ناخوشگوار سیاسی صورت حال
عام انتخابات سر پر ہیں اور سیاسی حلقوں کے مطابق ملک میں انتخابی ماحول نہیں بن رہا۔
لاہور:
ممتاز قانون دان اور چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے سے سیاسی انتشار میں اضافہ ہو گا مگر الیکشن کمیشن اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا اور آیندہ ہونے والے انتخابات میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت سیاست دانوں کی اہلیت پر اعتراضات ہو سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے اور پیپلز پارٹی اس فیصلے کو اپنی فتح سمجھ رہی ہے جب کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ 1990ء کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کی مخالفت میں بنائے گئے اتحاد میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی تھی جب کہ آئی جے آئی میں مسلم لیگ سر فہرست تھی اور سابق صدر غلام اسحاق خان نے آئی جے آئی کی کامیابی میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ ان کی اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی رضامندی سے 8 کروڑ روپے سیاست دانوں میں تقسیم ہوئے تھے جس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔
جن سیاست دانوں پر رقم لینے کے الزامات ہیں، ان میں غلام مصطفیٰ جتوئی اور پیر پگارا دنیا میں نہیں رہے، غلام اسحاق خان مرحوم ہو چکے اور اس معاملے کے تین اہم کردار اسلم بیگ، اسد درّانی اور بینکار حبیب زندہ ہیں اور تینوں سیاسی انتشار بڑھنے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔
عام انتخابات سر پر ہیں اور سیاسی حلقوں کے مطابق ملک میں انتخابی ماحول نہیں بن رہا جب کہ حکمران بھی عام انتخابات سے فرار ہونے کا سوچ رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ صدر زرداری موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ آئین میں موجود شق کا فائدہ اٹھائیں، تا کہ 5 سال کے لیے صدارت پکی ہو جائے، جس کے بعد وہ عام انتخابات کے انعقاد کا سوچ سکتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف انتخابات میں (ن) لیگ کی کامیابی کے لیے بہت پر امید ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کارکن الیکشن کی تیاری کریں کیونکہ آنے والا کل (ن) لیگ کا ہے، عوام دوسروں کے جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔ تحریکِ انصاف کے عمران خان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں رہی اور اصل مقابلہ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہو گا۔
جماعتِ اسلامی کو ناراض کر کے مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل بحال کر چکے ہیں اور صدر آصف علی زرداری (ن) لیگ کے مقابلے کے لیے (ق) لیگ کو ساتھ رکھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی سندھ میں (ق) لیگ کا صفایا کرنے میں بھی مصروف ہے، جس پر چوہدری شجاعت نے صدر سے احتجاج بھی کیا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں بلاشبہ مضبوط ہے اور (ن) لیگ قوم پرستوں سے مل کر فنکشنل لیگ سے انتخابی اتحاد کے لیے کوشاں ہے اور سندھ میں پی پی و متحدہ کے مخالفین کو بلدیاتی نظام کی شکل میں پیپلز پارٹی ایک ایشو انھیں دے چکی ہے اور صدر زرداری اس سلسلے میں عید کے بعد قوم پرستوں کے بجائے سندھ کے عوام سے بات کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کو بھی (ن) لیگ کے خلاف انتخابی ایشو مل گیا ہے اور قومی سطح پر تنہائی کا شکار مسلم لیگ (ن) سندھ میں قوم پرستوں اور فنکشنل لیگ کے ذریعے اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ اے این پی اور متحدہ، پیپلز پارٹی کے قریب ہیں تو جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف میں بھی قربت موجود ہے۔ تحریکِ انصاف کا اصل ہدف (ن) لیگ ہے، جس کا مکمل فائدہ صدر زرداری اور چوہدری برادران اٹھانا چاہ رہے ہیں اور اب تک اس میں کامیاب بھی رہے ہیں اور پی پی کو پنجاب میں (ق) لیگ کی ضرورت ہے، پی پی کے ساتھ رہنے کو نواز شریف نے چوہدری برادران کی مجبوری بنا رکھا ہے۔
حکومتی حلیفوں اور اپوزیشن جماعتوں میں صرف جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صدر زرداری سے قربت کے باعث تعلقات خوش گوار ہیں اور مولانا اپوزیشن میں ہونے کے باوجود حکومت کے قریب بھی قرار دیے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے ان پر تنقید بھی ہوتی ہے، وہ بلوچستان حکومت میں بھی شامل ہیں اور پیپلز پارٹی کے متعدد بار حلیف رہے ہیں اور اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اسی لیے مسلم لیگ (ن) انھیں قابل اعتماد نہیں سمجھتی اور عمران خان بھی مولانا سے ناراض ہیں۔
(ن) لیگ نے اپنی سابقہ حلیف متحدہ سے جان بوجھ کر فاصلے بڑھائے ہیں اور قوم پرستوں کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔ سندھ کے تمام قوم پرست متحدہ کے خلاف ہیں اور اسی لیے (ن) لیگ کو پی پی پر ترجیح دے رہے ہیں۔ سندھ میں جماعتِ اسلامی، جے یو آئی، تحریکِ انصاف اور تمام مسلم لیگی گروپ بھی متحدہ کے خلاف ہیں اور متحدہ پیپلز پارٹی کے ساتھ رہنے پر مجبور ہے مگر پیپلز پارٹی سے مطمئن بھی نہیں ہے۔ موجودہ سیاسی ناخوشگوار صورت حال میں عوام کو سیاست سے زیادہ اپنے مسائل کی فکر ہے اور وہ محسوس کر چکے ہیں کہ نئے انتخابات ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے، اس لیے عوام کو انتخابات کی فکر نہیں اور جلد سے جلد انتخابات کی فکر صرف میاں نواز شریف کو ہے۔
حکومت اور پی پی کے حامیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شریف برادران پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی صورتِ حال ناخوشگوار ہوتی جا رہی ہے اور مستقبل کے سیاسی اتحاد ابھی سے نمایاں ہونے لگے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورت حال سے پیپلز پارٹی مکمل طور پر مطمئن ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے عام انتخابات کا اچانک اعلان کر سکتی ہے۔ الیکشن کے اعلان کے بعد شاید انتخابی ماحول بن جائے مگر اس سے سیاسی کشیدگی میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اضافہ ہو جائے گا جو سیاسی ہنگاموں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ممتاز قانون دان اور چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے سے سیاسی انتشار میں اضافہ ہو گا مگر الیکشن کمیشن اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا اور آیندہ ہونے والے انتخابات میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت سیاست دانوں کی اہلیت پر اعتراضات ہو سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے اور پیپلز پارٹی اس فیصلے کو اپنی فتح سمجھ رہی ہے جب کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ 1990ء کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کی مخالفت میں بنائے گئے اتحاد میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی تھی جب کہ آئی جے آئی میں مسلم لیگ سر فہرست تھی اور سابق صدر غلام اسحاق خان نے آئی جے آئی کی کامیابی میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ ان کی اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی رضامندی سے 8 کروڑ روپے سیاست دانوں میں تقسیم ہوئے تھے جس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔
جن سیاست دانوں پر رقم لینے کے الزامات ہیں، ان میں غلام مصطفیٰ جتوئی اور پیر پگارا دنیا میں نہیں رہے، غلام اسحاق خان مرحوم ہو چکے اور اس معاملے کے تین اہم کردار اسلم بیگ، اسد درّانی اور بینکار حبیب زندہ ہیں اور تینوں سیاسی انتشار بڑھنے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔
عام انتخابات سر پر ہیں اور سیاسی حلقوں کے مطابق ملک میں انتخابی ماحول نہیں بن رہا جب کہ حکمران بھی عام انتخابات سے فرار ہونے کا سوچ رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ صدر زرداری موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ آئین میں موجود شق کا فائدہ اٹھائیں، تا کہ 5 سال کے لیے صدارت پکی ہو جائے، جس کے بعد وہ عام انتخابات کے انعقاد کا سوچ سکتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف انتخابات میں (ن) لیگ کی کامیابی کے لیے بہت پر امید ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کارکن الیکشن کی تیاری کریں کیونکہ آنے والا کل (ن) لیگ کا ہے، عوام دوسروں کے جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔ تحریکِ انصاف کے عمران خان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں رہی اور اصل مقابلہ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہو گا۔
جماعتِ اسلامی کو ناراض کر کے مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل بحال کر چکے ہیں اور صدر آصف علی زرداری (ن) لیگ کے مقابلے کے لیے (ق) لیگ کو ساتھ رکھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور پیپلز پارٹی سندھ میں (ق) لیگ کا صفایا کرنے میں بھی مصروف ہے، جس پر چوہدری شجاعت نے صدر سے احتجاج بھی کیا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں بلاشبہ مضبوط ہے اور (ن) لیگ قوم پرستوں سے مل کر فنکشنل لیگ سے انتخابی اتحاد کے لیے کوشاں ہے اور سندھ میں پی پی و متحدہ کے مخالفین کو بلدیاتی نظام کی شکل میں پیپلز پارٹی ایک ایشو انھیں دے چکی ہے اور صدر زرداری اس سلسلے میں عید کے بعد قوم پرستوں کے بجائے سندھ کے عوام سے بات کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کو بھی (ن) لیگ کے خلاف انتخابی ایشو مل گیا ہے اور قومی سطح پر تنہائی کا شکار مسلم لیگ (ن) سندھ میں قوم پرستوں اور فنکشنل لیگ کے ذریعے اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمن سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ اے این پی اور متحدہ، پیپلز پارٹی کے قریب ہیں تو جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف میں بھی قربت موجود ہے۔ تحریکِ انصاف کا اصل ہدف (ن) لیگ ہے، جس کا مکمل فائدہ صدر زرداری اور چوہدری برادران اٹھانا چاہ رہے ہیں اور اب تک اس میں کامیاب بھی رہے ہیں اور پی پی کو پنجاب میں (ق) لیگ کی ضرورت ہے، پی پی کے ساتھ رہنے کو نواز شریف نے چوہدری برادران کی مجبوری بنا رکھا ہے۔
حکومتی حلیفوں اور اپوزیشن جماعتوں میں صرف جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے صدر زرداری سے قربت کے باعث تعلقات خوش گوار ہیں اور مولانا اپوزیشن میں ہونے کے باوجود حکومت کے قریب بھی قرار دیے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے ان پر تنقید بھی ہوتی ہے، وہ بلوچستان حکومت میں بھی شامل ہیں اور پیپلز پارٹی کے متعدد بار حلیف رہے ہیں اور اس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اسی لیے مسلم لیگ (ن) انھیں قابل اعتماد نہیں سمجھتی اور عمران خان بھی مولانا سے ناراض ہیں۔
(ن) لیگ نے اپنی سابقہ حلیف متحدہ سے جان بوجھ کر فاصلے بڑھائے ہیں اور قوم پرستوں کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔ سندھ کے تمام قوم پرست متحدہ کے خلاف ہیں اور اسی لیے (ن) لیگ کو پی پی پر ترجیح دے رہے ہیں۔ سندھ میں جماعتِ اسلامی، جے یو آئی، تحریکِ انصاف اور تمام مسلم لیگی گروپ بھی متحدہ کے خلاف ہیں اور متحدہ پیپلز پارٹی کے ساتھ رہنے پر مجبور ہے مگر پیپلز پارٹی سے مطمئن بھی نہیں ہے۔ موجودہ سیاسی ناخوشگوار صورت حال میں عوام کو سیاست سے زیادہ اپنے مسائل کی فکر ہے اور وہ محسوس کر چکے ہیں کہ نئے انتخابات ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے، اس لیے عوام کو انتخابات کی فکر نہیں اور جلد سے جلد انتخابات کی فکر صرف میاں نواز شریف کو ہے۔
حکومت اور پی پی کے حامیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شریف برادران پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی صورتِ حال ناخوشگوار ہوتی جا رہی ہے اور مستقبل کے سیاسی اتحاد ابھی سے نمایاں ہونے لگے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورت حال سے پیپلز پارٹی مکمل طور پر مطمئن ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے عام انتخابات کا اچانک اعلان کر سکتی ہے۔ الیکشن کے اعلان کے بعد شاید انتخابی ماحول بن جائے مگر اس سے سیاسی کشیدگی میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اضافہ ہو جائے گا جو سیاسی ہنگاموں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔