خود کفالت عرف نجکاری
آپ کو یاد ہو گا لیکن کیسے یاد ہو گا آپ کے پاس یادداشت نامی چیز ہوتی تو اب تک اپنے دشمنوں کو پہچان نہ گئے ہوتے
barq@email.com
چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کے ناظرین و سامعین کو مژدہ ہو کہ آخر کار بعد از خرابی بسیار اور شدید انتظار کے وہ شاہکار خبر آہی گئی جس کے لیے دیوارسے کان لگائے بیٹھے تھے، یعنی مملکت اللہ داد ناپرسان خود کفیل ہو گیا۔
آپ کو یاد ہو گا لیکن کیسے یاد ہو گا آپ کے پاس یادداشت نامی چیز ہوتی تو اب تک اپنے دشمنوں کو پہچان نہ گئے ہوتے، چلو ہم یاد دلا دیتے ہیں مملکت اللہ داد ناپرسان میں گزشتہ ستر سال سے خود کفالت کا راگ الاپا جارہا تھا جیسے ستر سال کے عرصے میں ہر قسم کے بڑے چھوٹے غلام علی خانوں، نصرت فتح خانوں، سلامت علی خانوں اور کفایت علی خانوں نے گایا تھا، آخر کار اس ستر سالہ قوالی کا دی اینڈ ہو گیا اور ملک تقریباً ہر لحاظ سے خود کفیل ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں ہم اپنا رسوائے عالم اور بدنام زمانہ ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' چونچا رہے ہیں جس میں چونچ مارنے کے لیے ایک تو مملکت اللہ داد ناپرسان سے مشہور خاندانی چونچ حضرت لیڈر ولد لیڈر ولد لیڈر کو اسمگل کیا گیا ہے اور باقی دو ہماری گھریلو یعنی ڈومیسٹک چونچیں ہیں جن کو آپ علامہ بریانی عرف برڈ فلو اور چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کے طور پر جانتے ہیں، یہ دونوں ان تمام علوم کے ماہر ہیں جو خرافات کے زمرے میں آتے ہیں، تو ناظرین ہمارا ٹاک شو چونچ بہ چونچ سنیے اور اپنی چونچ دھنیے،
اینکر : ہاں تو جناب لیڈر ولد لیڈر
لیڈر : غلط ... لیڈر ابن لیڈر ابن لیڈر ابن لیڈر یا سن آف لیڈر اینڈ لیڈر اینڈ لیڈر کہیے
اینکر : ایک بات ہے
لیڈر : نہیں ایک بات نہیں جتنا فرق خداداد اور اللہ داد میں ہے اتنا ہی ولد اور ابن میں ہے
اینکر : آپ کی مرضی... آپ یہ بتایئے کہ مملکت ناپرسان میں یہ خود کفالت کا کیا لفڑا ہے
اینکر : لفڑا نہیں بلکہ لفڑوں کا حل کہیے
علامہ : اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں
لیڈر : فرمایئے
علامہ : جس طرح ہمارے ہاں مسئلے کا حل مسئلہ ہوتا ہے اسی طرح لفڑے کا حل بھی لفڑا ہوتا ہے
لیڈر : پھر تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ لیڈر کا حل لیڈر ہوتا ہے
چشم : بالکل جس طرح کفن چور کا حل اس کا بیٹا ہوتا ہے
علامہ : ٹھہرو تمہاری اس بات میں کہیں میری طرف اشارہ تو نہیں
چشم : نہیں نہیں آپ تو کفن چور نہیں کفن فروش ہیں بلکہ کفن دفن دونوں فروش
علامہ : دیکھو یک چشم دجال یعنی کانا من الکافرین، میرے منہ نہ لگو ورنہ
چشم : توبہ توبہ اتنی بدبو برداشت کرنے کی طاقت مجھ میں نہیں ہے
اینکر : تم چپ کرو دونوں ہاں تو لیڈر صاحب آپ اس حل کے بارے میں بتا رہے تھے
لیڈر : دراصل یہ جو خود کفالت ہے اسے آپ نج کاری بھی کہہ سکتے ہیں
اینکر : وہ کیسے؟
لیڈر : وہ ایسے کہ ایک مدت سے مملکت ناپرسان میں بے ترتیبی چل رہی ہے ملک کا کوئی کام سیدھا نہیں تھا۔
لیڈر : جس طرح اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی
چشم : علامہ تمہارے قبیلے کا ذکر ہو رہا ہے
علامہ : اونٹ کا قبیلہ تیرا ہو گا
چشم : آپ نے خود ہی تو بتایا تھا کہ آپ کی رگوں میں اونٹ کا خون دوڑ رہا ہے
علامہ : میں نے دودھ کہا تھا آدھے اندھے، ہماری جدہ محترمہ نے اونٹنی کا دودھ پیا تھا اور اونٹنی کا دودھ پینا کوئی بری بات نہیں
چشم : میں نے کب کہا ہے کہ بری بات ہے صرف اتنا کہا ہے کہ آپ کے رشتے کی وضاحت ہو جائے
اینکر : دیکھو یہاں رشتوں ناطوں کی بات نہیں چل رہی ہے ناپرسان کی خود کفالت سوری نج کاری کی بات ہو رہی ہے ہاں تو جناب
لیڈر : مملکت ناپرسان کا سارا انتظامی سیاسی اور معاشی ڈھانچہ ڈانواں ڈھول ہو رہا تھا اس لیے مملکت کے دانا دانشور سر جوڑ کر بیٹھے اور اس مسئلے کا حل نجکاری کی صورت میں نکل آیا
علامہ : نجکاری تو اپنے ہاں بھی چل رہی ہے
چشم : وہ نجکاری نہیں بلکہ کاروکاری ہے
لیڈر : یہ کیا ہوتا ہے
اینکر : چھوڑیئے یہ دونوں یونہی فضول رہے ہیں، آپ اپنی بات جاری رکھیے
لیڈر : دانا دانشوروں نے دیکھا کہ ہر جگہ ہر محکمے اور ہر ادارے میں گڑ بڑ ہے کرپشن گھپلوں اور سکینڈلوں کی بھرمار ہے، مملکت کے وسائل لوٹے جارہے ہیں۔
چشم : ایک منٹ ایک لطیفہ یاد آیا ہے، دے ماروں
علامہ : نہیں
لیڈر : کوئی بات نہیں لطیفے مجھے پسند ہیں
چشم : ایک بچہ اپنے باپ کے ساتھ کسی جنازے میں شریک تھا۔ ایک مولانا فرما رہے تھے کہ یہ مرحوم ایسی جگہ جارہا ہے جو اتنی تنگ ہے، تاریک ہے وہاں نہ چراغ ہے نہ روشنی، بیٹے نے باپ سے کہا ابا یہ لوگ تو مردے کو ہمارے گھر لے جانے کی بات کر رہے ہیں۔
علامہ : اس فضول لطیفے کا مقصد کیا ہے ؟
چشم : لیڈر صاحب جب ناپرسان کے بارے میں بتا رہے تھے تو میں سمجھا کہ ہمارا
اینکر : لیڈر صاحب یہ یونہی بک رہے ہیں آپ بکیے، اوہ سوری فرمایئے
لیڈر : پھر ہم نے اس کا حل نکال یا اعلان کر دیا کہ کسی کو کوئی تنخواہ کوئی فنڈ کوئی معاوضہ نہیں ملے گا
اینکر : مطلب
چشم : پھر تو لوگ بھوکے مر جائیں گے
علامہ : بھوکے کیوں مریں گے مردوں کا جمعہ جمعرات چہلم برسی بھی تو بہت ہو جائیں گے
لیڈر : ناپرسان میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا
اینکر : تو کیا ہوتا ہے
لیڈر : وہاں جس کا جی چاہے جہاں سے چاہے ہڑپ کر سکتا ہے ہر محکمے کے اہل کاروں کو اجازت ہے کہ جس کا جیسا جی چاہیے اپنی آمدن بڑھائے، کرپشن، رشوت، غبن وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں ہے ہر کسی کو اپنی روزی خود پیدا کرنے کی آزادی ہے کسی کو نہ کچھ دیا جائے گا اور نہ کچھ کہاجائے گا۔
آپ کو یاد ہو گا لیکن کیسے یاد ہو گا آپ کے پاس یادداشت نامی چیز ہوتی تو اب تک اپنے دشمنوں کو پہچان نہ گئے ہوتے، چلو ہم یاد دلا دیتے ہیں مملکت اللہ داد ناپرسان میں گزشتہ ستر سال سے خود کفالت کا راگ الاپا جارہا تھا جیسے ستر سال کے عرصے میں ہر قسم کے بڑے چھوٹے غلام علی خانوں، نصرت فتح خانوں، سلامت علی خانوں اور کفایت علی خانوں نے گایا تھا، آخر کار اس ستر سالہ قوالی کا دی اینڈ ہو گیا اور ملک تقریباً ہر لحاظ سے خود کفیل ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں ہم اپنا رسوائے عالم اور بدنام زمانہ ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' چونچا رہے ہیں جس میں چونچ مارنے کے لیے ایک تو مملکت اللہ داد ناپرسان سے مشہور خاندانی چونچ حضرت لیڈر ولد لیڈر ولد لیڈر کو اسمگل کیا گیا ہے اور باقی دو ہماری گھریلو یعنی ڈومیسٹک چونچیں ہیں جن کو آپ علامہ بریانی عرف برڈ فلو اور چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کے طور پر جانتے ہیں، یہ دونوں ان تمام علوم کے ماہر ہیں جو خرافات کے زمرے میں آتے ہیں، تو ناظرین ہمارا ٹاک شو چونچ بہ چونچ سنیے اور اپنی چونچ دھنیے،
اینکر : ہاں تو جناب لیڈر ولد لیڈر
لیڈر : غلط ... لیڈر ابن لیڈر ابن لیڈر ابن لیڈر یا سن آف لیڈر اینڈ لیڈر اینڈ لیڈر کہیے
اینکر : ایک بات ہے
لیڈر : نہیں ایک بات نہیں جتنا فرق خداداد اور اللہ داد میں ہے اتنا ہی ولد اور ابن میں ہے
اینکر : آپ کی مرضی... آپ یہ بتایئے کہ مملکت ناپرسان میں یہ خود کفالت کا کیا لفڑا ہے
اینکر : لفڑا نہیں بلکہ لفڑوں کا حل کہیے
علامہ : اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں
لیڈر : فرمایئے
علامہ : جس طرح ہمارے ہاں مسئلے کا حل مسئلہ ہوتا ہے اسی طرح لفڑے کا حل بھی لفڑا ہوتا ہے
لیڈر : پھر تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ لیڈر کا حل لیڈر ہوتا ہے
چشم : بالکل جس طرح کفن چور کا حل اس کا بیٹا ہوتا ہے
علامہ : ٹھہرو تمہاری اس بات میں کہیں میری طرف اشارہ تو نہیں
چشم : نہیں نہیں آپ تو کفن چور نہیں کفن فروش ہیں بلکہ کفن دفن دونوں فروش
علامہ : دیکھو یک چشم دجال یعنی کانا من الکافرین، میرے منہ نہ لگو ورنہ
چشم : توبہ توبہ اتنی بدبو برداشت کرنے کی طاقت مجھ میں نہیں ہے
اینکر : تم چپ کرو دونوں ہاں تو لیڈر صاحب آپ اس حل کے بارے میں بتا رہے تھے
لیڈر : دراصل یہ جو خود کفالت ہے اسے آپ نج کاری بھی کہہ سکتے ہیں
اینکر : وہ کیسے؟
لیڈر : وہ ایسے کہ ایک مدت سے مملکت ناپرسان میں بے ترتیبی چل رہی ہے ملک کا کوئی کام سیدھا نہیں تھا۔
لیڈر : جس طرح اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی
چشم : علامہ تمہارے قبیلے کا ذکر ہو رہا ہے
علامہ : اونٹ کا قبیلہ تیرا ہو گا
چشم : آپ نے خود ہی تو بتایا تھا کہ آپ کی رگوں میں اونٹ کا خون دوڑ رہا ہے
علامہ : میں نے دودھ کہا تھا آدھے اندھے، ہماری جدہ محترمہ نے اونٹنی کا دودھ پیا تھا اور اونٹنی کا دودھ پینا کوئی بری بات نہیں
چشم : میں نے کب کہا ہے کہ بری بات ہے صرف اتنا کہا ہے کہ آپ کے رشتے کی وضاحت ہو جائے
اینکر : دیکھو یہاں رشتوں ناطوں کی بات نہیں چل رہی ہے ناپرسان کی خود کفالت سوری نج کاری کی بات ہو رہی ہے ہاں تو جناب
لیڈر : مملکت ناپرسان کا سارا انتظامی سیاسی اور معاشی ڈھانچہ ڈانواں ڈھول ہو رہا تھا اس لیے مملکت کے دانا دانشور سر جوڑ کر بیٹھے اور اس مسئلے کا حل نجکاری کی صورت میں نکل آیا
علامہ : نجکاری تو اپنے ہاں بھی چل رہی ہے
چشم : وہ نجکاری نہیں بلکہ کاروکاری ہے
لیڈر : یہ کیا ہوتا ہے
اینکر : چھوڑیئے یہ دونوں یونہی فضول رہے ہیں، آپ اپنی بات جاری رکھیے
لیڈر : دانا دانشوروں نے دیکھا کہ ہر جگہ ہر محکمے اور ہر ادارے میں گڑ بڑ ہے کرپشن گھپلوں اور سکینڈلوں کی بھرمار ہے، مملکت کے وسائل لوٹے جارہے ہیں۔
چشم : ایک منٹ ایک لطیفہ یاد آیا ہے، دے ماروں
علامہ : نہیں
لیڈر : کوئی بات نہیں لطیفے مجھے پسند ہیں
چشم : ایک بچہ اپنے باپ کے ساتھ کسی جنازے میں شریک تھا۔ ایک مولانا فرما رہے تھے کہ یہ مرحوم ایسی جگہ جارہا ہے جو اتنی تنگ ہے، تاریک ہے وہاں نہ چراغ ہے نہ روشنی، بیٹے نے باپ سے کہا ابا یہ لوگ تو مردے کو ہمارے گھر لے جانے کی بات کر رہے ہیں۔
علامہ : اس فضول لطیفے کا مقصد کیا ہے ؟
چشم : لیڈر صاحب جب ناپرسان کے بارے میں بتا رہے تھے تو میں سمجھا کہ ہمارا
اینکر : لیڈر صاحب یہ یونہی بک رہے ہیں آپ بکیے، اوہ سوری فرمایئے
لیڈر : پھر ہم نے اس کا حل نکال یا اعلان کر دیا کہ کسی کو کوئی تنخواہ کوئی فنڈ کوئی معاوضہ نہیں ملے گا
اینکر : مطلب
چشم : پھر تو لوگ بھوکے مر جائیں گے
علامہ : بھوکے کیوں مریں گے مردوں کا جمعہ جمعرات چہلم برسی بھی تو بہت ہو جائیں گے
لیڈر : ناپرسان میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا
اینکر : تو کیا ہوتا ہے
لیڈر : وہاں جس کا جی چاہے جہاں سے چاہے ہڑپ کر سکتا ہے ہر محکمے کے اہل کاروں کو اجازت ہے کہ جس کا جیسا جی چاہیے اپنی آمدن بڑھائے، کرپشن، رشوت، غبن وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں ہے ہر کسی کو اپنی روزی خود پیدا کرنے کی آزادی ہے کسی کو نہ کچھ دیا جائے گا اور نہ کچھ کہاجائے گا۔