پیرول پر کسی خطرناک قیدی کو رہا نہیں کیا سندھ حکومت

واضح کیا جائے کہ 2003ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں تھی اس لیے بدنیتی کے الفاظ مناسب نہیں

واضح کیا جائے کہ 2003ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں تھی اس لیے بدنیتی کے الفاظ مناسب نہیں،رہنمائوں کا وزیر اعلیٰ کو مشورہ. فوٹو راشد اجمیری

سندھ حکومت نے کراچی بد امنی کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کیے گئے مختصرفیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کافیصلہ کرلیا ہے۔

وزیراعلی نے ملزمان کے پیرول پررہاکرنے اورانھیں دوبارہ گرفتارنہ کرنے کے ذمے دارافسران کا تعین کرکے ان کے متعلق بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، اس ضمن میں حکمت عملی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ جلد ہی وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس منعقد کریں گے جس میں سیکریٹری داخلہ،آئی جی سندھ پولیس، پراسیکیوٹر جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹری قانون سمیت دیگر ماہرین شرکت کریں گے ۔

کراچی بد امنی کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری مختصر فیصلے پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے شدید تحفظات اورخدشات کااظہارکرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کومشورہ دیا ہے کہ سندھ حکومت فوری طور پرسپریم کورٹ میں اپنا واضح موقف پیش کرے اس طرح کے فیصلے پیپلزپارٹی کی ساکھ کونقصان پہنچاسکتے ہیں اس لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکرکے واضح کیاجائے کہ 2003ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہیں تھی اس لیے بدنیتی کے الفاظ مناسب نہیں عدالت چاہے تواس وقت کے وزیراعلیٰ ڈاکٹرارباب غلام رحیم کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کرے۔ سندھ حکومت عملدرآمد کویقینی بنائے گی۔


پارٹی رہنماؤں نے اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے غلط تاثر پیدا ہورہا ہے حالانکہ موجودہ سندھ حکومت نے کسی خطرناک قیدی کو پے رول پررہا ہی نہیں کیاہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے منگل کی شام ساڑھے 8 بجے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اس ضمن میں اجلاس بلایاتھا تاہم وزیراعظم کی کراچی آمد کے باعث اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا۔ توقع ہے کہ جلد ہی یہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ 2003 ء میں تعینات افسران کے بارے میں رپورٹ پیش کی جائے اور بتایا جائے کہ پے رول پر رہائی کے قواعد پر عملدرآمد کیا گیا یا نہیں ؟۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو رپورٹ میں بتایا جائے گا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے پے رول پر رہائی کے احکامات کے بعد متعلقہ پولیس افسر کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ ملزمان کے ساتھ نفری تعینات کرکے ہر ماہ ان کی حاضری کو یقینی بنائے اورغیرحاضری کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو تحریری طور پرآگاہ کرے لیکن کسی پولیس افسر نے اس ضمن میں کوئی خط محکمہ داخلہ کو ارسال نہیں کیاہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ سندھ حکومت نے گڈکنڈٹ کی بنیاد پر بھی 193 ملزمان کو پے رول پر رہا کیا ہے ان میں سے 168 ملزمان اپنی سزائیں مکمل کرچکے ہیں جبکہ 25 ملزمان مسلسل متعلقہ پولیس افسران کے پاس حاضریاں لگا رہے ہیں جن کے بارے میں تحریری طور پر پولیس حکام نے محکمہ داخلہ کوآگاہ کیا ہے ۔

جبکہ 2003-04 میں پے رول پر رہا کیے گئے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ مذکورہ ملزمان کے حوالے سے متعلقہ پولیس افسران خاموش ہیں اور تفصیلات پیش کرنے سے بھی گریزکیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ 2002 ء کے بعد قائم ہونے والی صوبائی حکومت میں دو وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اورعلی محمد مہر نے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالی جبکہ صوبائی وزرائے داخلہ اور مشیران میں آفتاب شیخ ، وسیم اختر ، رؤف صدیقی اور سردار احمد شامل رہے اس کے علاوہ افسران میں بریگیڈیئر غلام محمد محترم،انوارحیدر، بریگیڈیئرمختاراحمد نے سیکریٹری داخلہ کی حیثیت سے فرائض انجام دیے جبکہ بریگیڈیئر نثار مہر اور بریگیڈیئر ایاز مغنی نے آئی جی جیل کے فرائض انجام دیے تھے۔

Recommended Stories

Load Next Story