میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب میں قانون کی پاسداری
الیکشن کمیشن کو شفاف انداز میں قانون کے مطابق کام کرنے دیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال
الیکشن کمیشن کو شفاف انداز میں قانون کے مطابق کام کرنے دیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال، فوٹو؛فائل
سپریم کورٹ نے سندھ لوکل باڈیز ایکٹ میں ترامیم کو کالعدم کرنے کے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمینوں کا انتخاب روک دیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں فل بینچ نے اگلے حکم تک مقامی حکومتوں کے الیکشن کے عمل کو جوں کا توں رکھنے کی ہدایت کی ہے اور سندھ ہائیکورٹ کو سات دن کے اندر ترمیم کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرنے کا کہا ہے۔
ہزارہا رکاوٹوں، مخالفتوں اور مقامی حکومتوں کی پہلوتہی کے باوجود بالآخر ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے بلدیاتی انتخابات بخیر و خوبی انجام پا چکے ہیں، لیکن آخری مراحل تک مشکلات و اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ عوام پرامید ہیں کہ جلد تمام تر کارروائیاں مکمل ہونے اور میئر و ڈپٹی میئرز اور چیئرمینوں کے انتخابات کے بعد بلدیاتی نظام فعال ہو جائے گا اور ان کے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کی جائے گی، لیکن ہنوز دلی دور است والی صورتحال ہے، اختتامی مرحلہ باقی ہے جس میں میئر اور ڈپٹی میئرز کا طریقہ چناؤ بھی وجہ اختلاف بنا ہوا ہے۔
واضح رہے سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے قانون میں ترمیم کر کے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کو خفیہ رائے دہی کے ذریعے کرانے کا طریقہ کار ختم کر دیا تھا، ترمیم کے تحت میئر اور چیئرمین کا انتخاب ہاتھ اٹھا کر ہونا تھا، لیکن اس ترمیم کو چار سیاسی جماعتوں نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اور ہائیکورٹ نے ایک مختصر فیصلے کے ذریعے ترمیم کو کالعدم کر دیا۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، بدھ کو مقدمے کی سماعت ہوئی تو سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ابھی تک ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، اس لیے فیصلہ معطل کر کے تفصیلی فیصلہ آنے کا انتظار کیا جائے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اگلا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، اگر ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل ہوا تو شو آف ہینڈ کے ذریعے میئر اور ڈپٹی میئرز کا انتخاب ہو جائے گا۔ بینچ کے رکن جسٹس عمر عطا بندیال نے صائب ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو شفاف انداز میں قانون کے مطابق کام کرنے دیں۔ سماعت کے دوران وکیل کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو رہا اور معاملہ صرف خفیہ رائے شماری کا ہی ہے۔ راست ہو گا کہ سیاسی جماعتیں اس آخری مرحلے پر اتفاق رائے قائم کریں، جس طرح بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں پیش رفت کی گئی ویسے ہی قانون کی پاسداری کی جائے۔
ہزارہا رکاوٹوں، مخالفتوں اور مقامی حکومتوں کی پہلوتہی کے باوجود بالآخر ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے بلدیاتی انتخابات بخیر و خوبی انجام پا چکے ہیں، لیکن آخری مراحل تک مشکلات و اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ عوام پرامید ہیں کہ جلد تمام تر کارروائیاں مکمل ہونے اور میئر و ڈپٹی میئرز اور چیئرمینوں کے انتخابات کے بعد بلدیاتی نظام فعال ہو جائے گا اور ان کے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کی جائے گی، لیکن ہنوز دلی دور است والی صورتحال ہے، اختتامی مرحلہ باقی ہے جس میں میئر اور ڈپٹی میئرز کا طریقہ چناؤ بھی وجہ اختلاف بنا ہوا ہے۔
واضح رہے سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے قانون میں ترمیم کر کے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کو خفیہ رائے دہی کے ذریعے کرانے کا طریقہ کار ختم کر دیا تھا، ترمیم کے تحت میئر اور چیئرمین کا انتخاب ہاتھ اٹھا کر ہونا تھا، لیکن اس ترمیم کو چار سیاسی جماعتوں نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اور ہائیکورٹ نے ایک مختصر فیصلے کے ذریعے ترمیم کو کالعدم کر دیا۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، بدھ کو مقدمے کی سماعت ہوئی تو سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ابھی تک ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، اس لیے فیصلہ معطل کر کے تفصیلی فیصلہ آنے کا انتظار کیا جائے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اگلا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، اگر ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل ہوا تو شو آف ہینڈ کے ذریعے میئر اور ڈپٹی میئرز کا انتخاب ہو جائے گا۔ بینچ کے رکن جسٹس عمر عطا بندیال نے صائب ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو شفاف انداز میں قانون کے مطابق کام کرنے دیں۔ سماعت کے دوران وکیل کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو رہا اور معاملہ صرف خفیہ رائے شماری کا ہی ہے۔ راست ہو گا کہ سیاسی جماعتیں اس آخری مرحلے پر اتفاق رائے قائم کریں، جس طرح بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں پیش رفت کی گئی ویسے ہی قانون کی پاسداری کی جائے۔