مصر میں افریقی ملکوں کی سربراہ کانفرنس
افریقی ممالک میں انتشار اور غربت موجود ہے لیکن وہاں ترقی کی خواہش بھی جنم لے رہی ہے
اب اقتصادی بلاکس کا دور ہے، سارک تنظیم کو بھی اقتصادی بلاک میں تبدیل کیا جائے تو کابل سے لے کر رنگون تک تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے، فوٹو : رائٹرز
براعظم افریقہ کے لیڈروں کی مصر کے شہر شرم الشیخ میں اقتصادی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ خطے میں سیکیورٹی کے خدشات کے باوجود افریقی ممالک میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے تا کہ یہ پسماندہ براعظم بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہوسکے کیونکہ اقتصادی ترقی سیکیورٹی خدشات کو کم کرنے میں بھی مدد دے گی۔ بحر احمر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں افریقی ممالک کے سربراہوں کے ہمراہ ان کے وفود کے بارہ سو سے زائد مندوبین بھی شریک ہوئے۔
اس کانفرنس کا بنیادی مقصد نجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ براعظم افریقہ کے ممالک کی تعداد 26 ہے جب کہ ''افریقہ 2016'' نامی اس کانفرنس میں اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پورے براعظم میں آزادانہ تجارت کو کی راہ ہموار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے افریقی ممالک کی ایک ''مشترکہ منڈی'' قائم کرنے کی تجویز گزشتہ سال ہونے والی کانفرنس میں دی گئی تھی۔ ''افریقہ 2016'' کانفرنس میں افریقی مشترکہ منڈی کے قیام میں رکاوٹوں کا جائزہ لے کر انھیں دور کرنے کے بارے میں تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
یورپی مشترکہ منڈی کی کامیابی سے دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اسی نوعیت کی مشترکہ منڈیاں قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے لیے یورپی یونین کے تجربات سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ براعظم افریقہ کے ممالک کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک پر طویل عرصے تک یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں کا عمل دخل رہا ہے جنہوں نے اس براعظم کے وسائل کو بیدردی سے لوٹ کر اپنے ممالک کو ترقی کے عروج پر پہنچایا اور افریقہ کے ممالک غربت و بیروز گاری پھیل گئی جس کی وجہ سے وہاں پُر تشدد تحریکیں پیدا ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔
موجودہ حالات میں سیکیورٹی کے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے خطے کے اقتصادی حالات بہتر ہونے سے سیکیورٹی خدشات پر قابو پایا جا سکے گا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افریقی ممالک کی اقتصادی نمو کی شرح 4 فیصد سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود عالمی تجارت میں افریقہ کا حصہ دو فیصد سے بھی کم ہے۔ ''افریقہ 2016'' کانفرنس کا افتتاح مصری صدر جنرل عبدالفتح السیسی نے کیا۔
براعظم افریقہ انگڑائی لے رہا ہے، افریقی ممالک میں انتشار اور غربت موجود ہے لیکن وہاں ترقی کی خواہش بھی جنم لے رہی ہے، براعظم افریقہ میں کئی ممالک ایسے ہیں جو چند برس پہلے تک بدترین غربت اور خانہ جنگی کا شکار تھے لیکن اب وہ تیزی سے ترقیکرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں، وہاں سیاسی استحکام بھی پیدا ہوا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے، ان ممالک میں ایتھوپیا، یوگنڈا اور کانگو شامل ہیں، اس کے علاوہ نائیجیریا، گھانا، موزمبیق اور سینگال بھی بہتر ممالک میں شامل ہیں، جنوبی افریقہ، بوٹسوانا وغیرہ خاصے ترقی یافتہ ہیں، امریکا، چین اور یورپی ممالک کے سرمایہ کاروں کی نظریں بھی افریقہ پر مرکوز ہیں، ایسے حالات میں افریقی ممالک کے مقامی سرمایہ کار بھی متحرک ہو گئے ہیں۔
مصر کے صدر السیسی نے تجویز دی ہے کہ تمام افریقی ممالک میں براہ راست تجارت کے راستے کھولنے چاہئیں، اس مقصد کے لیے صرف سرکاری شعبے میں ہی نہیں بلکہ نجی شعبے کے کاروباری اور تاجروں کو بھی پرجوش انداز میں اپنی ذمے داریاں نبھانی چاہیے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کی قیادت کو دنیا میں جاری ان تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے، اب اقتصادی بلاکس کا دور ہے، سارک تنظیم کو بھی اقتصادی بلاک میں تبدیل کیا جائے تو کابل سے لے کر رنگون تک تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔
اس کانفرنس کا بنیادی مقصد نجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ براعظم افریقہ کے ممالک کی تعداد 26 ہے جب کہ ''افریقہ 2016'' نامی اس کانفرنس میں اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پورے براعظم میں آزادانہ تجارت کو کی راہ ہموار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے افریقی ممالک کی ایک ''مشترکہ منڈی'' قائم کرنے کی تجویز گزشتہ سال ہونے والی کانفرنس میں دی گئی تھی۔ ''افریقہ 2016'' کانفرنس میں افریقی مشترکہ منڈی کے قیام میں رکاوٹوں کا جائزہ لے کر انھیں دور کرنے کے بارے میں تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
یورپی مشترکہ منڈی کی کامیابی سے دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اسی نوعیت کی مشترکہ منڈیاں قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے لیے یورپی یونین کے تجربات سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ براعظم افریقہ کے ممالک کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک پر طویل عرصے تک یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں کا عمل دخل رہا ہے جنہوں نے اس براعظم کے وسائل کو بیدردی سے لوٹ کر اپنے ممالک کو ترقی کے عروج پر پہنچایا اور افریقہ کے ممالک غربت و بیروز گاری پھیل گئی جس کی وجہ سے وہاں پُر تشدد تحریکیں پیدا ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔
موجودہ حالات میں سیکیورٹی کے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے خطے کے اقتصادی حالات بہتر ہونے سے سیکیورٹی خدشات پر قابو پایا جا سکے گا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افریقی ممالک کی اقتصادی نمو کی شرح 4 فیصد سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود عالمی تجارت میں افریقہ کا حصہ دو فیصد سے بھی کم ہے۔ ''افریقہ 2016'' کانفرنس کا افتتاح مصری صدر جنرل عبدالفتح السیسی نے کیا۔
براعظم افریقہ انگڑائی لے رہا ہے، افریقی ممالک میں انتشار اور غربت موجود ہے لیکن وہاں ترقی کی خواہش بھی جنم لے رہی ہے، براعظم افریقہ میں کئی ممالک ایسے ہیں جو چند برس پہلے تک بدترین غربت اور خانہ جنگی کا شکار تھے لیکن اب وہ تیزی سے ترقیکرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں، وہاں سیاسی استحکام بھی پیدا ہوا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے، ان ممالک میں ایتھوپیا، یوگنڈا اور کانگو شامل ہیں، اس کے علاوہ نائیجیریا، گھانا، موزمبیق اور سینگال بھی بہتر ممالک میں شامل ہیں، جنوبی افریقہ، بوٹسوانا وغیرہ خاصے ترقی یافتہ ہیں، امریکا، چین اور یورپی ممالک کے سرمایہ کاروں کی نظریں بھی افریقہ پر مرکوز ہیں، ایسے حالات میں افریقی ممالک کے مقامی سرمایہ کار بھی متحرک ہو گئے ہیں۔
مصر کے صدر السیسی نے تجویز دی ہے کہ تمام افریقی ممالک میں براہ راست تجارت کے راستے کھولنے چاہئیں، اس مقصد کے لیے صرف سرکاری شعبے میں ہی نہیں بلکہ نجی شعبے کے کاروباری اور تاجروں کو بھی پرجوش انداز میں اپنی ذمے داریاں نبھانی چاہیے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کی قیادت کو دنیا میں جاری ان تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے، اب اقتصادی بلاکس کا دور ہے، سارک تنظیم کو بھی اقتصادی بلاک میں تبدیل کیا جائے تو کابل سے لے کر رنگون تک تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔