مہمند ایجنسی میں دو دہشت گرد حملے

لوئر مہمند میں رات کی تاریکی میں دہشتگردوں کے ایک حملے میں 7 قبائلی خاصہ دار اہلکار شہید ہو گئے۔

پاک افغان سرحد پر سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں‘ اس کے بعد ہی قبائلی علاقوں میں سرچ آپریشنز کامیاب ہو سکتے ہیں۔ فوٹو : فائل

قبائلی علاقے میں دہشت گردوں نے آدھی رات کے وقت دو حملے کر کے 9 خاصہ داروں کو شہید کر دیا اور فرار ہو گئے۔ لوئر مہمند میں رات کی تاریکی میں دہشتگردوں کے ایک حملے میں 7 قبائلی خاصہ دار اہلکار شہید ہو گئے۔

اس حملے میں تحصیل پنڈیالئی میں قائم لاٹری چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا، اس سے قبل تحصیل یکہ غنڈ میچنئی کے علاقہ دروازگئی میں سرکاری شمسی ٹیوب ویل کی حفاظت پر مامور 2 اہلکاروں کو حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ جماعت الاحرار نامی ایک دہشت گرد تنظیم نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کر نے کا اعلان کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق جماعت الاحرار تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والا گروپ ہے۔

ان تازہ حملوں کے حوالے سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ان قبائلی علاقوں میں گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے ہماری مسلح افواج کا آپریشن ضرب عضب نہایت کامیابی سے جاری ہے جس میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ تازہ حملے کرنے والوں کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ وہ غالباً سرحد پار سے آئے ہوں گے یا پھرہمارے ہی علاقے میں سہولت کاروں کے پاس چھپے ہوئے ہوں گے۔


جہاں تک سرحد پار سے آنے والوں کا تعلق ہے تو ہزار میل سے زیادہ طویل سرحد کو مکمل طور پر بند کر دینا ممکنات میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اس سرحد پر خیبر پختونخوا میں کراسنگ کے دو مقامات جن میں ایک طورخم ہے جب کہ بلوچستان میں چمن بارڈر پر صرف ایک کراسنگ پوائنٹ ہے۔

گزشتہ رات کا حملہ کرنے والے چمن سے تو یقیناً نہیں آئے ہوں گے انھوں نے غالباً طورخم کا بارڈر ہی استعمال کیا ہو گا۔ لیکن اس بارڈر سے روزانہ آنے جانے والوں کی تعداد کا اندازہ تیس سے پینتیس ہزار افراد کا ہے جن کی پڑتال کے لیے متعین کیے جانے والے عملے کی تعداد بھی ایک حد سے زیادہ نہیں ہے۔

نیز وہاں جدید ٹیکنالوجی کے آلات بھی نصب نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ افغان حکومت کو قریبی تعاون پر راغب کیا جائے کیونکہ باچا خان یونیورسٹی کے حملہ آوروں کے بارے میں یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ انھوں نے سرحد پار سے دراندازی کی تھی جن کے سہولت کار ادھر ہی موجود تھے جن کو پکڑ بھی لیا گیا۔ حالیہ حملہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کڑپہ پہاڑیوں میں قائم لاٹری پوسٹ پر کیا گیا اور ڈیوٹی پر مامور 7 اہلکاروں کے ہاتھ باندھ کر انھیں گولیاں ماری گئیں۔

اطلاع ملتے ہی ایجنسی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر کے فورسز نے سرچ آپریشن کیا اور 6 مشکوک افراد گرفتار کر لیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان سرحد پر سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں' اس کے بعد ہی قبائلی علاقوں میں سرچ آپریشنز کامیاب ہو سکتے ہیں۔
Load Next Story