جب تک…
سیاسی نظریات کوئی جامد عنصر نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں،
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ISLAMABAD:
سیاسی نظریات کوئی جامد عنصر نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، خاص طور پر ایسے نظریات جو مفروضات پر مبنی ہوتے ہیں، ان میں تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے۔ مثلاً انقلاب روس، انقلاب چین کے بعد ساری دنیا میں انقلاب کا جو تصور تھا وہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا رہا، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آیا کہ روس، چین سمیت سارا سوشلسٹ بلاک، ان انقلابوں کی اساس سوشلزم ہی سے منحرف ہو گیا، یہی نہیں بلکہ اس بلاک نے سرمایہ دارانہ منڈی کی معیشت اپنا لی۔
اس حیرت انگیز تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں جن میں خارجی ہی نہیں داخلی بھی ہیں، لیکن سوشلزم اور مارکسزم کی عمارت جن معاشی تضادات پر کھڑی کی گئی تھی یعنی طبقاتی استحصال وہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ ساری دنیا اور دنیا کے 7 ارب غریب انسان پہلے کے مقابلے میں اب اور زیادہ معاشی استحصال کا شکار ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انقلاب روس اور انقلاب چین جیسے انقلابات ساری دنیا میں برپا ہوتے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین اور نظریہ سازوں نے جمہوریت کے تصور کو آگے لا کر انقلابات کا نہ صرف راستہ روک دیا بلکہ یہ پروپیگنڈا اس شدت کے ساتھ کیا کہ جمہوریت سیاسی تاریخ کی آخری منزل ہے اور اس کے بغیر دنیا کا گزارا ممکن نہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں رائج جمہوریت، سرمایہ دارانہ استحصال کے بدترین بدنما چہرے پر ڈالا گیا ایک ایسا حسین نقاب ہے جس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی بدصورتیوں کو چھپانا ہے۔
غریب عوام کے معاشی استحصال کی سب سے بڑی وجہ نجی ملکیت کا لامحدود حق اور چند ہاتھوں میں قومی دولت کا ارتکاز ہے۔ اس عوام اور انسانیت دشمن ارتکاز زر یا لامحدود نجی ملکیت کے حق کو تحفظ دینے کے لیے ہر جمہوری ملک میں آئین کو وسیلہ بنا لیا گیا اور نجی ملکیت کے حق کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس شاطرانہ بندوبست کو عوام کی نظروں سے چھپانے کے لیے یہ ترکیبیں استعمال کی گئیں کہ اس حق کو پوری قوم کا حق کہا گیا، یعنی نجی ملکیت کا لامحدود حق ہر ملک کے تمام عوام کو حاصل ہے جب کہ 90 فیصد سے زیادہ عوام کی نجی ملکیت صدیاں گزرنے کے باوجود دو کمروں کے کچے پکے مکان اور دو وقت کی روٹی کے لیے ناکافی وہ اجرت یا تنخواہ ہے جو دن بھر کی سخت محنت کے بعد انھیں حاصل ہوتی ہے، جب کہ دو فیصد سے کم اشرافیہ ملک کی 80 فیصد سے زیادہ نجی ملکیت کی مالک بنی ہوئی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طبقاتی تضاد اور معاشی نا انصافی ختم ہو گئی ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کسی دانشوری کی ضرورت نہیں بلکہ اس سوال کا جواب ہر شہر، ہر گاؤں، ہر گلی، ہر محلے میں موجود ہے۔ کیا ان منہ بولتے حقائق کی موجودگی میں اس فراڈ کو تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ معاشی استحصال کو روکنے والا نظام ختم ہو گیا یا اپنی موت آپ مر گیا؟ استحصالی لوٹ مار کے نظام کے تحفظ اور اس کو لاحق خطرات کے ازالے کے لیے اس نظام کے مفکرین ہمیشہ نئے نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
بیسویں صدی کی دوسری نصف صدی میں جب سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا اور تاریخی دشمن نظریہ سوشلزم ساری دنیا میں بے حد مقبول ہو رہا تھا تو سرمایہ داری کے محافظوں نے دو بڑے حربے استعمال کیے، ایک یہ کہ دنیا کے سر پر دوسری عالمی جنگ مسلط کر کے روس کو اس کی نظریاتی ذمے داریوں سے ہٹانے کی کوشش کی، دوسرا بڑا حربہ یہ استعمال کیا کہ دنیا بھر کے سادہ لوح عوام خاص طور پر مسلم عوام میں اربوں روپے لگا کر یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ سوشلزم کا مقصد یا مطلب لادینیت ہے۔ بدقسمتی سے اس پروپیگنڈے کو موثر بنانے کے لیے ان مذہبی اکابرین کو استعمال کیا گیا، جن کا تعلق ان ہی طبقات سے تھا جو سب سے زیادہ سرمایہ دارانہ نظام کا شکار تھے۔
اس شدید پروپیگنڈے سے سادہ لوح اور مذہب سے محبت کرنے والے عوام بری طرح متاثر ہوئے۔ اس ساز ش کے علاوہ اپنی پٹھو حکومتوں کے ذریعے سوشلزم کی حامی جماعتوں اور کارکنوں کے خلاف ریاستی مشینری کا بے رحمانہ استعمال کیا گیا۔ اگرچہ ان ہتھیاروں سے وقتی طور پر سوشلزم کا راستہ روک دیا گیا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا طبقاتی تضادات کو ختم کیے بغیر سوشلزم کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا ترنت جواب یہ دیا جاتا ہے کہ سوشلزم تو خود اپنی موت آپ مر گیا۔ ایسی بات وہ لوگ کرتے ہیں جو طبقاتی تضادات کو سمجھنے کے اہل نہیں ہوتے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشلسٹ بلاک کے سوشلزم سے انحراف کے بعد سوشلزم کی بات کرنا غیر منطقی نظر آتا ہے، لیکن کیا اس حقیقت سے اہل علم، اہل دانش انکار کر سکتے ہیں کہ ''خیال است و محال است و جنوں'' کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے؟ ہم بار بار اس حقیقت کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے کارپوریٹ گلوبلائزیشن کے بعد طبقاتی استحصال میں جو شدت آتی جا رہی ہے اس کی وجہ دنیا بھر کے عوام میں بے چینی اور اشتعال بڑھتا جا رہا ہے۔
اس خطرناک صورت حال سے سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین نے اپنے پٹارے سے سبز رنگ کا جو خطرناک سانپ نکالا ہے اسے دنیا میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے نام سے روشناس کرایا جا رہا ہے اور ہر طرف بے رحمانہ قتل و غارت کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کرا دیا گیا ہے کہ غریب عوام اپنی بھوک پیاس بھول کر اپنی جانوں کی حفاظت میں غلطاں نظر آ رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک وقتی کامیابی ہے لیکن، کیا وہ دنیا کے 7 ارب مشتعل اور طبقاتی استحصال کا شکار عوام کو یہ احمق کب تک باہر آنے سے روک سکتے ہیں؟
ہم نے اپنے کالم کا آغاز ان جملوں سے کیا تھا کہ ''سیاسی نظریات کوئی جامد عنصر نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں'' اس حقیقت کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے کہ سیاسی نظریات بہتر سے زیادہ بہتر کی طرف سفر کرتے ہیں۔ یہ کبھی حال سے ماضی کی طرف نئے سے پرانے کی طرف سفر نہیں کرتے۔
سوشلزم انسانوں کا تخفیف کیا ہوا ایک نظریہ ہے، اس میں خامیاں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظریے کے حقیقی علمبردار اس کی خامیوں خرابیوں کوتاہیوں کو دور کر کے اسے حالات حاضرہ کی ضرورتوں کے مطابق بنائیں لیکن اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہ کریں کہ یہ نظریہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک اس کی اساس طبقاتی تضادات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ حیرت ہے کہ ترقی پسند دانشور مفکر اور اہل علم اس زندہ حقیقت کو پس پشت ڈال کر مایوسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔
سیاسی نظریات کوئی جامد عنصر نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، خاص طور پر ایسے نظریات جو مفروضات پر مبنی ہوتے ہیں، ان میں تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے۔ مثلاً انقلاب روس، انقلاب چین کے بعد ساری دنیا میں انقلاب کا جو تصور تھا وہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا رہا، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آیا کہ روس، چین سمیت سارا سوشلسٹ بلاک، ان انقلابوں کی اساس سوشلزم ہی سے منحرف ہو گیا، یہی نہیں بلکہ اس بلاک نے سرمایہ دارانہ منڈی کی معیشت اپنا لی۔
اس حیرت انگیز تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں جن میں خارجی ہی نہیں داخلی بھی ہیں، لیکن سوشلزم اور مارکسزم کی عمارت جن معاشی تضادات پر کھڑی کی گئی تھی یعنی طبقاتی استحصال وہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ ساری دنیا اور دنیا کے 7 ارب غریب انسان پہلے کے مقابلے میں اب اور زیادہ معاشی استحصال کا شکار ہیں۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انقلاب روس اور انقلاب چین جیسے انقلابات ساری دنیا میں برپا ہوتے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین اور نظریہ سازوں نے جمہوریت کے تصور کو آگے لا کر انقلابات کا نہ صرف راستہ روک دیا بلکہ یہ پروپیگنڈا اس شدت کے ساتھ کیا کہ جمہوریت سیاسی تاریخ کی آخری منزل ہے اور اس کے بغیر دنیا کا گزارا ممکن نہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں رائج جمہوریت، سرمایہ دارانہ استحصال کے بدترین بدنما چہرے پر ڈالا گیا ایک ایسا حسین نقاب ہے جس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی بدصورتیوں کو چھپانا ہے۔
غریب عوام کے معاشی استحصال کی سب سے بڑی وجہ نجی ملکیت کا لامحدود حق اور چند ہاتھوں میں قومی دولت کا ارتکاز ہے۔ اس عوام اور انسانیت دشمن ارتکاز زر یا لامحدود نجی ملکیت کے حق کو تحفظ دینے کے لیے ہر جمہوری ملک میں آئین کو وسیلہ بنا لیا گیا اور نجی ملکیت کے حق کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔ اس شاطرانہ بندوبست کو عوام کی نظروں سے چھپانے کے لیے یہ ترکیبیں استعمال کی گئیں کہ اس حق کو پوری قوم کا حق کہا گیا، یعنی نجی ملکیت کا لامحدود حق ہر ملک کے تمام عوام کو حاصل ہے جب کہ 90 فیصد سے زیادہ عوام کی نجی ملکیت صدیاں گزرنے کے باوجود دو کمروں کے کچے پکے مکان اور دو وقت کی روٹی کے لیے ناکافی وہ اجرت یا تنخواہ ہے جو دن بھر کی سخت محنت کے بعد انھیں حاصل ہوتی ہے، جب کہ دو فیصد سے کم اشرافیہ ملک کی 80 فیصد سے زیادہ نجی ملکیت کی مالک بنی ہوئی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طبقاتی تضاد اور معاشی نا انصافی ختم ہو گئی ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کسی دانشوری کی ضرورت نہیں بلکہ اس سوال کا جواب ہر شہر، ہر گاؤں، ہر گلی، ہر محلے میں موجود ہے۔ کیا ان منہ بولتے حقائق کی موجودگی میں اس فراڈ کو تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ معاشی استحصال کو روکنے والا نظام ختم ہو گیا یا اپنی موت آپ مر گیا؟ استحصالی لوٹ مار کے نظام کے تحفظ اور اس کو لاحق خطرات کے ازالے کے لیے اس نظام کے مفکرین ہمیشہ نئے نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
بیسویں صدی کی دوسری نصف صدی میں جب سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا اور تاریخی دشمن نظریہ سوشلزم ساری دنیا میں بے حد مقبول ہو رہا تھا تو سرمایہ داری کے محافظوں نے دو بڑے حربے استعمال کیے، ایک یہ کہ دنیا کے سر پر دوسری عالمی جنگ مسلط کر کے روس کو اس کی نظریاتی ذمے داریوں سے ہٹانے کی کوشش کی، دوسرا بڑا حربہ یہ استعمال کیا کہ دنیا بھر کے سادہ لوح عوام خاص طور پر مسلم عوام میں اربوں روپے لگا کر یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ سوشلزم کا مقصد یا مطلب لادینیت ہے۔ بدقسمتی سے اس پروپیگنڈے کو موثر بنانے کے لیے ان مذہبی اکابرین کو استعمال کیا گیا، جن کا تعلق ان ہی طبقات سے تھا جو سب سے زیادہ سرمایہ دارانہ نظام کا شکار تھے۔
اس شدید پروپیگنڈے سے سادہ لوح اور مذہب سے محبت کرنے والے عوام بری طرح متاثر ہوئے۔ اس ساز ش کے علاوہ اپنی پٹھو حکومتوں کے ذریعے سوشلزم کی حامی جماعتوں اور کارکنوں کے خلاف ریاستی مشینری کا بے رحمانہ استعمال کیا گیا۔ اگرچہ ان ہتھیاروں سے وقتی طور پر سوشلزم کا راستہ روک دیا گیا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا طبقاتی تضادات کو ختم کیے بغیر سوشلزم کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا ترنت جواب یہ دیا جاتا ہے کہ سوشلزم تو خود اپنی موت آپ مر گیا۔ ایسی بات وہ لوگ کرتے ہیں جو طبقاتی تضادات کو سمجھنے کے اہل نہیں ہوتے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشلسٹ بلاک کے سوشلزم سے انحراف کے بعد سوشلزم کی بات کرنا غیر منطقی نظر آتا ہے، لیکن کیا اس حقیقت سے اہل علم، اہل دانش انکار کر سکتے ہیں کہ ''خیال است و محال است و جنوں'' کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے؟ ہم بار بار اس حقیقت کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے کارپوریٹ گلوبلائزیشن کے بعد طبقاتی استحصال میں جو شدت آتی جا رہی ہے اس کی وجہ دنیا بھر کے عوام میں بے چینی اور اشتعال بڑھتا جا رہا ہے۔
اس خطرناک صورت حال سے سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین نے اپنے پٹارے سے سبز رنگ کا جو خطرناک سانپ نکالا ہے اسے دنیا میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے نام سے روشناس کرایا جا رہا ہے اور ہر طرف بے رحمانہ قتل و غارت کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کرا دیا گیا ہے کہ غریب عوام اپنی بھوک پیاس بھول کر اپنی جانوں کی حفاظت میں غلطاں نظر آ رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک وقتی کامیابی ہے لیکن، کیا وہ دنیا کے 7 ارب مشتعل اور طبقاتی استحصال کا شکار عوام کو یہ احمق کب تک باہر آنے سے روک سکتے ہیں؟
ہم نے اپنے کالم کا آغاز ان جملوں سے کیا تھا کہ ''سیاسی نظریات کوئی جامد عنصر نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں'' اس حقیقت کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے کہ سیاسی نظریات بہتر سے زیادہ بہتر کی طرف سفر کرتے ہیں۔ یہ کبھی حال سے ماضی کی طرف نئے سے پرانے کی طرف سفر نہیں کرتے۔
سوشلزم انسانوں کا تخفیف کیا ہوا ایک نظریہ ہے، اس میں خامیاں کوتاہیاں ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظریے کے حقیقی علمبردار اس کی خامیوں خرابیوں کوتاہیوں کو دور کر کے اسے حالات حاضرہ کی ضرورتوں کے مطابق بنائیں لیکن اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہ کریں کہ یہ نظریہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک اس کی اساس طبقاتی تضادات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ حیرت ہے کہ ترقی پسند دانشور مفکر اور اہل علم اس زندہ حقیقت کو پس پشت ڈال کر مایوسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔