احتساب کا آزادانہ نظام ناگزیر

دنیا بھر کے جمہوری معاشروں کا یہ اصول ہے کہ جمہوریت ایک آزاد اور کھلے سماج کی پرورش کرتی ہے

دنیا بھر کے جمہوری معاشروں کا یہ اصول ہے کہ جمہوریت ایک آزاد اور کھلے سماج کی پرورش کرتی ہے

دنیا بھر کے جمہوری معاشروں کا یہ اصول ہے کہ جمہوریت ایک آزاد اور کھلے سماج کی پرورش کرتی ہے جہاں باشعور شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے آئینی فورمز پر بحث مباحثے ہوتے ہیں، اطلاعات تک رسائی عام ہوتی ہے، تاہم جس معاشرہ میں احتساب نہ ہو، حکومتی انتظامی ترجیحات قومی ترقی اور مالیاتی امور کی شفافیت سے مربوط جب کہ پاور شیئرنگ قانون کی حکمرانی سے مشروط نہ ہو وہاں کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرخ فیتہ پر مبنی غلامانہ طرز عمل سکہ رائج الوقت بن جاتا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کا بیان کہ نیب نے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک سے کرپشن کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے جس کے تحت قومی دولت لوٹنے والوں سے پائی پائی وصول کی جائے گی ہوا کا ایک خوش گوار جھونکا ہے۔


حکومت کا منشور کچھ بھی ہو اس کی پالیسیوں کی اساس انتظامی شفافیت پر مبنی ہونی چاہیے کیونکہ بدعنوانی واقعی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس سے نہ صرف ترقی کا عمل رک جاتا ہے بلکہ قانون کی حکمرانی داؤ پر لگ جاتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

یہ سارے حقائق ناقابل تردید اور مسلمہ جمہوری طریقہ کار سے جڑے ہوئے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ جوابدہی سے احساس ذمے داری پیدا ہوتا ہے (accountability breeds responsibilty ) اسی حکمت عملی اور میکنزم پر نیب قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کے تحت کام کر رہا ہے۔ آج منصفانہ احتساب سے کمٹمنٹ کل کی شفاف طرز حکمرانی کی مستقل بنیاد بن سکتی ہے، اس لیے جس قدر ہو سکے انتظامی سطح پر وزارتوں اور سرکاری محکموں سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں کرپشن کو بریک لگنا چاہیے۔

اس بات سے شاید حکومت کے بدترین مخالف بھی انکار نہ کر سکیں گے کہ وفاقی حکومت کی عدم مداخلت کی پالیسی کی وجہ سے نیب آج ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے اور ضرورت اس آزادی کو ایک مقدس امانت کے طور برتنا شرط اول ہے، جب کہ تفتیش و تحقیقات کے عمل کے دوران کسی کو امتیازی سلوک کی شکایت پیدا نہیں ہونی چاہیے، ایک ایسا ہی شفاف اور فالٹ فری احتسابی نظام جمہوریت کو تمام الزامات سے پاک کر سکتا ہے۔ لہٰذا امید ہے کہ نیب کو حاصل آزادی ہی اسے لانگ رن میں اپنے کام میں سرخرو کر سکتی ہے۔
Load Next Story