عاشورہ بم بلاسٹ تفتیشی افسران کا پراسیکیوشن سے عدم تعاون
پراسیکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ میںرپورٹ پیش کر دی، آئندہ سماعت پر کارروائی متوقع
پراسیکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ میںرپورٹ پیش کر دی، آئندہ سماعت پر کارروائی متوقع. فوٹو : فائل
شہر میں دہشت گردی کی سنگین وارداتوں کے ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں نہ ہونے کی ایک وجہ تفتیشی افسران کا پراسیکیوشن سے عدم تعاون ہے جس کا مظاہرہ عاشورہ بم بلاسٹ کیس رپورٹ کی تیاری کے دوران دیکھنے میں آیا۔
یہ رپورٹ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیار کی جا رہی ہے،28دسمبر 2009 کو عاشورہ کے جلوس میںبم بلاسٹ کے نتیجے میں 42افراد جاں بحق اور 122سے زائد زخمی ہوگئے تھے، منگل کو پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عاشورہ کیس اور اس مقدمے میں ملوث ملزمان کے فرار سے متعلق رپورٹ کی تیاری کیلیے تفتیشی افسر انسپکٹر امین کھوکھر کو بلایا،تفتیشی افسر نے پراسیکیوٹر جنرل کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے کہ ان ملزمان کے خلاف پہلے سے 7 مقدمات ہیں تاہم پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے موجود ریکارڈاور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹس کی روشنی میں جائزہ لیا تو ان ملزمان کی ہسٹری شیٹ میں13مقدمات کا اندراج تھا، پراسیکیوٹر جنرل نے جب اس بارے میں تفتیشی افسر سے استفسار کیا تو اس نے وضاحت کرنے کے بجائے انھیں ہیڈمحرر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
پراسیکیوٹر جنرل نے تفتیشی افسر کے اس ہتک آمیز رویے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا،3نومبر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوںکی کارکردگی کے جائزہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے جسٹس خلجی عارف حسین نے پراسیکیوٹر جنرل سے عاشورہ بم بلاسٹ اور سانحہ نشتر پارک کے مقدمات کے التوا کے بارے میں استفسار کیاتھا،شہادت اعوان نے انھیں بتایا کہ سانحہ نشترپارک کا مقدمہ اسپیشل پراسیکیوٹر کی علالت کے باعث جبکہ عاشور بم بلاسٹ کا مقدمہ ملزمان کے فرار کے باعث التوا کا شکار ہے، پراسیکیوٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 28دسمبر 2009کو ہونے والے دھماکے کے مقدمے میں کالعدم تنظیم کے مراد شاہ ، مرتضی عنایت ، محمد شکیب فاروقی اور وزیر علی کو گرفتارکیاگیاتھااور ان کے خلاف پریڈی تھانے میں مقدمہ درج کیاگیاتھا تاہم پولیس نے گزری تھانے میں چوری کے ایک مقدمے میں ان خطرناک ملزمان کو سٹی کورٹ میں پیش کیا۔
جہاں ان کے نامعلوم ساتھیوں نے حملہ کرکے انھیں فرار کرادیا، پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق پولیس نے تھانہ گزری کے معمولی الزامات پر مبنی مقدمے میں ان ملزمان کو غیر ذمے داری سے عدالت میں پیش کیاجس کے سبب دہشت گردی کی ایک بڑی واردات کے ملزمان فرار ہوگئے، اس کے علاوہ بھی پولیس اہم مقدمات میں پراسیکیوشن سے تعاون نہیں کرتی ،پراسیکیوٹر جنرل کی رپورٹ پر سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت پر کارروائی متوقع ہے۔
یہ رپورٹ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیار کی جا رہی ہے،28دسمبر 2009 کو عاشورہ کے جلوس میںبم بلاسٹ کے نتیجے میں 42افراد جاں بحق اور 122سے زائد زخمی ہوگئے تھے، منگل کو پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عاشورہ کیس اور اس مقدمے میں ملوث ملزمان کے فرار سے متعلق رپورٹ کی تیاری کیلیے تفتیشی افسر انسپکٹر امین کھوکھر کو بلایا،تفتیشی افسر نے پراسیکیوٹر جنرل کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے کہ ان ملزمان کے خلاف پہلے سے 7 مقدمات ہیں تاہم پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے موجود ریکارڈاور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹس کی روشنی میں جائزہ لیا تو ان ملزمان کی ہسٹری شیٹ میں13مقدمات کا اندراج تھا، پراسیکیوٹر جنرل نے جب اس بارے میں تفتیشی افسر سے استفسار کیا تو اس نے وضاحت کرنے کے بجائے انھیں ہیڈمحرر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
پراسیکیوٹر جنرل نے تفتیشی افسر کے اس ہتک آمیز رویے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا،3نومبر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوںکی کارکردگی کے جائزہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے جسٹس خلجی عارف حسین نے پراسیکیوٹر جنرل سے عاشورہ بم بلاسٹ اور سانحہ نشتر پارک کے مقدمات کے التوا کے بارے میں استفسار کیاتھا،شہادت اعوان نے انھیں بتایا کہ سانحہ نشترپارک کا مقدمہ اسپیشل پراسیکیوٹر کی علالت کے باعث جبکہ عاشور بم بلاسٹ کا مقدمہ ملزمان کے فرار کے باعث التوا کا شکار ہے، پراسیکیوٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 28دسمبر 2009کو ہونے والے دھماکے کے مقدمے میں کالعدم تنظیم کے مراد شاہ ، مرتضی عنایت ، محمد شکیب فاروقی اور وزیر علی کو گرفتارکیاگیاتھااور ان کے خلاف پریڈی تھانے میں مقدمہ درج کیاگیاتھا تاہم پولیس نے گزری تھانے میں چوری کے ایک مقدمے میں ان خطرناک ملزمان کو سٹی کورٹ میں پیش کیا۔
جہاں ان کے نامعلوم ساتھیوں نے حملہ کرکے انھیں فرار کرادیا، پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق پولیس نے تھانہ گزری کے معمولی الزامات پر مبنی مقدمے میں ان ملزمان کو غیر ذمے داری سے عدالت میں پیش کیاجس کے سبب دہشت گردی کی ایک بڑی واردات کے ملزمان فرار ہوگئے، اس کے علاوہ بھی پولیس اہم مقدمات میں پراسیکیوشن سے تعاون نہیں کرتی ،پراسیکیوٹر جنرل کی رپورٹ پر سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت پر کارروائی متوقع ہے۔