میں برابر کے شریک رہے۔
(ق) لیگ کی حکومت میں غوث بخش مہر کی جگہ جب شمیم حیدر کو ریلوے کا وزیر بنایا گیا تو انھیں ریلوے میں اپنے لوگ بھرتی کرنے کا موقع نہیں ملا اور انھوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ان سے قبل وزیر ریلوے نچلی سطح کی ملازمتوں میں بھی ساڑھے سات ہزار اپنے لوگ بھرتی کر گئے تھے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس کو بھی کسی سرکاری محکمے کا سربراہ بنایا جاتا ہے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ محکمے میں مزید بھرتی کی گنجائش بھی ہے یا نہیں۔
سیاسی ادوار اور خاص طور پر پیپلز پارٹی کی ہر حکومت میں بے تحاشا سیاسی ملازمتیں فراہم کی جاتی ہیں اور محکموں میں خالی جگہیں دیکھی جاتی ہیں نہ محکمے کا بجٹ دیکھا جاتا ہے ہر وزیر اپنے لوگوں کو محکمے میں کھپانا چاہتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ نواز شریف دور میں ملک میں پیسہ ہوتا ہے اور نہ لوگوں کو سرکاری ملازمتیں ملتی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت تینوں بار پی پی حکومت کے بعد آئی اور اسے ورثے میں ہر محکمے میں اضافی عملہ اور خسارہ ملا جس پر (ن) لیگی حکومت میں سرکاری ملازموں کو فارغ بھی کیا مگر بعد میں پی پی کی ہر حکومت نے اپنے نکالے ہوئے لوگوں کو نہ صرف بحال کیا بلکہ بحالی کے بعد انھیں کئی سالوں کے واجبات بھی دلائے اور محکموں کے خسارے کی کبھی پرواہ نہیں کی جس کی سزا وفاق اور سندھ کے تمام محکمے بھگت رہے ہیں۔ جس کی واضح مثال پی آئی اے، ریلوے اور اسٹیل ملز میں وفاقی حکومت بھگت رہی ہے مگر سندھ میں پی پی حکومت کو کسی بھی قسم کی فکر نہیں اور ہر محکمے میں اضافی عملہ بھرا پڑا ہے۔
محکمہ ریلوے میں گزشتہ بلور دور میں لاتعداد ٹرینیں بند ہوئی تھیں ریلوے انجن خراب رہتے تھے جو تیل نہ ملنے سے راستے ہی میں جواب دے جاتے تھے مگر اب وہ صورتحال نہیں ہے۔ بند ٹرینیں دوبارہ چلائی گئی ہیں۔ اب انجن راستے میں خراب نہیں ہوتے اور ٹرینیں معمولی تاخیر یا وقت سے قبل ہی مسافروں کو ان کی منزلوں پر پہنچا رہی ہیں اور کافی تبدیلی آئی ہے اور ریلوے مسافروں کا اعتماد دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جس کا ثبوت ٹرینوں میں رش ہے اور پنجاب جانے والی ٹرینوں میں ہفتوں قبل ریزرویشن کرانا پڑتی ہے اور اس کامیابی کا کریڈٹ وزیر ریلوے ہی کو جاتا ہے۔
راقم کو حال ہی میں لاہور سے کراچی آنے والی کراچی ایکسپریس میں سفر کا موقعہ ملا جو پرانی بوگیاں لگا کر کراچی بھیجی گئی کیونکہ بوگیاں کم پڑ رہی ہیں اور مسافروں کی سہولت کے لیے اضافی بوگیاں لگائی جا رہی ہیں نئی بوگیاں نہ ہونے سے پرانی بوگیوں میں اے سی اپر کے کوچوں کی برتھیں میلی کچیلی ہو چکی ہیں جس پر ساتھ سفر کرنے والے محکمہ ریلوے کے چیف کمرشل منیجر گڈز شعیب عادل کی توجہ دلائی گئی تو انھوں نے بتایا کہ بہت سی بوگیاں ڈیمیج ہیں اور ٹرین وقت پر چلانے کے لیے متبادل انتظام کر کے مسافروں کو سہولتیں دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور صورتحال خود دیکھنے کے لیے میں بھی پرانی اے سی کوچ میں سفر کر رہا ہوں اور جلد ہی خراب نشستیں درست کرا کر ان کی برتھوں کے پوشش تبدیل کرا دی جائے گی۔
ریلوے میں بہتری کے سوال پر شعیب عادل نے بتایا کہ ریلوے نے اپنی اچھی کارکردگی سے اپنے 28 ملین کے ٹارگٹ کو 32 ملین تک پہنچا دیا ہے۔ ریلوے کے 32 اسٹیشنوں پر جدید سہولتوں کا انتظام کیا جا رہا ہے مگر اس مد میں ریلوے کی آمدنی اور اخراجات میں توازن کی کوشش کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ جلد ہی ریلوے کی ویب سائٹ پر لوگوں کی شکایات بھی حاصل کی جائیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ پی آئی اے کے معاملے میں ریلوے ہی کی تقلید کر کے صورتحال کو بہتر بنائے۔
آٹھ روز تک پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری پر خوب سیاست چمکائی گئی۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشور سے انحراف کیوں کیا اور تمام سیاسی جماعتیں قومی مفاد کو نظرانداز کر کے حکومت کی مخالف میں بیان بازیاں کرتی رہیں جب کہ وزیر اعظم اور حکومت ڈٹے رہے اور نجکاری کا معاملہ پھر کچھ عرصے کے لیے لٹک کر رہ گیا۔حکومت اپنے بقول پی آئی اے کا مالی خسارہ بھرتے بھرتے تنگ آ گئی اور اسی لیے پی آئی اے کی نجکاری پر مجبور ہو گئی جب کہ حکومت کو اسٹیل ملز اور دیگر سرکاری اداروں میں ہونے والے نقصانات کا ابھی خیال نہیں آیا جہاں قوم کی محنت کی کمائی جان بوجھ کر لٹوائی جا رہی ہے۔
دنیا کی بہترین قرار دی جانے والی اور دوسرے ممالک کی ایئرلائنز کو تربیت دے کر کامیاب کرانے والی ہماری قومی ایئرلائن اس انجام کو کیوں پہنچی اس سے سب باخبر ہیں مگر اپنی غلطی ماننے کا اعزاز کوئی حاصل کرنے کو تیار نہیں ہو گا ، کیونکہ پی آئی اے کو اس حال میں پہنچانے میں تمام سیاسی جماعتیں ملوث ہیں جنھوں نے اپنے کارکن بھرتی کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
اگر پہلے ہی ضرورت سے زیادہ عملے کی بھرتی نہ ہوتی تو پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا نہ جاتا اور نہ قوم آٹھ روز کے عذاب میں مبتلا نہ کی جاتی۔ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ میں بہت سخت آدمی ہوں آ کر واپس نہیں جاتا وزیر ریلوے نے اپنی ڈھائی سالہ کارکردگی سے ریلوے کو جس طرح اٹھایا اور غلام احمد بلور کی وزارت میں تباہ ہونے نہیں بلکہ جان بوجھ کر تباہ کرائی جانے والی پاکستان ریلوے پر عوام کا اعتماد بحال کرایا ہے وہ ایک ایسی روشن مثال ہے جس کی تقلید دوسرے سرکاری محکموں کو یقینی طور پر کرنی چاہیے۔
صرف حکومت تبدیل ہوئی اور وہی ریلوے بھی تبدیل کرا دی گئی جو مسلسل خسارے ہی میں نہیں تھی بلکہ عوام کا اعتماد بھی گنوا چکی تھی اور لوگوں نے ریلوے پر عدم اعتماد کر کے بسوں سے سفر کو ترجیح دینا شروع کر دی تھی۔پاکستان ریلوے کے عملے کے متعلق اسلام آباد میں اس وقت کے وزیر ریلوے غوث بخش مہر کو دی جانے والی بریفنگ میں راقم بھی موجود تھا اس وقت بھی ریلوے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بتائی گئی تھی جن میں اکیس اور بائیس گریڈ کے اعلیٰ افسران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو سابق بلور وزارت میں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں محکمہ ریلوے سے وصول کر رہے تھے اور ریلوے کی تباہی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اور ریلوے سے وفاداری نبھاتے ہوئے کسی اعلیٰ افسر نے مستعفی ہونا گوارا نہیں کیا تھا اور وہ بھی ریلوے کی تباہی میں برابر کے شریک رہے۔
(ق) لیگ کی حکومت میں غوث بخش مہر کی جگہ جب شمیم حیدر کو ریلوے کا وزیر بنایا گیا تو انھیں ریلوے میں اپنے لوگ بھرتی کرنے کا موقع نہیں ملا اور انھوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ان سے قبل وزیر ریلوے نچلی سطح کی ملازمتوں میں بھی ساڑھے سات ہزار اپنے لوگ بھرتی کر گئے تھے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس کو بھی کسی سرکاری محکمے کا سربراہ بنایا جاتا ہے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ محکمے میں مزید بھرتی کی گنجائش بھی ہے یا نہیں۔
سیاسی ادوار اور خاص طور پر پیپلز پارٹی کی ہر حکومت میں بے تحاشا سیاسی ملازمتیں فراہم کی جاتی ہیں اور محکموں میں خالی جگہیں دیکھی جاتی ہیں نہ محکمے کا بجٹ دیکھا جاتا ہے ہر وزیر اپنے لوگوں کو محکمے میں کھپانا چاہتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ نواز شریف دور میں ملک میں پیسہ ہوتا ہے اور نہ لوگوں کو سرکاری ملازمتیں ملتی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت تینوں بار پی پی حکومت کے بعد آئی اور اسے ورثے میں ہر محکمے میں اضافی عملہ اور خسارہ ملا جس پر (ن) لیگی حکومت میں سرکاری ملازموں کو فارغ بھی کیا مگر بعد میں پی پی کی ہر حکومت نے اپنے نکالے ہوئے لوگوں کو نہ صرف بحال کیا بلکہ بحالی کے بعد انھیں کئی سالوں کے واجبات بھی دلائے اور محکموں کے خسارے کی کبھی پرواہ نہیں کی جس کی سزا وفاق اور سندھ کے تمام محکمے بھگت رہے ہیں۔ جس کی واضح مثال پی آئی اے، ریلوے اور اسٹیل ملز میں وفاقی حکومت بھگت رہی ہے مگر سندھ میں پی پی حکومت کو کسی بھی قسم کی فکر نہیں اور ہر محکمے میں اضافی عملہ بھرا پڑا ہے۔
محکمہ ریلوے میں گزشتہ بلور دور میں لاتعداد ٹرینیں بند ہوئی تھیں ریلوے انجن خراب رہتے تھے جو تیل نہ ملنے سے راستے ہی میں جواب دے جاتے تھے مگر اب وہ صورتحال نہیں ہے۔ بند ٹرینیں دوبارہ چلائی گئی ہیں۔ اب انجن راستے میں خراب نہیں ہوتے اور ٹرینیں معمولی تاخیر یا وقت سے قبل ہی مسافروں کو ان کی منزلوں پر پہنچا رہی ہیں اور کافی تبدیلی آئی ہے اور ریلوے مسافروں کا اعتماد دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جس کا ثبوت ٹرینوں میں رش ہے اور پنجاب جانے والی ٹرینوں میں ہفتوں قبل ریزرویشن کرانا پڑتی ہے اور اس کامیابی کا کریڈٹ وزیر ریلوے ہی کو جاتا ہے۔
راقم کو حال ہی میں لاہور سے کراچی آنے والی کراچی ایکسپریس میں سفر کا موقعہ ملا جو پرانی بوگیاں لگا کر کراچی بھیجی گئی کیونکہ بوگیاں کم پڑ رہی ہیں اور مسافروں کی سہولت کے لیے اضافی بوگیاں لگائی جا رہی ہیں نئی بوگیاں نہ ہونے سے پرانی بوگیوں میں اے سی اپر کے کوچوں کی برتھیں میلی کچیلی ہو چکی ہیں جس پر ساتھ سفر کرنے والے محکمہ ریلوے کے چیف کمرشل منیجر گڈز شعیب عادل کی توجہ دلائی گئی تو انھوں نے بتایا کہ بہت سی بوگیاں ڈیمیج ہیں اور ٹرین وقت پر چلانے کے لیے متبادل انتظام کر کے مسافروں کو سہولتیں دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور صورتحال خود دیکھنے کے لیے میں بھی پرانی اے سی کوچ میں سفر کر رہا ہوں اور جلد ہی خراب نشستیں درست کرا کر ان کی برتھوں کے پوشش تبدیل کرا دی جائے گی۔
ریلوے میں بہتری کے سوال پر شعیب عادل نے بتایا کہ ریلوے نے اپنی اچھی کارکردگی سے اپنے 28 ملین کے ٹارگٹ کو 32 ملین تک پہنچا دیا ہے۔ ریلوے کے 32 اسٹیشنوں پر جدید سہولتوں کا انتظام کیا جا رہا ہے مگر اس مد میں ریلوے کی آمدنی اور اخراجات میں توازن کی کوشش کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ جلد ہی ریلوے کی ویب سائٹ پر لوگوں کی شکایات بھی حاصل کی جائیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ پی آئی اے کے معاملے میں ریلوے ہی کی تقلید کر کے صورتحال کو بہتر بنائے۔