یلغار پر یلغار
الیکشن میں پتہ چلے گا کہ ہلا شیری والا شیر اور اصل شیر کون ہے، اس معرکے کا فیصلہ ہونے میں ابھی چند ماہ باقی ہیں۔
Abdulqhasan@hotmail.com
یوں تو وقت ایسا عجیب ہے کہ اس میں معذرتیں بے شمار ہیں اور شکایتیں بھی کم نہیں ہیں لیکن فی الوقت معذرتوں کو لیں، یہ دل پر بوجھ ہوا کرتی ہیں اور معذرت بھی صرف ایک بیان کرتے ہیں جو سیاسی بھی ہے اور الیکشنیبھی ہے یعنی موقع محل کے مطابق۔
پرانے دوست اور سیاستدانوں تک رسائی کا راستہ دکھانے والے جناب منیر احمد خان نے جن کو آپ ان دنوں پیپلز پارٹی کے بڑے لوگوں کے ساتھ تصویروں میں لازماً دیکھتے ہیں، یاد فرمایا کہ جناب منظور وٹو صاحب لاہور میں ہیں اور بعض اخباری دوستوں سے ملنا چاہتے ہیں، تم بھی اپنے آپ کو انھی دوستوں میں سمجھو لیکن منیر احمد خان کے ساتھ پرانے تعلق اور وٹو صاحب سے بھی قدیمی نیاز مندی کے باوجود میں حاضر نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر نے اطلاع دی کہ وہ کل ملک سے باہر جا رہے ہیں اور میرا معائنہ کرنا چاہتے ہیں، اس اطلاع کے بعد تمام مصروفیات منسوخ اور جواب میں دوستوں سے معذرت۔
جناب وٹو صاحب لاہور کے ہیں اور ان کا اس شہر میں آنا جانا کوئی خبر نہیں لیکن اس بار وہ ایک زبردست خبر بن کر لاہور میں وارد ہوئے۔ پہلا سیاسی اعلان یہ ہوا کہ وہ اب کے براہ راست میاں نواز شریف پر حملہ آور ہوں گے تا کہ پنجاب کا آیندہ وزیراعلیٰ کوئی جیالا ہو لیکن کوئی جیالا کیوں، وہ خود کیوں نہیں۔ وہ صرف اٹھارہ ممبروں کی امداد سے پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے ہیں اور اس منصب پر ڈٹے رہے ہیں، جب ان سے بار بار پوچھا جاتا کہ وہ صرف اٹھارہ ارکان کی مدد سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر کیسے قائم رہیں گے تو اس سوال سے تنگ آ کر انھوں نے ایک بار کہا کہ وٹوئوں کے گھر میں باہر سے کٹا بھی آ جائے تو وہ واپس نہیں جانے دیتے، یہ تو وزارت اعلیٰ ہے۔
وٹو صاحب جب وزیراعلیٰ تھے تو ان کا ایک دیوانہ کارکن نام نہیں یاد آ رہا صحافیوں کا دوست تھا، وہ ایک بار وٹو صاحب کے گھر لے گیا، حویلی لکھا میں، وٹو صاحب مقامی نہیں مہاجر تھے لیکن انھوں نے یہاں مضبوط قدم جما لیے اور علاقے کے پرانے سیاستدانوں کے مقابلے پر آ گئے۔ گفتگو کی طرح رک رک کر سیاست کرنے والے وٹو صاحب جب وزیراعلیٰ تھے تو انھوں نے خاص لوگوں کو خوش کر کے سیاست میں اپنی جگہ بنا لی اور اب ادھر ایک عرصے سے وہ اس جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور زرداری صاحب کی ہلہ شیری سے پنجاب کے شیر کے ساتھ متھا لگائے ہوئے ہیں۔
الیکشن میں پتہ چلے گا کہ ہلا شیری والا شیر اور اصل شیر کون ہے، اس معرکے کا فیصلہ ہونے میں ابھی چند ماہ باقی ہیں ،فی الحال وٹو صاحب مسلسل پتھر پھینک رہے ہیں اور سونے نہیں دے رہے۔ ان کی پنجاب میں بانداز دگر آمد سے رونق پیدا ہوئی ہے لیکن ان کے ساتھ ایک زیادتی ہو رہی ہے کہ ان کے تابڑ توڑ حملوں کا جواب نہیں دیا جا رہا۔ جواب دینا نہ دینا ان کے حریف سیاستدانوں کا کام ہے، ہم تو اس تو تڑاخ والی رونق سے محروم ہیں جو جواب در جواب یا ترکی بہ ترکی سوال و جواب سے پیدا ہو سکتی تھی۔ مجھے خطرہ ہے کہ میاں صاحبان نے ان کو اہمیت نہ دی تو اس رویے سے بعض دماغی امراض بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ میں نے ایسے سیاستدان دیکھے ہیں جن کی حالت تشویش ناک ہو گئی تھی اور وہ اپنی بے قدری کو برداشت نہیں کر سکے تھے۔ بھاڑ میں جائے ایسی سیاست جس میں کوئی نوٹس لینے والا ہی نہ ہو۔
جناب وٹو کی آمد سے پنجاب میں سیاست کچھ متحرک ہوئی ہے لیکن ابھی تک اس کی سرگرمی محدود ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے بعض کارکن وٹو صاحب کو قبول نہیں کر رہے مگر جن دوسرے لوگوں کو پارٹی کے رکن قبول کر رہے ہیں وہ اگر وٹو صاحب سے مختلف ہوں تو ایک بات بھی ہے۔ حافظ حسین احمد صاحب نے اپنی خوش طبعی میں کہا ہے کہ وٹو صاحب کو آپ جس طرف سے بھی پڑھیں وٹو ہی بنتا ہے۔ حافظ صاحب یہ تو اچھی بات ہوئی کہ وہ ہر طرف سے ایک ہی ہیں۔ عام سیاستدانوں کی طرح نہیں ہیں کہ آگے سے کچھ پیچھے سے کچھ۔ بقول ایک مزاح نگار کے بھینس کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ آ رہی ہے یا جا رہی ہے۔ جناب وٹو کا آنا جانا بھی برابر ہے۔
بہر کیف ان کی مہربانی ہے کہ انھوں نے پنجاب کے تالاب میں ہلکا سا پتھر پھینک کر لہریں پیدا کر دی ہیں ورنہ ہم تو ابھی تک سڑکیں اکھاڑنے بنانے پر ہی لگے ہوئے تھے۔ الیکشن میں شاید کوئی خاص بات ہوتی ہے کہ تڑپے ہیں مرغ قبلہ نما آشیانے میں۔ ہمارے شیخ الاسلام دوسرے کام سے خود ساختہ القاب و خطابات کے ساتھ کینیڈا سے پاکستان کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور زر کثیر صرف کر کے وہ کوئی بہت بڑا جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے تو بہتر تھا کہ وہ اتنی رقم میں سے کچھ خرچ کر کے شیخ الاسلام کی طرح کوئی دوسرا ایسا ہی بھاری بھر کم لقب اپنا لیتے۔ جناب شیخ الاسلام جدید کے مخاطب پاکستانی ہیں لیکن وہ بھی ایک دوسرے لیڈر کی طرح پاکستانیوں سے بات کرنے کے لیے ملک سے باہر مقیم ہو گئے ہیں۔ خدا کرے ان سب لیڈروں کی سمندر پار سے آنے والی آوازیں پاکستانیوں کے کانوں میں پہنچ کر وہاں بیٹھ بھی جائیں دوسرے سے نکل نہ جائیں۔
ہم پاکستانیوں پر ملک کے اندر اور باہر سے دونوں طرف سے جو ہر روز یلغار ہونے والی ہے اگر ہم اس سے بچ گئے تو ممکن ہے مقامی یلغاروں کا مقابلہ بھی کر لیں جو ہمارے چاروں طرف سے بڑھتی ہوئی آ رہی ہیں۔ ان سے نہ تو حکمران محفوظ ہیں نہ عدالتیں اور اپوزیشن والے۔ بجلی کی طرح زندگی کی ضرورت گیس بھی ہے جس کی قیمت میں کچھ کمی کی گئی ہے اور یہ کمی کاروباریوں کو منظور نہیں۔ وجہ بڑی صاف ہے کہ گیس کے ذریعے لاکھوں کروڑوں کی رشوت دی جا رہی ہے۔ بڑے بڑے لوگوں کے پرمٹ بنے ہوئے ہیں جو گھر بیٹھے ہر ماہ چند لاکھ وصول کر لیتے ہیں۔ قیمت کم ہوئی تو بڑے لوگوں کا نقصان کون پورا کرے گا۔ اسے بھی ایک تازہ ترین یلغار سمجھیں اور نہ جانے کتنی یلغاریں ابھی راہ میں ہیں۔ مشرف اور جمہوری حکومت کے دور میں جو کچھ ہوا وہ سامنے آ جائے تو بے حس سوتے ہوئے پاکستانی بھی پاگل ہو جائیں۔
پاکستان کے ایک صنعتی شہر نے پیش کش کی ہے کہ انھیں دو برس تک مسلسل بجلی اور گیس دی جائے تو ملک کا قرضہ اتار دیں گے۔ ایک بہت پرانی بات ہے ایوب خان کے دور میں آئی ایم ایف نے ہمیں مقروض کرنا شروع کر دیا تو چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ کراچی کے ایک ایرانی ریستوران میں دو سیٹھ بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ایک نے کہا کہ ملک کا قرضہ بڑھ گیا ہے، تم اسے اتار کیوں نہیں دیتے۔ دوسرے نے جواب دیا کہ یہی سوال میں تم سے کروں گا اور اس پر دونوں چائے پی کر چلے گئے۔ کسی شہر کو دو برس تک بجلی گیس دینا اب ممکن نہیں اس میں بہت بھاری رکاوٹیں ہیں۔
پرانے دوست اور سیاستدانوں تک رسائی کا راستہ دکھانے والے جناب منیر احمد خان نے جن کو آپ ان دنوں پیپلز پارٹی کے بڑے لوگوں کے ساتھ تصویروں میں لازماً دیکھتے ہیں، یاد فرمایا کہ جناب منظور وٹو صاحب لاہور میں ہیں اور بعض اخباری دوستوں سے ملنا چاہتے ہیں، تم بھی اپنے آپ کو انھی دوستوں میں سمجھو لیکن منیر احمد خان کے ساتھ پرانے تعلق اور وٹو صاحب سے بھی قدیمی نیاز مندی کے باوجود میں حاضر نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر نے اطلاع دی کہ وہ کل ملک سے باہر جا رہے ہیں اور میرا معائنہ کرنا چاہتے ہیں، اس اطلاع کے بعد تمام مصروفیات منسوخ اور جواب میں دوستوں سے معذرت۔
جناب وٹو صاحب لاہور کے ہیں اور ان کا اس شہر میں آنا جانا کوئی خبر نہیں لیکن اس بار وہ ایک زبردست خبر بن کر لاہور میں وارد ہوئے۔ پہلا سیاسی اعلان یہ ہوا کہ وہ اب کے براہ راست میاں نواز شریف پر حملہ آور ہوں گے تا کہ پنجاب کا آیندہ وزیراعلیٰ کوئی جیالا ہو لیکن کوئی جیالا کیوں، وہ خود کیوں نہیں۔ وہ صرف اٹھارہ ممبروں کی امداد سے پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے ہیں اور اس منصب پر ڈٹے رہے ہیں، جب ان سے بار بار پوچھا جاتا کہ وہ صرف اٹھارہ ارکان کی مدد سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر کیسے قائم رہیں گے تو اس سوال سے تنگ آ کر انھوں نے ایک بار کہا کہ وٹوئوں کے گھر میں باہر سے کٹا بھی آ جائے تو وہ واپس نہیں جانے دیتے، یہ تو وزارت اعلیٰ ہے۔
وٹو صاحب جب وزیراعلیٰ تھے تو ان کا ایک دیوانہ کارکن نام نہیں یاد آ رہا صحافیوں کا دوست تھا، وہ ایک بار وٹو صاحب کے گھر لے گیا، حویلی لکھا میں، وٹو صاحب مقامی نہیں مہاجر تھے لیکن انھوں نے یہاں مضبوط قدم جما لیے اور علاقے کے پرانے سیاستدانوں کے مقابلے پر آ گئے۔ گفتگو کی طرح رک رک کر سیاست کرنے والے وٹو صاحب جب وزیراعلیٰ تھے تو انھوں نے خاص لوگوں کو خوش کر کے سیاست میں اپنی جگہ بنا لی اور اب ادھر ایک عرصے سے وہ اس جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور زرداری صاحب کی ہلہ شیری سے پنجاب کے شیر کے ساتھ متھا لگائے ہوئے ہیں۔
الیکشن میں پتہ چلے گا کہ ہلا شیری والا شیر اور اصل شیر کون ہے، اس معرکے کا فیصلہ ہونے میں ابھی چند ماہ باقی ہیں ،فی الحال وٹو صاحب مسلسل پتھر پھینک رہے ہیں اور سونے نہیں دے رہے۔ ان کی پنجاب میں بانداز دگر آمد سے رونق پیدا ہوئی ہے لیکن ان کے ساتھ ایک زیادتی ہو رہی ہے کہ ان کے تابڑ توڑ حملوں کا جواب نہیں دیا جا رہا۔ جواب دینا نہ دینا ان کے حریف سیاستدانوں کا کام ہے، ہم تو اس تو تڑاخ والی رونق سے محروم ہیں جو جواب در جواب یا ترکی بہ ترکی سوال و جواب سے پیدا ہو سکتی تھی۔ مجھے خطرہ ہے کہ میاں صاحبان نے ان کو اہمیت نہ دی تو اس رویے سے بعض دماغی امراض بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ میں نے ایسے سیاستدان دیکھے ہیں جن کی حالت تشویش ناک ہو گئی تھی اور وہ اپنی بے قدری کو برداشت نہیں کر سکے تھے۔ بھاڑ میں جائے ایسی سیاست جس میں کوئی نوٹس لینے والا ہی نہ ہو۔
جناب وٹو کی آمد سے پنجاب میں سیاست کچھ متحرک ہوئی ہے لیکن ابھی تک اس کی سرگرمی محدود ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے بعض کارکن وٹو صاحب کو قبول نہیں کر رہے مگر جن دوسرے لوگوں کو پارٹی کے رکن قبول کر رہے ہیں وہ اگر وٹو صاحب سے مختلف ہوں تو ایک بات بھی ہے۔ حافظ حسین احمد صاحب نے اپنی خوش طبعی میں کہا ہے کہ وٹو صاحب کو آپ جس طرف سے بھی پڑھیں وٹو ہی بنتا ہے۔ حافظ صاحب یہ تو اچھی بات ہوئی کہ وہ ہر طرف سے ایک ہی ہیں۔ عام سیاستدانوں کی طرح نہیں ہیں کہ آگے سے کچھ پیچھے سے کچھ۔ بقول ایک مزاح نگار کے بھینس کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ آ رہی ہے یا جا رہی ہے۔ جناب وٹو کا آنا جانا بھی برابر ہے۔
بہر کیف ان کی مہربانی ہے کہ انھوں نے پنجاب کے تالاب میں ہلکا سا پتھر پھینک کر لہریں پیدا کر دی ہیں ورنہ ہم تو ابھی تک سڑکیں اکھاڑنے بنانے پر ہی لگے ہوئے تھے۔ الیکشن میں شاید کوئی خاص بات ہوتی ہے کہ تڑپے ہیں مرغ قبلہ نما آشیانے میں۔ ہمارے شیخ الاسلام دوسرے کام سے خود ساختہ القاب و خطابات کے ساتھ کینیڈا سے پاکستان کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور زر کثیر صرف کر کے وہ کوئی بہت بڑا جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے تو بہتر تھا کہ وہ اتنی رقم میں سے کچھ خرچ کر کے شیخ الاسلام کی طرح کوئی دوسرا ایسا ہی بھاری بھر کم لقب اپنا لیتے۔ جناب شیخ الاسلام جدید کے مخاطب پاکستانی ہیں لیکن وہ بھی ایک دوسرے لیڈر کی طرح پاکستانیوں سے بات کرنے کے لیے ملک سے باہر مقیم ہو گئے ہیں۔ خدا کرے ان سب لیڈروں کی سمندر پار سے آنے والی آوازیں پاکستانیوں کے کانوں میں پہنچ کر وہاں بیٹھ بھی جائیں دوسرے سے نکل نہ جائیں۔
ہم پاکستانیوں پر ملک کے اندر اور باہر سے دونوں طرف سے جو ہر روز یلغار ہونے والی ہے اگر ہم اس سے بچ گئے تو ممکن ہے مقامی یلغاروں کا مقابلہ بھی کر لیں جو ہمارے چاروں طرف سے بڑھتی ہوئی آ رہی ہیں۔ ان سے نہ تو حکمران محفوظ ہیں نہ عدالتیں اور اپوزیشن والے۔ بجلی کی طرح زندگی کی ضرورت گیس بھی ہے جس کی قیمت میں کچھ کمی کی گئی ہے اور یہ کمی کاروباریوں کو منظور نہیں۔ وجہ بڑی صاف ہے کہ گیس کے ذریعے لاکھوں کروڑوں کی رشوت دی جا رہی ہے۔ بڑے بڑے لوگوں کے پرمٹ بنے ہوئے ہیں جو گھر بیٹھے ہر ماہ چند لاکھ وصول کر لیتے ہیں۔ قیمت کم ہوئی تو بڑے لوگوں کا نقصان کون پورا کرے گا۔ اسے بھی ایک تازہ ترین یلغار سمجھیں اور نہ جانے کتنی یلغاریں ابھی راہ میں ہیں۔ مشرف اور جمہوری حکومت کے دور میں جو کچھ ہوا وہ سامنے آ جائے تو بے حس سوتے ہوئے پاکستانی بھی پاگل ہو جائیں۔
پاکستان کے ایک صنعتی شہر نے پیش کش کی ہے کہ انھیں دو برس تک مسلسل بجلی اور گیس دی جائے تو ملک کا قرضہ اتار دیں گے۔ ایک بہت پرانی بات ہے ایوب خان کے دور میں آئی ایم ایف نے ہمیں مقروض کرنا شروع کر دیا تو چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ کراچی کے ایک ایرانی ریستوران میں دو سیٹھ بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ایک نے کہا کہ ملک کا قرضہ بڑھ گیا ہے، تم اسے اتار کیوں نہیں دیتے۔ دوسرے نے جواب دیا کہ یہی سوال میں تم سے کروں گا اور اس پر دونوں چائے پی کر چلے گئے۔ کسی شہر کو دو برس تک بجلی گیس دینا اب ممکن نہیں اس میں بہت بھاری رکاوٹیں ہیں۔