ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی کا حکمنامہ بھی ہوا میں اڑا دیا انتطامیہ اور ٹریفک پولیس کے دعوے دھرے رہ گئے

کرایہ جات کم نہ ہونےکےباعث مسافروں اورکنڈیکٹرزمیں تلخ کلامی، صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ عوام کوریلیف فراہم کرنےمیں ناکام۔

انٹرسٹی بس آپریٹرز نے بھی کرایوں میں کمی کومسترد کردیا،سی این جی پر چلنے والے رکشا وٹیکسی کے کرایے مقرر نہیں کیے جاسکے فوٹو: فائل

TAUNTON:
سی این جی کی قیمت میں غیرمعمولی کمی ہوئے دوہفتے سے زائد عرصہ گزرچکا ہے۔

تاہم صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کے حوالے سے ابھی تک عوام کو ریلیف پہچانے میں بری طرح ناکام ہے ، پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان کی طرح انٹرسٹی بس آپریٹرز نے بھی کرایوں میں معمولی درجے کی کمی کو مسترد کردیا،سی این جی پر چلنے والے رکشا وٹیکسی کے کرایے بھی مقرر نہیں کیے جاسکے، حکومت کی رٹ نہ ہونے کے باعث شہریوں کو ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے،کرایہ جات کم نہ ہونے کے باعث مسافروں اور کنڈیکٹرز میں شدید جھڑپیں جاری ہیں جبکہ کراچی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر اوگرا کی جانب سے سی این جی کی قیمت میں 30روپے کمی کے اقدام کو دوہفتے سے زائد عرصہ گزرچکا ہے۔


اس ضمن میں وزیر ٹرانسپورٹ اختر جدون نے ایک ہفتے قبل پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں معمولی کمی کا اعلان کیا، انٹرسٹی بس روٹس پر 20تا 30فیصد کمی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تاہم ان اقدامات کو ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود عملدرآمد نہ کرایا جاسکا، حیرت انگیز امر یہ ہے کہ بس، منی بس، کوچز اور انٹرسٹی بس ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں معمولی نوعیت کی کمی کا حکمنامہ بھی ہوا میں اڑا دیاجبکہ ابھی تک ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جاسکی،سی این جی پر چلنے والے رکشا و ٹیکسی کے مالکان بھی بدستور منہ مانگا کرایہ طلب کررہے ہیں اور کہیں بھی عوام کو ریلیف ملتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے، کرایوں کی نئی فہرست کے اطلاق کے حوالے سے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اختر جدون نے بھی اختیارات کے نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے اپنی بے بسی کا اظہار کردیا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس نے ٹرانسپورٹ مافیا کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں جس سے انہیں من مانی کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے، ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوگرا نے سی این جی کی قیمت میں غیرمعمولی کمی کی ہے لہٰذا پبلک ٹرانسپورٹ، انٹرسٹی بسوں اور رکشا وٹیکسی کے کرایوں میں بھی غیرمعمولی کمی ہونے چاہیے تھی، ماہرین نے کہا کہ کراچی میں65ہزار سے زائد رکشا اور25ہزار ٹیکسی سی این جی پر آپریٹ کی جارہی ہیں تاہم صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ ابھی تک ان کے کرایوں میں کمی نہیں لاسکی ہے، نمائندہ ایکسپریس کے سروے کے دوران شہریوں نے بتایا کہ مسافروں اور ڈرائیورز وکنڈیکٹرز کے درمیان جھگڑے ہورہے ہیں تاہم ٹریفک پولیس، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور کراچی انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔
Load Next Story