پاک بھارت تعلقات میں نیا موڑ

پٹھان کوٹ دہشت گردی کے واقعے کے بعد دونوں ملکوں کی حکومتوں نے روایت سے ہٹ کر ذمے داری کا مظاہرہ کیا

بھارت اپنے ہاں نیک نیتی سے کام کرے جب کہ پاکستان تو کر ہی رہا ہے تو اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ فوٹو : فائل

پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکریٹریز کی سطح پر مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے تھے، اسی دوران پٹھان کوٹ ائیربیس پر حملے کا مقدمہ گوجرانوالہ کے ایک تھانے میں درج کر کے ایف آئی آر سیل کر دی گئی ہے۔ یہ غیرمعمولی پیش رفت ہے۔

بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ کرنے والوں کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے ہے جن کے فون پر پاکستان میں رابطے بھی رہے۔ ایف آئی آر میں 5 موبائل نمبر بھی دیے گئے ہیں جن پر بھارت کے مطابق کالز موصول ہوتی رہی تھیں۔ اس مقدمے کی تحقیقات جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کرے گی۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لہٰذا بھارت کو بھی شکوک و شبہات سے نکلنا ہو گا۔

پاکستان کی طرف سے بھارت کے الزام پر مقدمہ درج کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پٹھان کوٹ ائیربیس پر حملے میں ہماری کسی سرکاری ایجنسی کا کوئی عمل دخل نہیں اور ممکن ہے یہ کسی غیر ریاستی گروپ کی کارروائی ہو جس میں بھارتی شہری بھی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہاں بھی حکومت کے خلاف بغاوت کی کئی تحریکیں چل رہی ہیں، بھارتی حکومت کو اس پہلو پر غور کرنا چاہیے، اس معاملے کی مکمل تحقیقات سامنے آنے تک کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

بہرحال یہ امر خوش آیند ہے کہ پٹھان کوٹ دہشت گردی کے واقعے کے بعد دونوں ملکوں کی حکومتوں نے روایت سے ہٹ کر ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور ایک دوسرے پر بے جا الزامات سے پرہیز کیا، گو اس دوران بھارت کے بعض وزراء کی جانب سے حدود سے تجاوز کیا گیا، تاہم وزیراعظم نریندر مودی نے براہِ راست الزام تراشی نہیں کی اور بھارتی اداروں نے بھی پاکستان کے کسی ریاستی ادارے پر انگلی نہیں اٹھائی۔ پاکستان کا رویہ بھی اس حوالے سے خاصا بہتر رہا ہے۔ ویسے تو پاکستان نے بھارت میں جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے اس کی مذمت کی ہے۔


اس کے برعکس پاکستان میں دہشت گردی کے کئی بڑے اور سنگین واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن بھارت نے ان واقعات کی اس طرح مذمت نہیں کی جس طرح پاکستان نے بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات پر کی تھی۔ بہرحال پٹھان کوٹ واقعے کے بعد دونوں ملکوں کی حکومتوں نے جو پالیسی اختیار کی، اس کے نتیجے میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کے مذاکرات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اب پاکستان نے گوجرانوالہ میں مقدمہ درج کر کے گیند بھارت کے کورٹ میں پھینک دی ہے کہ وہ بھی اپنے ملک میں موجود نان اسٹیٹ ایکٹرر کو تلاش کرنے کا آغاز کرے۔

بھارت میں بہت سے ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن میں وہاں کے گروپ ملوث نکلے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں مالیگاؤں کا سانحہ سب کے سامنے ہے۔ اس سانحے میں بھارت کے اپنے لوگ ملوث تھے لیکن بھارتی ایجنسیوں نے ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ گجرات میں ہونے والے گودھرا ٹرین حادثہ بھی مشکوک تھا۔ اس حادثے کے بعد گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ سمجھوتہ ایکسپریس کی آتش زدگی بھی سب کے سامنے ہے۔ ممبئی حملوں میں بھی سہولت کاروں کے معاملات بھارت میں ہی ہوئے تھے۔ لہٰذا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ بھارت کی حکومت بھی زمینی حقائق کو تسلیم کرے۔

بھارت کو چاہیے کہ وہ ان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے جن کے ذریعے بدامنی کے واقعات ہوتے ہیں۔ تنازع کشمیر کی سنگینی کا بھارتی حکومت کو بخوبی علم ہے۔ کشمیری 60 برس سے زائد عرصے سے اپنے لیے حق استصواب رائے مانگ رہے ہیں، دنیا کے ہر قانون کی رو سے انھیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے بھارت کے ساتھ الحاق کریں یا پاکستان کے ساتھ۔ لیکن بھارت کی حکومت انھیں ان کا جائز حق نہیں دے رہی بلکہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے بھارت کی مسلح افواج کشمیری نوجوانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔

بھارت کو اب اس تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان کا تو پہلے ہی یہ مؤقف ہے کہ جب تک تنازع کشمیر حل نہیں ہوتا، دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کی باتیں عملی صورت اختیار نہیں کر سکتیں۔ اب حالات میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ بھارتی قیادت بھی حالات کی سنگینی کا ادراک کر رہی ہے۔ ان حالات میں پاک بھارت متوقع مذاکرات کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ گوجرانوالہ میں مقدمہ درج ہوا، اس پر پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کی مختلف رائے ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے بعد اصل حقائق سامنے آ جائیں گے۔

اگر بھارت کے الزامات جھوٹے ثابت ہوئے تو سارا بوجھ بھارت پر منتقل ہو جائے گا۔ بلاشبہ دونوں ملکوں کی ترقی کے لیے اس خطے میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو کنٹرول کرنا لازم ہے۔ بھارت اپنے ہاں نیک نیتی سے کام کرے جب کہ پاکستان تو کر ہی رہا ہے تو اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ دیکھا جائے تو پاک بھارت تعلقات نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔
Load Next Story