راہداری منصوبہ کے لیے آرمی چیف کا عزم

اقتصادی راہداری منصوبہ میں چین کی شراکت کئی عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے

بلاشبہ یہ منصوبہ ایک قومی مشن کے جذبہ کے ساتھ تکمیل کا منتظر رہے گا۔۔ فوٹو: فائل

لاہور:
بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف چلائی جانے والی تمام مہمات سے آگاہ ہیں، سیکیورٹی فورسز راہداری کے دیرینہ خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف نے گزشتہ روز پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ کے لیے نئی تشکیل کردہ ''اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن'' کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔

انھیں فورس کی تشکیل اور اقتصادی راہداری کی سیکیورٹی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے راہداری منصوبہ کی تکمیل کا خواب طے شدہ شیڈول کے مطابق شرمندہ تعبیر ہو گا تاہم منصوبہ پر عملدرآمد کے لیے امن و سلامتی اور ماہرین و کاریگروں کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے علاقے میں سرگرم سیاسی مخالفین سے نمٹنے کی حکمت عملی تزویراتی و زمینی حقائق کی روشنی میں مرتب ہونی چاہیے تا کہ بلوچستان کو سدا پسماندہ رکھنے والی انتہا پسند قوتیں اور شورش میں مصروف عناصر اس گیم چینجر منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں۔

اس لیے بلوچستان کی سیاسی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس سیکیورٹی اسٹرٹیجی کے ساتھ راہداری مخالف قوتوں کی مہمات کو غیر موثر کیا جائے اور ہو سکے تو سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے بلا تاخیر مکالمہ شروع کیا جائے۔ یاد رہے اقتصادی راہداری منصوبہ میں چین کی شراکت کئی عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے اس لیے اس ہائی پروفائل معاشی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔


اس موقعے پر جنرل راحیل شریف نے اقتصادی راہداری کو جامع سیکیورٹی دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے درست کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے ''گیم چینجر'' ثابت ہو گا۔ انھوں نے تمام ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ایک پرامن ماحول کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انھوں نے ہدایت کی کہ قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اقتصادی راہداری کی کامیابی کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔

سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی جب کہ جمعے کو پارلیمانی کمیٹی برائے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے سندھ کی جانب سے پورٹ قاسم کو سی پیک منصوبہ میں شامل کرنے کی تجویز پر چین سے بات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس اور بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں توانائی، گوادر بندرگاہ اور قراقرم ہائی وے کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ بلاشبہ یہ منصوبہ ایک قومی مشن کے جذبہ کے ساتھ تکمیل کا منتظر رہے گا۔
Load Next Story