پاک بھارت متوقع مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہئیں

پاکستان سعودی عرب، عرب امارات سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے

پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم اور تشدد کی مذمت کی اور کشمیریوں کا مسئلہ ہر علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر اٹھایا ہے فوٹو: فائل

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کہاکہ دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ کے درمیان مذاکرات جلد ہونے چاہئیں، اس سلسلے میں دونوں ممالک آپس میں رابطے میں ہیں لیکن تاحال مذاکرات کے لیے حتمی تاریخ طے نہیں کی جا سکی، اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے نے تسلیم کیا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات پٹھانکوٹ واقعے سے مشروط نہیں۔

افغانستان میں امن کے حوالے سے چار فریقی مذاکرات 23فروری کو کابل میں ہوں گے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 34رکنی اتحاد سمیت دہشت گردی کے خلاف ہر اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں، اس فوجی اتحاد میں شمولیت کے لیے ماہرین کی سطح پر بات چیت جاری ہے، پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم اور تشدد کی مذمت کی اور کشمیریوں کا مسئلہ ہر علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر اٹھایا ہے، پاکستان کے ایٹمی اثاثے مکمل محفوظ ہیں، امریکا نے بھی ماضی میں کئی بار پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی سیکیورٹی اور تحفظ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے نے کہا تھا کہ پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات جلد ہو گی اب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی مذاکرات کے حوالے سے بیان دیا ہے کہ یہ جلد ہونے چاہئیں۔ اس تناظر میں یہ امید ابھرتی ہے کہ پٹھانکوٹ کے ناخوشگوار واقعہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں جو تعطل پیدا ہوا تھا وہ جلد ختم ہونے والا ہے اور پٹھانکوٹ کا واقعہ اس راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے تحقیقات کا عمل جاری ہے اور پاکستان اس سلسلے میں بھارت سے ہر ممکن تعاون کر رہا ہے حتیٰ کہ پاکستان نے اس کا مقدمہ بھی درج کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر سطح پر بھارت سے تعاون کے لیے تیار ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے بیان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بیک ڈور ڈپلومیسی کا عمل جاری ہے اور جلد ہی وہ مذاکرات کی میز پر آ جائیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی کئی بار خارجہ سیکریٹریوں کے علاوہ اعلیٰ سطح پر مذاکرات ہوتے رہے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور نہ کشیدگی ہی میں کوئی کمی آئی ہے، معاملات جوں کے توں چل رہے ہیں۔ اس بار جو مذاکرات ہوں تو ان کا واضح ایجنڈا ہونا چاہیے تاکہ تنازعات کا کوئی حل نکل سکے۔


اگر آیندہ ہونے والے متوقع مذاکرات بھی ماضی کی طرح نمائشی ہوئے تو یہ وقت ضایع کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ جہاں تک افغان حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کا تعلق ہے تو پاکستان پہلے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اب بھی وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے' ترجمان دفتر خارجہ واضح کر چکے ہیں کہ اس سارے عمل میں امریکا' پاکستان اور چین کی حیثیت محض سہولت کار کی ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لچک دار رویہ اختیار کرنا چاہیے اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے سے معاملات میں پیش رفت نہیں ہو سکے گی۔

کچھ عرصہ قبل سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف اسلامی ممالک کا 34رکنی فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا جس میں پاکستان کی شمولیت کی خبریں بھی سامنے آئیں جن کی بعدازاں تردید کی گئی اب ترجمان دفتر خارجہ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس فوجی اتحاد کی سپورٹ کرتا ہے اور اس میں شمولیت کے لیے ماہرین کی سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پاکستان سعودی عرب، عرب امارات سمیت تمام اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اس لیے وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا جس سے اس کے کسی بھی اسلامی ملک سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو اس لیے وہ 34رکنی فوجی اتحاد میں شمولیت سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ جہاں تک تنازعہ کشمیر کا تعلق ہے تو پاکستان نے ہمیشہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے اب ایک بار پھر ترجمان دفتر خارجہ نے کشمیری عوام پر بھارتی مظالم اور تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خارجہ سیکریٹریوں کے مذاکرات کے لیے آمادگی کا اعلان بھارت نے کرنا ہے کیونکہ اس سلسلے میں اس کی جانب ہی سے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں پاکستان تو ہر وقت مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔ خطے کے تنازعات کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے آیندہ متوقع مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔
Load Next Story