اونٹ کی ’’کل‘‘ کروٹ اور کینہ
ویسے تو کسی بھی اونٹ کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس کروٹ بیٹھے گا کیونکہ ایک تو اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی
barq@email.com
ویسے تو کسی بھی اونٹ کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس کروٹ بیٹھے گا کیونکہ ایک تو اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اور دوسرے ''شتر کینہ'' بھی اس کا مشہور، لیکن تمام سادھارن اونٹوں سے... بھی مختلف... یہ ''بھارت اور پاکستان کے تعلقات'' کا اونٹ ہے، ''کروٹ'' تو کیا اس کا یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ بیٹھے گا یا دوڑنے لگے گ۔
، ابھی کل پرسوں ہی ساری دنیا سمجھ رہی تھی کہ بھارت پاکستان تعلقات کا اونٹ بس بیٹھنے ہی والا ہے کیونکہ وہ گھٹنے بھی موڑ چکا تھا لیکن پھر اچانک بالکل خلاف توقع پلک جھپکنے میں وہ دوڑتا نظر آیا، اور ابھی تک دوڑ رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک بس ایک دوسرے پر دوڑنے والے ہیں بلکہ دونوں نے اسٹارٹ بھی لیا تھا لیکن جب وہ ایک دوسرے کے قریب پہنچے تو اچانک بغل گیر ہو گئے اور ایسے بغل گیر ہو گئے کہ ''من و تو'' کے سارے فاصلے مٹ گئے اور وہ جو کہتے ہیں نا کہ... مل گئے جب وہ گلے، سارا گلہ جاتا رہا، سارا گلہ نہیں بلکہ ''سارے گلے'' کہیں ہوا ہو گئے اور دونوں ہی ایک دوسرے کو چومنے میں لگ گئے
آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار، میں چلاوں ہائے دل
اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ ''ہائے گل'' ... اور ''ہائے دل'' کون ہیں، دونوں ملکوں کے وہ بھولے بھالے عوام جنھیں جب چاہا دشمنی پر لگا دیا اور جب چاہا دوستی سے شرابور کر دیا، بے چاروں کے دل پر ''نعرہ بازیوں'' کا کابوس ایسا مسلط ہے کہ حرام ہے جو کبھی دماغ سے کام لیں، جس نے جس طرف چاہا موڑ دیا اور یہ چل پڑے
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہیں نہ پا ہے رکاب میں
عوام کو تو خیر چھوڑیئے کہ ہمیشہ حکمرانوں کی ڈگڈیوں پر ناچتے گاتے رہتے ہیں وہ خاص الخواص لوگ جو خود کو دانشور، اہل فکر، کالم نگار، تجزیہ نگار اور فلسفہ بگھار وغیرہ سمجھتے ہیں وہ بھی ...اپنی ''توپیں'' آٹو پر لگائے رہتے ہیں، اوپر سے آواز آئی، بھارت دشمن تو یہ آگ اگلنے لگتی ہیں وہ وہ دور کی کوڑیاں لاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ... اور پھر ''بھارت دوست'' کا ڈنکا بجتا ہے تو وہی توپیں پھول برسانے لگتی ہیں، بہاروں پھول برساؤ شمسا سوراج آئی ہے، بات اصل میں یہ ہے کہ
یہ کیسی محبت یہ کیسے فسانے
ہیں ''پینے پلانے'' کے سارے بہانے
ابھی کل کی بات ہے وہ اخبارات ابھی ردی والے کی دکان پر نہیں گئے ہوں گے جس میں دشمن نمبر ایک، قاتل نمبر ایک، ظالم نمبر ایک ثابت کرنے کے لیے دلائل کے ڈھیر اکٹھے کیے جا رہے تھے لیکن اب وہی ''منہ'' کہہ رہے ہیں کہ ہمارے درمیان تو کوئی جھگڑا ہے نہیں... وہ تو دوست ہے پڑوسی ہے ہماری ''سپوتنیوں'' اور ''سپوتوں'' کی آغوش مادر ہے، گویا اونٹ بالکل ہی خلاف توقع کروٹ بیٹھ گیا ہے، اونٹ بھی بڑا ہی عجوبہ جانور ہے اس کے بارے میں جو بھی قصے اور کہاوتیں موجود ہیں وہ سب کی سب ہماری سیاست پر چسپاں ہوتی ہیں خاص طور پر پاکستان کی سیاست تو سر سے پاؤں تک اونٹ ہی اونٹ ہے
اشتر صحرائی گردنا
ترسم چہ خواہی کردنا
ایک تو وہ مشہور و معروف حکایت ہے کہ اعرابی نے ترس کھا کر اونٹ کو صرف گردن خیمہ کے اندر کرنے کی اجازت دی کیوں کہ باہر سخت سردی پڑ رہی تھی لیکن بعد میں جب اعرابی سردی کے مارے جاگا تو اونٹ خیمے کے اندر تھا اور وہ خود خیمے سے باہر پڑا ہوا تھا اب اس قصے کو اگر آپ چاہیں تو کئی مقامات پر چسپاں کر سکتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کر آئی ایم ایف تک اور تجارتی کاریڈور سے لے کر مودی کے ہاتھ ملانے تک ہزار مقامات مل جائیں گے۔
اس دن ایک دانشور سے ملاقات ہوئی آج کل چونکہ اس ''کراپ'' کی پیداوار کچھ زیادہ ہو رہی ہے اس لیے کہیں بھی جایئے کسی نہ کسی دانشور سے پالا پڑ ہی جاتا ہے، لیکن یہاں ایک وضاحت بھی ضروری ہو جاتی ہے جس طرح خودکُش (KHUDKUSH) اور خود کَش (KHUD KASH) دو ہم رنگ لیکن مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دانش ور (DANISH WAR) اور دانشور (DANSUR) بھی قطعی الگ الگ کیٹگری کی مخلوقات ہیں، دانش ور بروزن بہرہ ور، دیدہ ور، کینہ ور، نام ور کے معنی دانش والے ہوتے ہیں لیکن دانشور برزون منہ زور، سینہ زور یا پرشور یعنی وہ شور جو زور کے ساتھ آتا ہے اس دانشور کا مطلب ہے وہ ''دان'' جو شور کرتا ہے ''دان'' بھی یہاں دوسرے معنی دیتا ہے۔
جیسے قلم دان، جزو دان، پائیدان، پان دان وغیرہ ... گویا اس دوسرے قسم کے دانشور کو آپ شور دان یا شور کا دان کہہ سکتے ہیں کہ اس میں صرف شور ہی شور بھرا ہوتا ہے، یہاں پھر ایک اور کنفیوژن ''شور'' کا پیدا ہو جاتا ہے ایک وہ شور ہوتا ہے جو ''غل'' اور شر کے ساتھ ہوتا ہے یعنی
ایں چہ شوریست کہ در دور قمرمی بنیم
ھمہ آفاق پر از فتنہ و شر می بنیم
لیکن دوسرا ''شور'' وہ شور زدہ زمین والا ہوتا ہے اس کے معنی ترش اور چٹ پٹے نمکین کے ہوتے ہیں جیسے چھولوں کو ایران اور افغانستان میں شور نخود یا نحور شور کہا جاتا ہے، ہمارا مطلب ہے کہ یہ آخری قسم کے ''دانشور'' آج کل زیادہ پائے جاتے ہیں جن کو اپنے آپ پر ''دانش ور'' ہونے کا گمان ہو جاتا ہے۔
معافی چاہتے ہیں درمیان میں یہ کچھ غیر متعلق سی بات آ گئی ہے جس دانشور کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں اس نے ہمیں ایک تقریب میں شمولیت کی دعوت دی جو تجارتی کاریڈور یا چینی پاکستانی بھائی بھائی سے متعلق ہونے والی تھی ہم اس کا عندیہ سمجھ گئے کہ آج کل کی مقبول ترین ''قوالی'' پر مبنی تقریب ہو گی کہ ہمارے صوبے کو کاریڈور میں سے کچھ خاص نہیں ملا ہے یا ایسی ہی کچھ یہاں وہاں کی لن ترانیاں، ہم نے عرض کیا ہم تو آ جائیں گے لیکن پہلے ہی سے خبردار کیے دیتے ہیں کہ کچھ اناپ شناب بکیں گے ضرور، اس نے پوچھا کیسے؟ عرض کیا ایسٹ انڈیا کمپنی بھی خالص ایک تجارتی کمپنی تھی اور ایک انگریز ڈاکٹر نے مغل بادشاہ کی بیٹی کا علاج کرنے کے عوض ایک کوٹھی مانگی تھی۔
وہ مغل بادشاہ بھی سمجھ رہا تھا کہ ایک کوٹھی سے کیا ہو گا لیکن اس کوٹھی سے کیا ہو گیا؟ بلکہ کیا کیا ہو گیا بلکہ ابھی تک اس کا آفٹر شاک چل رہا ہے حتیٰ کہ اس کوٹے دینے والے بادشاہ کی اولاد میں سے ایک بادشاہ ایسا بھی ہوا جس نے کہا کہ
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
دیکھا اونٹ کو خیمے کے اندر سر گھسیٹرنے کا نتیجہ کہ بے چارا اعرابی رنگوں میں جا سویا، اونٹ کا دوسرا قصہ ہماری سیاست سے متعلق ہے وہ ہے جب ایک گیدڑ نے اونٹ کے ہونٹ کو ہلتے ہوئے دیکھا اونٹ جگالی کر رہا تھا اور گیدڑ کو ایسا لگا کہ اس کا یہ نچلا ہونٹ ابھی گرا ہی چاہتا ہے۔
چنانچہ اس کے نیچے بیٹھ گیا کہ مفت میں اچھا خاصا گوشت کا لوتھڑا مل جائے گا کئی دن وہاں بیٹھا رہا آخر وہاں سے ایک بوڑھے گیدڑ کا گزر ہوا اس نے نوجوان گیدڑ سے پوچھا کیوں اونٹ کے ہونٹ گرنے کا انتظار ہے کیا؟ نوجوان گیدڑ نے ہاں کہا تو بوڑھے نے کہا بیٹا میں بھی اس کم بخت ہونٹ کے انتظار میں اپنی جوانی غارت کر چکا ہوں یہ نہ گرتا ہے نہ گرے گا جا اپنی رہ کھوٹی نہ کر ... ہم بھی ستر سال ہوئے اس اونٹ کے ہونٹ کا آس لگائے بیٹھے ہیں جس کی کوئی کل ''سیدھی'' نہیں ہے ... اس کے ''کروٹ'' کا بھی پتہ نہیں البتہ اس کا شتر کینہ ... اللہ کی پناہ۔
، ابھی کل پرسوں ہی ساری دنیا سمجھ رہی تھی کہ بھارت پاکستان تعلقات کا اونٹ بس بیٹھنے ہی والا ہے کیونکہ وہ گھٹنے بھی موڑ چکا تھا لیکن پھر اچانک بالکل خلاف توقع پلک جھپکنے میں وہ دوڑتا نظر آیا، اور ابھی تک دوڑ رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک بس ایک دوسرے پر دوڑنے والے ہیں بلکہ دونوں نے اسٹارٹ بھی لیا تھا لیکن جب وہ ایک دوسرے کے قریب پہنچے تو اچانک بغل گیر ہو گئے اور ایسے بغل گیر ہو گئے کہ ''من و تو'' کے سارے فاصلے مٹ گئے اور وہ جو کہتے ہیں نا کہ... مل گئے جب وہ گلے، سارا گلہ جاتا رہا، سارا گلہ نہیں بلکہ ''سارے گلے'' کہیں ہوا ہو گئے اور دونوں ہی ایک دوسرے کو چومنے میں لگ گئے
آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار، میں چلاوں ہائے دل
اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ ''ہائے گل'' ... اور ''ہائے دل'' کون ہیں، دونوں ملکوں کے وہ بھولے بھالے عوام جنھیں جب چاہا دشمنی پر لگا دیا اور جب چاہا دوستی سے شرابور کر دیا، بے چاروں کے دل پر ''نعرہ بازیوں'' کا کابوس ایسا مسلط ہے کہ حرام ہے جو کبھی دماغ سے کام لیں، جس نے جس طرف چاہا موڑ دیا اور یہ چل پڑے
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہیں نہ پا ہے رکاب میں
عوام کو تو خیر چھوڑیئے کہ ہمیشہ حکمرانوں کی ڈگڈیوں پر ناچتے گاتے رہتے ہیں وہ خاص الخواص لوگ جو خود کو دانشور، اہل فکر، کالم نگار، تجزیہ نگار اور فلسفہ بگھار وغیرہ سمجھتے ہیں وہ بھی ...اپنی ''توپیں'' آٹو پر لگائے رہتے ہیں، اوپر سے آواز آئی، بھارت دشمن تو یہ آگ اگلنے لگتی ہیں وہ وہ دور کی کوڑیاں لاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ... اور پھر ''بھارت دوست'' کا ڈنکا بجتا ہے تو وہی توپیں پھول برسانے لگتی ہیں، بہاروں پھول برساؤ شمسا سوراج آئی ہے، بات اصل میں یہ ہے کہ
یہ کیسی محبت یہ کیسے فسانے
ہیں ''پینے پلانے'' کے سارے بہانے
ابھی کل کی بات ہے وہ اخبارات ابھی ردی والے کی دکان پر نہیں گئے ہوں گے جس میں دشمن نمبر ایک، قاتل نمبر ایک، ظالم نمبر ایک ثابت کرنے کے لیے دلائل کے ڈھیر اکٹھے کیے جا رہے تھے لیکن اب وہی ''منہ'' کہہ رہے ہیں کہ ہمارے درمیان تو کوئی جھگڑا ہے نہیں... وہ تو دوست ہے پڑوسی ہے ہماری ''سپوتنیوں'' اور ''سپوتوں'' کی آغوش مادر ہے، گویا اونٹ بالکل ہی خلاف توقع کروٹ بیٹھ گیا ہے، اونٹ بھی بڑا ہی عجوبہ جانور ہے اس کے بارے میں جو بھی قصے اور کہاوتیں موجود ہیں وہ سب کی سب ہماری سیاست پر چسپاں ہوتی ہیں خاص طور پر پاکستان کی سیاست تو سر سے پاؤں تک اونٹ ہی اونٹ ہے
اشتر صحرائی گردنا
ترسم چہ خواہی کردنا
ایک تو وہ مشہور و معروف حکایت ہے کہ اعرابی نے ترس کھا کر اونٹ کو صرف گردن خیمہ کے اندر کرنے کی اجازت دی کیوں کہ باہر سخت سردی پڑ رہی تھی لیکن بعد میں جب اعرابی سردی کے مارے جاگا تو اونٹ خیمے کے اندر تھا اور وہ خود خیمے سے باہر پڑا ہوا تھا اب اس قصے کو اگر آپ چاہیں تو کئی مقامات پر چسپاں کر سکتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کر آئی ایم ایف تک اور تجارتی کاریڈور سے لے کر مودی کے ہاتھ ملانے تک ہزار مقامات مل جائیں گے۔
اس دن ایک دانشور سے ملاقات ہوئی آج کل چونکہ اس ''کراپ'' کی پیداوار کچھ زیادہ ہو رہی ہے اس لیے کہیں بھی جایئے کسی نہ کسی دانشور سے پالا پڑ ہی جاتا ہے، لیکن یہاں ایک وضاحت بھی ضروری ہو جاتی ہے جس طرح خودکُش (KHUDKUSH) اور خود کَش (KHUD KASH) دو ہم رنگ لیکن مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دانش ور (DANISH WAR) اور دانشور (DANSUR) بھی قطعی الگ الگ کیٹگری کی مخلوقات ہیں، دانش ور بروزن بہرہ ور، دیدہ ور، کینہ ور، نام ور کے معنی دانش والے ہوتے ہیں لیکن دانشور برزون منہ زور، سینہ زور یا پرشور یعنی وہ شور جو زور کے ساتھ آتا ہے اس دانشور کا مطلب ہے وہ ''دان'' جو شور کرتا ہے ''دان'' بھی یہاں دوسرے معنی دیتا ہے۔
جیسے قلم دان، جزو دان، پائیدان، پان دان وغیرہ ... گویا اس دوسرے قسم کے دانشور کو آپ شور دان یا شور کا دان کہہ سکتے ہیں کہ اس میں صرف شور ہی شور بھرا ہوتا ہے، یہاں پھر ایک اور کنفیوژن ''شور'' کا پیدا ہو جاتا ہے ایک وہ شور ہوتا ہے جو ''غل'' اور شر کے ساتھ ہوتا ہے یعنی
ایں چہ شوریست کہ در دور قمرمی بنیم
ھمہ آفاق پر از فتنہ و شر می بنیم
لیکن دوسرا ''شور'' وہ شور زدہ زمین والا ہوتا ہے اس کے معنی ترش اور چٹ پٹے نمکین کے ہوتے ہیں جیسے چھولوں کو ایران اور افغانستان میں شور نخود یا نحور شور کہا جاتا ہے، ہمارا مطلب ہے کہ یہ آخری قسم کے ''دانشور'' آج کل زیادہ پائے جاتے ہیں جن کو اپنے آپ پر ''دانش ور'' ہونے کا گمان ہو جاتا ہے۔
معافی چاہتے ہیں درمیان میں یہ کچھ غیر متعلق سی بات آ گئی ہے جس دانشور کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں اس نے ہمیں ایک تقریب میں شمولیت کی دعوت دی جو تجارتی کاریڈور یا چینی پاکستانی بھائی بھائی سے متعلق ہونے والی تھی ہم اس کا عندیہ سمجھ گئے کہ آج کل کی مقبول ترین ''قوالی'' پر مبنی تقریب ہو گی کہ ہمارے صوبے کو کاریڈور میں سے کچھ خاص نہیں ملا ہے یا ایسی ہی کچھ یہاں وہاں کی لن ترانیاں، ہم نے عرض کیا ہم تو آ جائیں گے لیکن پہلے ہی سے خبردار کیے دیتے ہیں کہ کچھ اناپ شناب بکیں گے ضرور، اس نے پوچھا کیسے؟ عرض کیا ایسٹ انڈیا کمپنی بھی خالص ایک تجارتی کمپنی تھی اور ایک انگریز ڈاکٹر نے مغل بادشاہ کی بیٹی کا علاج کرنے کے عوض ایک کوٹھی مانگی تھی۔
وہ مغل بادشاہ بھی سمجھ رہا تھا کہ ایک کوٹھی سے کیا ہو گا لیکن اس کوٹھی سے کیا ہو گیا؟ بلکہ کیا کیا ہو گیا بلکہ ابھی تک اس کا آفٹر شاک چل رہا ہے حتیٰ کہ اس کوٹے دینے والے بادشاہ کی اولاد میں سے ایک بادشاہ ایسا بھی ہوا جس نے کہا کہ
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
دیکھا اونٹ کو خیمے کے اندر سر گھسیٹرنے کا نتیجہ کہ بے چارا اعرابی رنگوں میں جا سویا، اونٹ کا دوسرا قصہ ہماری سیاست سے متعلق ہے وہ ہے جب ایک گیدڑ نے اونٹ کے ہونٹ کو ہلتے ہوئے دیکھا اونٹ جگالی کر رہا تھا اور گیدڑ کو ایسا لگا کہ اس کا یہ نچلا ہونٹ ابھی گرا ہی چاہتا ہے۔
چنانچہ اس کے نیچے بیٹھ گیا کہ مفت میں اچھا خاصا گوشت کا لوتھڑا مل جائے گا کئی دن وہاں بیٹھا رہا آخر وہاں سے ایک بوڑھے گیدڑ کا گزر ہوا اس نے نوجوان گیدڑ سے پوچھا کیوں اونٹ کے ہونٹ گرنے کا انتظار ہے کیا؟ نوجوان گیدڑ نے ہاں کہا تو بوڑھے نے کہا بیٹا میں بھی اس کم بخت ہونٹ کے انتظار میں اپنی جوانی غارت کر چکا ہوں یہ نہ گرتا ہے نہ گرے گا جا اپنی رہ کھوٹی نہ کر ... ہم بھی ستر سال ہوئے اس اونٹ کے ہونٹ کا آس لگائے بیٹھے ہیں جس کی کوئی کل ''سیدھی'' نہیں ہے ... اس کے ''کروٹ'' کا بھی پتہ نہیں البتہ اس کا شتر کینہ ... اللہ کی پناہ۔