بلدیہ عظمیٰایڈمنسٹریٹر کی تقرری کا حکمنامہ جاری نہ ہوسکا

بلدیاتی اداروں خصوصاً بلدیہ عظمیٰ کے انتظامی امور بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

بلدیاتی اداروں خصوصاً بلدیہ عظمیٰ کے انتظامی امور بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ فوٹو: فائل

سندھ حکومت نے ایس پی ایل جی او2012 کے نفاذ کے باوجود حیدرآباد کے سوا کسی بھی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری نہیں کی۔


جس کے باعث صوبے کے بلدیاتی اداروں خصوصاً بلدیہ عظمیٰ کے انتظامی امور بری طرح متاثر ہورہے ہیں تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے اگرچہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں میونسپل آفیسر کی اسامی پر متانت علی خان کی تقرری کردی تاہم تاحال ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر تاحال تقرری نہیں کی ہے، محمد حسین سید بغیر کسی حکمنامے کے ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر فرائض انجام دے رہے ہیں اس صورتحال پر بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے بھی حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر بلدیہ عظمیٰ میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کریںافسران نے سندھ حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ محمد حسین سید کو ہی ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی خواہشمند ہے تو انھی کا نوٹیفکیشن کردیا جائے۔

کیونکہ بغیرنوٹیفکیشن کے بحیثیت ایڈمنسٹریٹر کام کرنے سے ان کو نہ صرف مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ ان کی سبکی بھی ہورہی ہے، افسران یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ وہ کس حیثیت میں محمد حسین سید کے احکامات تسلیم کریں اور ان کے احکامات کی قانونی حیثیت کیا ہے، دوسری طرف ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکمنامے کے بغیر کام کرنے کے باعث محمد حسین سید اعتماد کے ساتھ کام نہیں کرپارہے ہیں، ان کی بھی خواہش ہے کہ انکی اس عہدے پر تقرری کردی جائے۔
Load Next Story