پانی بحران پر سیاست سے گریز کیا جائے

شہر کے کچھ علاقے تو پانی میں نہائے ہوئے ہیں جب کہ بیشتر علاقوں میں جہاں عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں

پانی بحران پر سیاست سے گریز کرتے ہوئے کراچی کے شہریوں کو پانی کی بلاتعطل ترسیل اور منصفانہ تقسیم کی جائے۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتوں کا وہی وتیرہ ہے کہ اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کی خاطر معاشرتی مسائل سے پہلوتہی اور چشم پوشی برتتے ہوئے سیاست برائے سیاست کے اصول پر کاربند ہیں، جنھیں عوامی مسائل کا نہ تو ادراک ہے، نہ ہی ان چشم کشا حقائق پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ پانی لازم جزو حیات ہے، اس کی کمیابی بڑے سنگین بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

گزشتہ روز بھی سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی کی جب کراچی میں پانی کے مسئلے پر تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان کی قرارداد کثرت رائے سے مسترد کردی گئی جب کہ سینئر وزیر خزانہ و توانائی سید مراد علی شاہ کی ترمیم شدہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔


اپوزیشن ارکان نے 'نو نو، دھاندلی نامنظور، پانی دو پانی، کراچی کو پانی دو' کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ حکومت کی عدم دلچسپی، بدانتظامی اور پانی چوری نے کراچی میں پانی کے بحران میں شدت پیدا کردی ہے، پانی کے بحران پر کراچی میں لڑائی اور خونریزی ہوسکتی ہے۔ اس خدشے سے چشم پوشی نہیں برتی جاسکتی، جہاں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور ضیاع سے گلی محلوں کی سطح پر معمولی جھگڑے جنم لیتے ہیں وہاں اس معاملے پر سیاست چمکانے کا معاملہ معاشی سطح پر کس قدر سنگین سیاسی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

پانی کی کمی اپنی جگہ لیکن غیر منصفانہ تقسیم اور ہائیڈرنٹس تک پانی کی پہنچ کا معاملہ بھی قابل توجہ ہے۔ شہر کے کچھ علاقے تو پانی میں نہائے ہوئے ہیں جب کہ بیشتر علاقوں میں جہاں عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ان ہی علاقوں میں قائم ہائیڈرنٹس تک پانی نہ صرف پہنچ رہا ہے بلکہ مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔

گزشتہ سال غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن بھی کیا گیا لیکن جس طرح غیر قانونی شادی ہال کریک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کھلے ہوئے نظر آرہے ہیں ویسے ہی یہ ہائیڈرنٹس بھی پوری شدومد کے ساتھ چل رہے ہیں اور عوام کی جیب پر ڈاکا ڈالنے میں مصروف عمل ہے۔ صائب ہوگا کہ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کی جانب سنجیدہ ہوتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ پانی بحران پر سیاست سے گریز کرتے ہوئے کراچی کے شہریوں کو پانی کی بلاتعطل ترسیل اور منصفانہ تقسیم کی جائے تاکہ عوامی بے چینی کا ازالہ ہوسکے۔
Load Next Story