چیف جسٹس آف پاکستان کی صائب باتیں

اسپتالوں کی تعداد ضرورت کے مقابل بہت کم ہے یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا جم غفیر دکھائی دیتا ہے

پولیس کا شعبہ تمام تر حکومتی دعوؤں کے باعث ویسا مثبت تاثر پیدا نہیں کر سکا جو ہونا چاہیے فوٹو: فائل

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، جناب جسٹس انور ظہیر جمالی نے ہفتے کو جامشورو لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل ہیلتھ اینڈ سائنسز میں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں انسانی حقوق سے منافی قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہیں، انصاف معاشی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے، ریاست کی ذمے داری ہے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، 18کروڑ افراد کی صحت کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے، پاکستان کا دستور سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کو واضح کرتا ہے، دستور پاکستان کی روح سے سپریم کورٹ کی ذمے داری ہے کہ وہ مکمل انصاف فراہم کرے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے یہ نہ صرف طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں بلکہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ان کی سنگینی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہر سیاسی جماعت انتخابات کے دوران انھیں حل کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان مسائل کے حل کرنے کی جو کوششیں کی جاتی ہیں وہ اپنے حقیقی معنی و مفہوم کے لحاظ سے آٹے میں نمک کے برابر جب کہ نعروں اور دعوؤں میں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ عوام آج بھی ان مسائل کے عفریت میں پھنسے ہوئے ہیں اور حزب اختلاف حکومتی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرا کر عوام کی زیادہ سے زیادہ ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بالکل درست کہا کہ پاکستان میں صحت کا بجٹ دنیا میں سب سے کم ہے، طب اور قانون کے پیشے صرف کمائی کا ذریعہ بن چکے اور حکومتی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یوں عیاں ہوتا ہے کہ جیسے 18 کروڑ افراد کی صحت کی ذمے داری اس پر نہیں کسی اور پر عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بڑے سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ''سندھ میں غیر تعلیم یافتہ' غیر تربیت یافتہ عملہ اور جعلی ڈاکٹرز لوگوں کی جان و مال سے کھیل رہے ہیں، طب کے شعبے میں جعل سازی روکنے کے لیے مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے' ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر مراعات قلیل ہیں۔


ایک جائزے کے مطابق جنوبی ایشیا میں زچہ و بچہ کی اموات کی شرح بھی پاکستان میں سب سے زیادہ ہے'' صحت کے شعبے کی یہ حالت ہے کہ اسپتالوں کی تعداد ضرورت کے مقابل بہت کم ہے یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا جم غفیر دکھائی دیتا ہے' ایمرجنسی میں طبی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ادویات نہ ملنے کی شکایات بھی عام ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ملک بھر میں عطائی ڈاکٹروں اور حکیموں کی بھرمار ہے' متعلقہ محکمے اسے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر رہے دوسری جانب ڈاکٹرز کی فیسیں بھی عام آدمی کی گنجائش سے زیادہ ہونے کے باعث عطائیت کو فروغ مل رہا ہے۔

ڈاکٹر مریض سے فیس ضرور لے مگر جیسا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ صرف اور صرف کمائی کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے۔ صرف صحت ہی نہیں دیگر سرکاری شعبے بھی دگرگوں حالت کے باعث بہتر کارکردگی دکھانے سے قاصر ہیں۔ تعلیم کا شعبہ جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے ملک کا اہم اور بڑا شعبہ ہے وہ بھی انگنت مسائل اور مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور عوام کی اس شعبے سے مسلسل شکایات چلی آ رہی ہیں۔ ماہرین تعلیم متعدد بار اس شعبے کی بہتری کے لیے اپنی تجاویز و آرا پیش کر چکے ہیں مگر ارباب حل و عقد کی جانب سے معاملہ بیانات اور دعوؤں کی حد تک محدود دکھائی دیتا ہے اور عملی طور پر ایسی کوئی کاوش سامنے نہیں آ رہی جس سے یہ امید کی جا سکے کہ اس شعبے کو مشکلات سے نکال کر بہتری کی جانب رواں دواں کیا جا سکے۔

ناقدین یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ اس شعبے کی حالت زار دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ اس کی بہتری حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں جس کا اندازہ بجٹ میں اس شعبے کے لیے ضرورت کے مقابل بہت کم رقم مختص کرنے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے' اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ابھی تک ایڈہاک ازم کی پالیسیوں کے تحت اپنے تعلیمی فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ عدالتوں میں بھی سائلین کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ان کے لیے اذیت کا باعث بنتی ہے' عدالتوں کا تمام نظام کمپیوٹرائزڈ کرنے کے ساتھ ساتھ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی پر بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

پولیس کا شعبہ تمام تر حکومتی دعوؤں کے باعث ویسا مثبت تاثر پیدا نہیں کر سکا جو ہونا چاہیے، پولیس کے شعبے کی بہتری کے لیے لازم ہے کہ اسے سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جائے۔ شہریوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ضرور ہے مگر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ جیسے ریاست ان ذمے داریوں سے بااحسن عہدہ برآ نہیں ہو رہی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے حکومت کو خلوص نیت سے انھیں حل کرنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے۔
Load Next Story