حصص مارکیٹ فروخت کا دباؤ برقرار مزید 203 پوائنٹس گرگئے
کاروباری حجم منگل کی نسبت 25.60 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر12 کروڑ40 لاکھ48 ہزار 780 حصص کے سودے ہوئے
کاروباری حجم منگل کی نسبت 25.60 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر12 کروڑ40 لاکھ48 ہزار 780 حصص کے سودے ہوئے:فوٹو: فائل
متعدد اسٹاک بروکرز کے خلاف تحقیقات اورنوٹسز کے اجرا، سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال اور مختلف منفی افواہوں کی گردش کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی معمولی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے۔
جس سے انڈیکس کی31600 اور31500 کی 2 حدیں بیک وقت گرگئیں، مندی کے باعث66.45 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 52 ارب30 کروڑ49 لاکھ26 ہزار414 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ لسٹڈ کمپنیوں کے اعلان کردہ مالیاتی نتائج بھی سرمایہ کاروں کی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے مستقل بنیادوں پر حصص کی آف لوڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ تنزلی کا شکار ہوگئی ہے۔
کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر32.70 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن سرمائے کے انخلا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے مذکورہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ مندی کی زد میں آگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس203.46 پوائنٹس کی کمی سے31469.70 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس146.07 پوائنٹس گھٹ کر18368.45، کے ایم آئی30 انڈیکس301.46 پوائنٹس کمی سے53618.20 اور آل شیئراسلامک انڈیکس78.29 پوائنٹس گر کر 14827.52 ہوگیا۔
کاروباری حجم منگل کی نسبت 25.60 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر12 کروڑ40 لاکھ48 ہزار 780 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 313 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں90 کے بھاؤ میں اضافہ، 208 کے داموں میں کمی اور15 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جس سے انڈیکس کی31600 اور31500 کی 2 حدیں بیک وقت گرگئیں، مندی کے باعث66.45 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 52 ارب30 کروڑ49 لاکھ26 ہزار414 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ لسٹڈ کمپنیوں کے اعلان کردہ مالیاتی نتائج بھی سرمایہ کاروں کی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ غیرملکیوں کی جانب سے مستقل بنیادوں پر حصص کی آف لوڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ تنزلی کا شکار ہوگئی ہے۔
کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر32.70 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن سرمائے کے انخلا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے مذکورہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ مندی کی زد میں آگئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس203.46 پوائنٹس کی کمی سے31469.70 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس146.07 پوائنٹس گھٹ کر18368.45، کے ایم آئی30 انڈیکس301.46 پوائنٹس کمی سے53618.20 اور آل شیئراسلامک انڈیکس78.29 پوائنٹس گر کر 14827.52 ہوگیا۔
کاروباری حجم منگل کی نسبت 25.60 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر12 کروڑ40 لاکھ48 ہزار 780 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 313 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں90 کے بھاؤ میں اضافہ، 208 کے داموں میں کمی اور15 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔