مادری زبانوں کا عالمی دن

پاکستان میں بھی متعدد علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں، ان میں کئی زبانیں ایسی ہیں جو معدوم ہو رہی ہیں

پاکستان میں خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں بیشتر زبانیں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ فائل: فوٹو

گزشتہ روز دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا، پاکستان میں بھی اس حوالے سے مختلف تقاریب منعقد ہوئیں اور مظاہرے ہوئے۔ بلاشبہ مادری زبان ایسا ذریعہ اظہار ہوتا ہے جس کے ذریعے انسان سب سے پہلے اظہار خیال کرتا ہے۔

اس لیے مہذب اقوام مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتی ہیں اور بچوں کو ابتدائی تعلیم بھی مادری زبان میں دیے جانے کا اہتمام کرتی ہیں، پاکستان میں بھی متعدد علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں، ان میں کئی زبانیں ایسی ہیں جو معدوم ہو رہی ہیں، ان زبانوں کو بچانے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں ہونی چاہئیں۔ یہ تصور غلط ہے کہ علاقائی زبانیں کسی ملک و قوم کے اتحاد اور یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں یا یہ کہ مادری یا علاقائی زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے جدید یا اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔


علاقائی یا مادری زبانیں بچوں پر علم کا پہلا دروازہ کھولتی ہیں، اس کے بعد ان پر دوسری زبانوں کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں، بھارت میں مادری زبانوں کو زندہ رکھنے کے لیے بہت کام ہو رہا ہے، پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بھی علاقائی اور مادری زبانوں کی ترقی کے لیے مربوط کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ کثیر لسانی خطے اپنی رنگا رنگی کے باعث ثقافتی اور تہذیبی اعتبار سے ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں بیشتر زبانیں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، اسی طرح ملک کے دیگر صوبوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ اس لیے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story