کشکول توڑنے کی حقیقی ضرورت
بلومبرگ کی50ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضہ کے ایک سال میں میچور ہونے سے متعلق ہیڈلائن انتہائی گمراہ کن اور تشویشناک ہے
امید کی جانی چاہیے کہ ملکی معیشت پر دو طرفہ پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہوگی بلکہ شفاف معاشی اقدامات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز ہوگی۔ فوٹو؛فائل
KARACHI:
قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے ملکی معیشت ، قرضوں کی مجموعی صورتحال انتظامی عدم شفافیت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم نہ کرنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت پر زور دیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری موخر اور پٹرولیم پر اضافی ٹیکس فوری واپس لیے جائیں۔
ایوان میں حکومت کے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں4600 ارب روپے قرض لینے ، برآمدات میں 25 فی صد کمی کے سیاق و سباق میں معاشی انقلاب برپا کرنے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی دھواں دھار بحث ہوئی جو اس اعتبار سے چشم کشا تھی کہ قوم کو جو ابھی تک حکمرانوں کے خوشنما وعدوں پر جی رہی ہے اور اس یقین و گمان میں الجھی ہوئی ہے کہ اقتصادی و مالیاتی خود انحصاری کی منزل ابھی مزید کتنی دور ہے یا کشکول توڑنے کے دعوؤں میں چھپی حقیقت اور پاکستان کے دیوالیہ بننے سے بچنے کی نوید میں سچ کتنا ہے۔
چنانچہ عام آدمی کو معاشی حقائق اور اعداد و شمار کے اس جنگل کا کچھ پتا نہیں کہ وطن عزیز معاشی حوالہ سے استحکام و استقامت کے کس دوراہے پر کھڑا ہے۔ ادھر ایوان کی کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پی آئی اے نجکاری اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے سمیت حکومت کی دیگر پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال کے عرصہ میں4ہزار600ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لیا گیا ہے، حکومت ڈیزل اور پٹرول پر سیلز ٹیکس کی مد میں300ارب روپے وصول کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ایل این جی کی قیمت سمیت ہر اہم معاملے پر ایوان کو اندھیرے میں رکھا ۔ ملک میں ماہانہ تیل کی کھپت15کروڑ84لاکھ بیرل ہے فرنس آئل پر 20فیصد، پٹرول پر25.5فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جب کہ پٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر اوسط سیلز ٹیکس37فیصد بنتا ہے۔ ہمارے معاشی ماہرین اور وزیر خزانہ کو اپوزیشن رہنما کے اس استفسار کا اطمینان بخش جواب دینا چاہیے کہ جب عالمی سطح پر اتنا فرق ہے تو پاکستانی عوام کو کیوں ریلیف نہیں دیا گیا۔ حقیقت یہ بیان کی گئی کہ 71 ملکوں میں پٹرولیم نرخ کم ترین ہیں اور بھارت ، سری لنکا اور نیپال میں پاکستان سے کم ہیں۔ یوں پٹرولیم نرخوں میں 5 روپے کی کمی کو شرمناک مذاق قرار دیا گیا ہے۔
اسی نوعیت کی سنگین بے ضابطگیوں، غیر شفاف تقرریوں ، مبینہ ڈیلز اور دیگر اقتصادی امور کے بارے میں اپوزیشن ارکان نے جو ہولناک جائزہ پیش کیا ہے اس پر حکومتی سنجیدہ رد عمل سامنے آنا لازمی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، شیخ رشید ،ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ سمیت دیگر اراکین نے معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کیا، معاشی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی ، اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں میں بد اعتمادی پیدا کررہی ہے، پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
ضرورت اپوزیشن رہنماؤں کے الزامات کو تنقید برائے تنقید کہہ کر ردی کی ٹوکری میں نہ ڈالا جائے بلکہ ان الزامات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے قوم کے سامنے اقتصادی پیش رفت اور ملک کی معاشی طاقت کی حقیقی بلی کو تھیلی سے باہر نکالا جائے اور جو حکمراں پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں کرتے ہیں انھیں قومی اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن کی پیش کردہ معروضات پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے اور اقتصادی فیصلہ سازی میں شفافیت ، اہلیت اوراحتساب کے اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانا چاہیے ، انھیں میڈیا میں بین الاقوامی مالیاتی تجزیہ کار کمپنی بلومبرگ کی خبر پر بھی اپنا ذمے دارانہ رد عمل دینا چاہیے جس میں کہا گیا ہے کہ 2016ء کے وسط تک پاکستان کا قرضہ50 ارب ڈالر تک پہنچنے کے باعث دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے۔
بلومبرگ کے مطابق گزشتہ 5 برس کے دوران پاکستان کے قرض کی عدم ادائیگی کا گراف 56 بیسز پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے جو یونان، وینیزویلا اور پرتگال کے بعد کسی ملک کا سب سے بڑا اضافہ ہے ، دوسری طرف وزارت خزانہ نے بلومبرگ نیوز ایجنسی کی پاکستان کے قرضوں کی صورتحال سے متعلق خبر کو گمراہ کن قرار دیا ہے، وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے جون2015 کے اختتام پر50.9ارب ڈالر تھے جن کی واپسی کی مدت اگلے 40سال پر محیط ہے۔
بلومبرگ کی50ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضہ کے ایک سال میں میچور ہونے سے متعلق ہیڈلائن انتہائی گمراہ کن اور تشویشناک ہے۔ یہ رہی ایک غیر ملکی اقتصادی تجزیہ کار ادارہ کی اطلاع مگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے میں حکومت کو ناکامی کا سامنا ہے جب کہ رواں مالی سال جولائی سے جنوری کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 53.6 فی صد کمی ہوئی ہے۔
یہ ہوائی کسی دشمن نے نہیں اڑائی ہے ۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ ملکی معیشت پر دو طرفہ پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہوگی بلکہ شفاف معاشی اقدامات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز ہوگی۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے ملکی معیشت ، قرضوں کی مجموعی صورتحال انتظامی عدم شفافیت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم نہ کرنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت پر زور دیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری موخر اور پٹرولیم پر اضافی ٹیکس فوری واپس لیے جائیں۔
ایوان میں حکومت کے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں4600 ارب روپے قرض لینے ، برآمدات میں 25 فی صد کمی کے سیاق و سباق میں معاشی انقلاب برپا کرنے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی دھواں دھار بحث ہوئی جو اس اعتبار سے چشم کشا تھی کہ قوم کو جو ابھی تک حکمرانوں کے خوشنما وعدوں پر جی رہی ہے اور اس یقین و گمان میں الجھی ہوئی ہے کہ اقتصادی و مالیاتی خود انحصاری کی منزل ابھی مزید کتنی دور ہے یا کشکول توڑنے کے دعوؤں میں چھپی حقیقت اور پاکستان کے دیوالیہ بننے سے بچنے کی نوید میں سچ کتنا ہے۔
چنانچہ عام آدمی کو معاشی حقائق اور اعداد و شمار کے اس جنگل کا کچھ پتا نہیں کہ وطن عزیز معاشی حوالہ سے استحکام و استقامت کے کس دوراہے پر کھڑا ہے۔ ادھر ایوان کی کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پی آئی اے نجکاری اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے سمیت حکومت کی دیگر پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال کے عرصہ میں4ہزار600ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لیا گیا ہے، حکومت ڈیزل اور پٹرول پر سیلز ٹیکس کی مد میں300ارب روپے وصول کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ایل این جی کی قیمت سمیت ہر اہم معاملے پر ایوان کو اندھیرے میں رکھا ۔ ملک میں ماہانہ تیل کی کھپت15کروڑ84لاکھ بیرل ہے فرنس آئل پر 20فیصد، پٹرول پر25.5فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جب کہ پٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر اوسط سیلز ٹیکس37فیصد بنتا ہے۔ ہمارے معاشی ماہرین اور وزیر خزانہ کو اپوزیشن رہنما کے اس استفسار کا اطمینان بخش جواب دینا چاہیے کہ جب عالمی سطح پر اتنا فرق ہے تو پاکستانی عوام کو کیوں ریلیف نہیں دیا گیا۔ حقیقت یہ بیان کی گئی کہ 71 ملکوں میں پٹرولیم نرخ کم ترین ہیں اور بھارت ، سری لنکا اور نیپال میں پاکستان سے کم ہیں۔ یوں پٹرولیم نرخوں میں 5 روپے کی کمی کو شرمناک مذاق قرار دیا گیا ہے۔
اسی نوعیت کی سنگین بے ضابطگیوں، غیر شفاف تقرریوں ، مبینہ ڈیلز اور دیگر اقتصادی امور کے بارے میں اپوزیشن ارکان نے جو ہولناک جائزہ پیش کیا ہے اس پر حکومتی سنجیدہ رد عمل سامنے آنا لازمی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، شیخ رشید ،ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ سمیت دیگر اراکین نے معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کیا، معاشی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی ، اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں میں بد اعتمادی پیدا کررہی ہے، پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
ضرورت اپوزیشن رہنماؤں کے الزامات کو تنقید برائے تنقید کہہ کر ردی کی ٹوکری میں نہ ڈالا جائے بلکہ ان الزامات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے قوم کے سامنے اقتصادی پیش رفت اور ملک کی معاشی طاقت کی حقیقی بلی کو تھیلی سے باہر نکالا جائے اور جو حکمراں پارلیمنٹ کی بالادستی کی باتیں کرتے ہیں انھیں قومی اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن کی پیش کردہ معروضات پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے اور اقتصادی فیصلہ سازی میں شفافیت ، اہلیت اوراحتساب کے اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانا چاہیے ، انھیں میڈیا میں بین الاقوامی مالیاتی تجزیہ کار کمپنی بلومبرگ کی خبر پر بھی اپنا ذمے دارانہ رد عمل دینا چاہیے جس میں کہا گیا ہے کہ 2016ء کے وسط تک پاکستان کا قرضہ50 ارب ڈالر تک پہنچنے کے باعث دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے۔
بلومبرگ کے مطابق گزشتہ 5 برس کے دوران پاکستان کے قرض کی عدم ادائیگی کا گراف 56 بیسز پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے جو یونان، وینیزویلا اور پرتگال کے بعد کسی ملک کا سب سے بڑا اضافہ ہے ، دوسری طرف وزارت خزانہ نے بلومبرگ نیوز ایجنسی کی پاکستان کے قرضوں کی صورتحال سے متعلق خبر کو گمراہ کن قرار دیا ہے، وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے جون2015 کے اختتام پر50.9ارب ڈالر تھے جن کی واپسی کی مدت اگلے 40سال پر محیط ہے۔
بلومبرگ کی50ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضہ کے ایک سال میں میچور ہونے سے متعلق ہیڈلائن انتہائی گمراہ کن اور تشویشناک ہے۔ یہ رہی ایک غیر ملکی اقتصادی تجزیہ کار ادارہ کی اطلاع مگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے میں حکومت کو ناکامی کا سامنا ہے جب کہ رواں مالی سال جولائی سے جنوری کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں 53.6 فی صد کمی ہوئی ہے۔
یہ ہوائی کسی دشمن نے نہیں اڑائی ہے ۔ اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ ملکی معیشت پر دو طرفہ پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہوگی بلکہ شفاف معاشی اقدامات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز ہوگی۔