پرامن بلوچستان کا خواب

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کی داستان حیات پسماندگی اور غربت سے عبارت ہے

روٹھے ہوئے لوگوں کو منا کر قومی دھار میں شامل کرنے سے ہی بلوچستان میں دیرپا اور پائیدار امن قائم ہوگا فوٹو: فائل

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کی داستان حیات پسماندگی اور غربت سے عبارت ہے، تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں صرف سچ کا عکس نظرآتا ہے،کیونکہ جیسا چہرہ ہوگا، ویسا ہی نظر آئے گا، آئینے میں نظر آنے والے چہرے میں جھوٹ کا شائبہ تک نہ ہوگا، جہاں غیروں کی سازش تھی، وہیں اپنوں کے دیے ہوئے زخم بھی تھے، جن کا گھاؤ تلوار سے بھی زیادہ گہرا محسوس ہوتا ہے،کسی نے زخموں پر مرہم نہ رکھا تو یہ رستے رستے ناسور بن گئے۔

جب اپنے ہی دکھ دیں توقربتوں میں بھی جدائی والا معاملہ ہوتا ہے، ایک ہی شہرکے باسی آپس میں اجنبی بن جاتے ہیں، بھائی بھائی کی گردن مارنے پر تل جاتا ہے ، ایسے میں غیروں کو صرف جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرنا ہوتا ہے اور پھر دورکھڑے ہوکر تماشہ دیکھنا ہوتا ہے ۔

یہ سب کچھ بلوچستان میں ہوا، موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے سیاسی وانتظامی سطح پر جو انتظامات کیے،اس کے باعث بلوچستان کی حالت میں بتدریج تبدیلی آتی گئی، دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی جب کہ ناراض گروہ بھی مذاکرات پر آمادہ دکھائی دینے لگے، زخموں پر پھاہا رکھا جائے تو سکھ واطمینان محسوس ہوتا ہے اور انسانی جسم کی توانائی بحال ہونے لگتی ہے۔


زخموں پرکھرنڈ نمودار ہوتے ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ صحتیابی کا عمل شروع ہوچکا ہے، اسی پس منظر میں منگل کو بلوچستان کی صوبائی اپیکس کمیٹی نے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصرکے لیے کوئی معافی نہیں ہے، ایسے عناصرکیخلاف آپریشن مزید تیزکیا جائے گا جب کہ وزیراعلیٰ نے اس موقعے پرکہاکہ بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر آزادی حاصل نہیں کی جاسکتی، ایسے عناصرکوایک فیصد بلوچوں کی حمایت بھی حاصل نہیں۔ بات تو سچ ہے۔

اجلاس کے بعد جو پیغام دیا گیا ہے، وہ ان قوتوں تک پہنچ گیا ہوگا جو بلوچستان میں انارکی پھیلانے کے مذموم مقاصد رکھتے ہیں کیونکہ جب تک بلوچستان میں مکمل طور پر امن قائم نہیں ہوگا،اس وقت تک پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا،خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوا تو بلوچستان کے لیے یہ معاشی لائف لائن کٹ بھی سکتی ہے، ناراض گروہ کو منانا سیاسی قیادت کے تدبر اور فہم کا کڑا امتحان ہے ۔

روٹھے ہوئے لوگوں کو منا کر قومی دھار میں شامل کرنے سے ہی بلوچستان میں دیرپا اور پائیدار امن قائم ہوگا، بقول وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثناء اللہ زہری ''ہم نے اپنی آیندہ نسلوںکوایک پرامن اور خوشحال بلوچستان دینا ہے'' کتنی خوبصورت بات کی ہے سردار صاحب نے۔ دراصل بلوچستان معاشی گیٹ وے ہے پاکستان کی ترقی وخوشحالی کا ۔
Load Next Story