بھارت اندرونی معاملات پر غور کرے
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کی تحریک آزادی دبانےکے لیے ظلم و ستم کا ہر ممکن حربہ استعمال کر چکی ہے
بھارتی حکومت اور میڈیا کو پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات کا جائزہ لینا چاہیے۔ فوٹو:فائل
KABUL:
چند روز قبل مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد نے سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا جس کے بعد حملہ آوروں اور بھارتی فوج میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جس میں دو کیپٹن سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔ تین روز کی مسلسل لڑائی کے بعد بھارتی فوج نے سرکاری عمارت کو حملہ آوروں سے چھڑانے کا دعویٰ کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ایک طویل عرصے سے کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں' اس جنگ میں انھوں نے لاتعداد قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔اس لیے یہاں بھارتی فوج اور اداروں پر حملے ہوتے رہتے ہیں،اب مقبوضہ کشمیر میں سرکاری عمارت پر کن لوگوں نے قبضہ کیا ابھی تک اس کی معلومات سامنے نہیں آئیں لیکن بھارتی میڈیا نے روایتی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا جب بھی بھارت میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو بھارتی حکومتی ارکان اور میڈیا بلا ثبوت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں جب پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا تو بھی اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا گیا' پاکستان نے اس واقعے کی تحقیقات میں بھارتی حکومت سے بھرپور تعاون کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستانی ٹیم کو مزید تحقیقات کے لیے بھارت آنے کی اجازت دی جائے لیکن بھارتی حکومت ابھی تک اس سلسلے میں کوئی مثبت جواب نہیں دے رہی بلکہ جو بیانات سامنے آ رہے ہیں اس کے مطابق پاکستانی ٹیم کو بھارت آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں،جس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ پٹھان کوٹ پر حملے میں داخلی سطح پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ملوث ہو سکتی ہیں۔
گزشتہ کچھ روز سے ہریانہ میں جاٹ برادری کے ارکان ملازمتوں میں اپنا کوٹہ بڑھانے کے لیے بھی مظاہرہ کر رہے ہیں اور حکومت ان کے مطالبات ماننے کے بجائے ان کے خلاف لاٹھی اور گولی کا استعمال کر رہی ہے جس سے متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے متعدد علاقوں میں آزادی کی بہت سی تحریکیں چل رہی ہیں جو حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد بھی کر رہی ہیں۔ سکھ برادری بھی علیحدگی کے لیے تحریک چلا رہی ہے، سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل بھی انھی تحریکوں کے زیر اثر ہوا تھا اس کے علاوہ راجیو گاندھی کا قتل بھی علیحدگی پسندوں کی کارروائی تھی۔ لہٰذا ممکن ہے کہ بھارت میں علیحدگی پسندوں کے آپس میں رابطے ہوں اور وہ تخریبی کارروائیوں میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہوں۔
اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب مقبوضہ کشمیر میں سرکاری عمارت پر کن لوگوں نے حملہ کیا اور ان کے مقاصد کیا تھے' اس واقعہ کی تحقیقات تو ہوتی رہے گی لیکن بھارتی میڈیا اور حکومتی ارکان کو ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی الفور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع نہیں کر دینا چاہیے۔ پاکستانی حکومت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ہے اور وہ اپنی سرزمین کسی بھی صورت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
بھارتی حکومت کو بھی ادراک ہو چکا ہے کہ بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں پاکستانی حکومت کسی بھی سطح پر ملوث نہیں یہ انفرادی طور پر انتہا پسند قوتوں کی کارروائی ہے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خطے میں داعش کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث پاک بھارت سرحدوں پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے اس صورت میں دونوں ملکوں کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کے لیے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کی تحریک آزادی دبانے کے لیے ظلم و ستم کا ہر ممکن حربہ استعمال کر چکی ہے' اب تک ہزاروں کشمیری نوجوان آزادی کی اس تحریک میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اس کے علاوہ بھارتی حکومت اپنے ہاں یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے خلاف بھی کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آتی جس کے باعث وہاں بھارتی سرکار کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
بھارتی حکومت کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس کے ملک میں آئے دن دہشت گردی کے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں جب تک ان کے اصل اسباب دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ان حملوں کو روکنا مشکل امر ہے، آزادی کے نام پر تحریکیں چلانے والے نوجوان اپنے مقصد کے حصول کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا بھارتی حکومت اور میڈیا کو پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات کا جائزہ لینا چاہیے اور داخلی سطح ہی پر ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
چند روز قبل مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد نے سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا جس کے بعد حملہ آوروں اور بھارتی فوج میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جس میں دو کیپٹن سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔ تین روز کی مسلسل لڑائی کے بعد بھارتی فوج نے سرکاری عمارت کو حملہ آوروں سے چھڑانے کا دعویٰ کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ایک طویل عرصے سے کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں' اس جنگ میں انھوں نے لاتعداد قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔اس لیے یہاں بھارتی فوج اور اداروں پر حملے ہوتے رہتے ہیں،اب مقبوضہ کشمیر میں سرکاری عمارت پر کن لوگوں نے قبضہ کیا ابھی تک اس کی معلومات سامنے نہیں آئیں لیکن بھارتی میڈیا نے روایتی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا جب بھی بھارت میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو بھارتی حکومتی ارکان اور میڈیا بلا ثبوت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں جب پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا تو بھی اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا گیا' پاکستان نے اس واقعے کی تحقیقات میں بھارتی حکومت سے بھرپور تعاون کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستانی ٹیم کو مزید تحقیقات کے لیے بھارت آنے کی اجازت دی جائے لیکن بھارتی حکومت ابھی تک اس سلسلے میں کوئی مثبت جواب نہیں دے رہی بلکہ جو بیانات سامنے آ رہے ہیں اس کے مطابق پاکستانی ٹیم کو بھارت آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں،جس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ پٹھان کوٹ پر حملے میں داخلی سطح پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ملوث ہو سکتی ہیں۔
گزشتہ کچھ روز سے ہریانہ میں جاٹ برادری کے ارکان ملازمتوں میں اپنا کوٹہ بڑھانے کے لیے بھی مظاہرہ کر رہے ہیں اور حکومت ان کے مطالبات ماننے کے بجائے ان کے خلاف لاٹھی اور گولی کا استعمال کر رہی ہے جس سے متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے متعدد علاقوں میں آزادی کی بہت سی تحریکیں چل رہی ہیں جو حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد بھی کر رہی ہیں۔ سکھ برادری بھی علیحدگی کے لیے تحریک چلا رہی ہے، سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل بھی انھی تحریکوں کے زیر اثر ہوا تھا اس کے علاوہ راجیو گاندھی کا قتل بھی علیحدگی پسندوں کی کارروائی تھی۔ لہٰذا ممکن ہے کہ بھارت میں علیحدگی پسندوں کے آپس میں رابطے ہوں اور وہ تخریبی کارروائیوں میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہوں۔
اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب مقبوضہ کشمیر میں سرکاری عمارت پر کن لوگوں نے حملہ کیا اور ان کے مقاصد کیا تھے' اس واقعہ کی تحقیقات تو ہوتی رہے گی لیکن بھارتی میڈیا اور حکومتی ارکان کو ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی الفور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع نہیں کر دینا چاہیے۔ پاکستانی حکومت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ہے اور وہ اپنی سرزمین کسی بھی صورت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
بھارتی حکومت کو بھی ادراک ہو چکا ہے کہ بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں پاکستانی حکومت کسی بھی سطح پر ملوث نہیں یہ انفرادی طور پر انتہا پسند قوتوں کی کارروائی ہے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خطے میں داعش کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث پاک بھارت سرحدوں پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے اس صورت میں دونوں ملکوں کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کے لیے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کی تحریک آزادی دبانے کے لیے ظلم و ستم کا ہر ممکن حربہ استعمال کر چکی ہے' اب تک ہزاروں کشمیری نوجوان آزادی کی اس تحریک میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اس کے علاوہ بھارتی حکومت اپنے ہاں یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے خلاف بھی کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آتی جس کے باعث وہاں بھارتی سرکار کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
بھارتی حکومت کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس کے ملک میں آئے دن دہشت گردی کے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں جب تک ان کے اصل اسباب دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ان حملوں کو روکنا مشکل امر ہے، آزادی کے نام پر تحریکیں چلانے والے نوجوان اپنے مقصد کے حصول کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا بھارتی حکومت اور میڈیا کو پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات کا جائزہ لینا چاہیے اور داخلی سطح ہی پر ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔