سزائیں دینا عدالت کا کام ہے فورسز کا نہیں پشاور ہائیکورٹ
آرمی چیف خود کہتے ہیں ملزم کو مجرم نہیں کہنا چاہیے، پھر بیگناہ افراد کو چھوڑا جائے آخری موقع دے رہے ہیں، عدالت
آرمی چیف خود کہتے ہیں ملزم کو مجرم نہیں کہنا چاہیے، پھر بیگناہ افراد کو چھوڑا جائے آخری موقع دے رہے ہیں، عدالت فوٹو: فائل
پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد نے کہاہے کہ لاپتہ افراد کامسئلہ اب حل ہوناچاہیے۔
آرمی چیف خودکہتے ہیں کہ ملزم کو مجرم نہیںکہناچاہیے تولاپتہ افرادمیںجومجرم ہیںان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جبکہ جوبیگناہ ہیںانھیںچھوڑاجائےتین،تین،چار،چارسال سے فوج کے زیرحراست لوگ پڑے ہوئے ہیںاب انکوانصاف ملناچاہئے،57لاپتہ افرادکیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میںچیف جسٹس نے کہاکہ یہ آخری موقع ہے، دوسری صورت میںقانونی کارروائی کی جائیگی، سزائیں دیناعدالت کاکام ہے سیکیورٹی فورسزکانہیں ہے۔
انھوںنے حساس اداروںکوآخری وارننگ دیتے ہوئے ہدایات جاری کیںکہ تمام ایجنسیاںاورچیف سیکریٹری، پولیٹیکل ایجنٹس اورپولیس کامشترکہ اجلاس طلب کرکے عدالت عالیہ کے سابق فیصلے کی روشنی میںلاپتہ افرادکی درجہ بندی کرکے نئی فہرستیں 4 دسمبرتک پیش کی جائیں، پولیس حکام کوبھی آخری وارننگ دے رہے ہیں کہ وہ غیرقانونی حراستوں کاسلسلہ فوری طور پربندکردیں ورنہ فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے۔
دریں اثناہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میںوفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ملک کے دیگرصوبوں میں تعینات ایف سی فورس کی واپسی پر رضامندی کا اظہار کردیاہے، ڈپٹی سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ فاٹا سمیت دیگرعلاقوں میں آرمی کیساتھ تعینات50فیصد فورس، کراچی اور بلتستان میںتعینات نفری اوراسلام آباد میںموجود 20پلاٹونزکوواپس کیا جارہاہے۔
آرمی چیف خودکہتے ہیں کہ ملزم کو مجرم نہیںکہناچاہیے تولاپتہ افرادمیںجومجرم ہیںان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جبکہ جوبیگناہ ہیںانھیںچھوڑاجائےتین،تین،چار،چارسال سے فوج کے زیرحراست لوگ پڑے ہوئے ہیںاب انکوانصاف ملناچاہئے،57لاپتہ افرادکیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میںچیف جسٹس نے کہاکہ یہ آخری موقع ہے، دوسری صورت میںقانونی کارروائی کی جائیگی، سزائیں دیناعدالت کاکام ہے سیکیورٹی فورسزکانہیں ہے۔
انھوںنے حساس اداروںکوآخری وارننگ دیتے ہوئے ہدایات جاری کیںکہ تمام ایجنسیاںاورچیف سیکریٹری، پولیٹیکل ایجنٹس اورپولیس کامشترکہ اجلاس طلب کرکے عدالت عالیہ کے سابق فیصلے کی روشنی میںلاپتہ افرادکی درجہ بندی کرکے نئی فہرستیں 4 دسمبرتک پیش کی جائیں، پولیس حکام کوبھی آخری وارننگ دے رہے ہیں کہ وہ غیرقانونی حراستوں کاسلسلہ فوری طور پربندکردیں ورنہ فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے۔
دریں اثناہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میںوفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ملک کے دیگرصوبوں میں تعینات ایف سی فورس کی واپسی پر رضامندی کا اظہار کردیاہے، ڈپٹی سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ فاٹا سمیت دیگرعلاقوں میں آرمی کیساتھ تعینات50فیصد فورس، کراچی اور بلتستان میںتعینات نفری اوراسلام آباد میںموجود 20پلاٹونزکوواپس کیا جارہاہے۔