وائٹ ہائوس… اپنی بلا سے بُوم بسے یا ہُما رہے
ہمارے کئی سیاستدانوں اور خاکی و سول افسروں کی عیاشیاں اور خوشحالیاں امریکا کی مہربانی ہیں ۔
Abdulqhasan@hotmail.com
KARACHI:
ایسا وقت بھی آنا تھا کہ ادھر امریکا میں صدارتی الیکشن ہو رہے ہوں اور پاکستان میں ان کے ساتھ بس سرسری سی دلچسپی ہو۔
جان پر بن جانا تو بڑی بات ہے اس پر خراش بھی نہ آئی ہو ورنہ کوئی دن نہیں جاتا کہ امریکا اپنے ڈرون حملوں کی وجہ سے ہماری جانیں نہ لے رہا ہو اور ہم ان جہازوں کی پرواز میں مدد گار نہ ہوتے ہوں۔ شاید اسی لیے دونوں امریکی صدارتی امیدواروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے حامی ہیں کیونکہ یہ امریکا کے لیے مفید ہیں۔ وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا'۔ امریکا کو جو عالمی برتری حاصل ہے پاکستان بھی اس عالم کا ایک حصہ ہے اور اس قدر ناتواں اور کمزور ہے کہ امریکا کو جب تک ضرورت ہو گی وہ اس کو استعمال کرتا رہے گا ورنہ نہیں۔ ہمارے مفکروں نے ہمیں نہایت ہی دلنشیں انداز میں بتایا ہے کہ دیکھو اپنے تن خاکی میں جان پیدا کر ورنہ ضعیفی ایک جرم ہے اور اس کی سزا اچانک موت بھی ہے کمزور کو سزا دیتے وقت کوئی نہیں پوچھتا کہ اسے کب کوئی اور کتنی سزا دی جائے۔ طاقت ور کا جب جی چاہے وہ کسی کمزور کو ختم کر دیتا ہے یہ سزا ڈرون حملہ ہو یا تورا بورا بنا دینے والے ہتھیار جو پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔
امریکا کے ساتھ ہمارے بڑے اچھے تعلقات بھی رہے ہم نے اس کا بہت کھایا پیا۔ کھاریاں کی فوجی چھائونی امریکا کی دین ہے اور ہمارے کتنے ہی سیاستدانوں اور خاکی و سول افسروں کی عیاشیاں اور خوشحالیاں بھی امریکا کی مہربانی ہیں لیکن ہم شاید بھول گئے کہ امریکا جیسی سپر پاور کے تعلقات اور کرمفرمائیاں ہمارے نہیں اس کے اپنے مفاد میں ہیں اور اپنے ٹیکس دہندوں کی رقم وہ لٹا نہیں سکتا۔ یہ امریکا کا کمال ہے کہ اس نے پاکستان کو ایسے حالات میں پھنسا دیا کہ پاکستانی اس حالت پر خوش تھے اور امریکا بھی خوش دونوں اپنا اپنا مطلب پورا کر رہے تھے۔
بیچ میں سوویت یونین کا قصہ بھی آ گیا یہ سوویت اتحاد امریکا کا دشمن تو تھا ہی ہر میدان میں اس کا حریف اور جان و مال کا مستقل خطرہ لیکن یہ خواہ مخواہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ بن گیا۔ میں سوویت یونین اور پاکستان کے درمیان نظریاتی کشمکش کا ذکر نہیں کرتا بلکہ یہ کہوں گا کہ سوویت یونین نے اپنی مقبوضہ ایشیائی مسلم ریاستوں کی سرحد پر موجود مسلمان افغانستان پر قبضہ کر لیا اور یہاں سے آگے وہ پاکستان سے گزرتا ہوا گرم پانیوں کے سمندروں تک جانا چاہتا تھا یعنی سوویت یونین کی اونچی شمالی سرحدوں سے بحیرہ عرب تک ایک بہت ہی طویل راستہ اس میں پاکستان کی تو ہر صورت میں موت تھی کافرانہ نظریات کی مالک طاقت کی حکومت جس کے مسلمانوں کے خلاف معاندانہ اقدامات وسطی ایشیا میں زندہ موجود تھے۔
پاکستان کو نا ممکن تھا کہ اسے قبول کر لیتا۔ تب تک قائداعظم آج کے مسٹر جناح کا پاکستان سیکولر نہیں تھا۔ دنیا کا پہلا مسلمان نظریاتی ملک تھا اور زندگی کے جذبوں سے بھرپور چنانچہ امریکا اور پاکستان کے مقاصد ایک ہو گئے یعنی سوویت یونین کا افغانستان سے انخلاء۔ اس مشترکہ جدوجہد میں دونوں کامیاب ہوئے لیکن چونکہ مقاصد اور مفادات دونوں کے مختلف تھے اس لیے ان مختلف بلکہ متضاد مقاصد اور مفادات کے حصول کے بعد بیگانگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ایک امریکی صدر نے 'کروسیڈ' کا نعرہ لگایا اور پھر اس جہاد میں مسلمان ملکوں پر فوج کشی شروع ہو گئی جب کہ اس کی ضرورت نہ تھی اور تابعدار مسلمان ممالک امریکا کے خلاف کسی جنگ کو شروع نہیں کر رہے تھے۔ یہ امریکا کی زود حسی تھی کہ اس نے بلاوجہ ضرورت سے زیادہ حساس بن کر مسلمانوں کو اپنے مخالف کر لیا۔ یہ امریکی پالیسی سازوں کا معاملہ تھا۔ نفع نقصان ان کا ہے۔
امریکا کی اس پالیسی کی وجہ سے آج مسلمان اس کے انتہائی اہم الیکشن سے لاتعلق ہیں۔ ایک عام پاکستانی سے پوچھیں تو وہ جواب دیتا ہے کہ جو بھی آئے ہمیں کیا سب برابر ہیں ہمارے اوپر تو ڈرون حملے جاری رہیں گے یعنی دوسرے الفاظ میں پاکستان کے بارے میں یہ ڈرونی پالیسی ہی چلتی رہے گی۔ مرگ مفاجات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک عام پاکستانی کی خواہش ہے کہ امریکا کے خلاف لکھا جائے یعنی چیخ و پکار کی جائے لیکن یہ ایک احمقانہ اور بے سود عمل ہو گا اصل کام یہ ہے کہ مسلمان اپنے اندر کم از کم اتنی طاقت تو پیدا کر لیں کہ وہ اس مرگ مفاجات کا سلسلہ ذرا کم ہی کرا سکیں۔ ورنہ پاکستان کے ایک کلاسیکی شاعر میاں محمد بخش کی بات ہی ہو گی کہ ''لسّے دا کیہہ زور محمد، نس جانا یا رونا '' یعنی کمزور یہی کر سکتا ہے کہ کسی زبردست کے سامنے رو پڑتا ہے یا پھر بھاگ جاتا ہے۔ وہ اور کر بھی کیا سکتا ہے۔
آنجہانی سوویت یونین کے بعد واحد سپر پاور امریکا کا ہاتھ پکڑنا تو بڑی بات ہے اس کی طرف گرم نظروں سے دیکھنے والا بھی کوئی نہیں اس لیے جذباتی مسلمانوں سے ایک درخواست ہے کہ وہ ذرا ٹھنڈے دل سے کام لیں اور یہ مت بھولیں کہ اگر وہ پوری دنیا کی امریکا سمیت مخالفت کے باوجود ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو اپنے باعزت جینے کا سامان بھی کر سکتے ہیں اور اگر ہمیں ذلت و رسوائی سے بچنا ہے مغرب کے سپاہیوں سے اپنے گھروں کو بچانا ہے تو ہمیں اپنی باعزت زندگی کا راستہ تلاش کرنا ہی پڑے گا ورنہ
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
ایسا وقت بھی آنا تھا کہ ادھر امریکا میں صدارتی الیکشن ہو رہے ہوں اور پاکستان میں ان کے ساتھ بس سرسری سی دلچسپی ہو۔
جان پر بن جانا تو بڑی بات ہے اس پر خراش بھی نہ آئی ہو ورنہ کوئی دن نہیں جاتا کہ امریکا اپنے ڈرون حملوں کی وجہ سے ہماری جانیں نہ لے رہا ہو اور ہم ان جہازوں کی پرواز میں مدد گار نہ ہوتے ہوں۔ شاید اسی لیے دونوں امریکی صدارتی امیدواروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے حامی ہیں کیونکہ یہ امریکا کے لیے مفید ہیں۔ وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا'۔ امریکا کو جو عالمی برتری حاصل ہے پاکستان بھی اس عالم کا ایک حصہ ہے اور اس قدر ناتواں اور کمزور ہے کہ امریکا کو جب تک ضرورت ہو گی وہ اس کو استعمال کرتا رہے گا ورنہ نہیں۔ ہمارے مفکروں نے ہمیں نہایت ہی دلنشیں انداز میں بتایا ہے کہ دیکھو اپنے تن خاکی میں جان پیدا کر ورنہ ضعیفی ایک جرم ہے اور اس کی سزا اچانک موت بھی ہے کمزور کو سزا دیتے وقت کوئی نہیں پوچھتا کہ اسے کب کوئی اور کتنی سزا دی جائے۔ طاقت ور کا جب جی چاہے وہ کسی کمزور کو ختم کر دیتا ہے یہ سزا ڈرون حملہ ہو یا تورا بورا بنا دینے والے ہتھیار جو پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔
امریکا کے ساتھ ہمارے بڑے اچھے تعلقات بھی رہے ہم نے اس کا بہت کھایا پیا۔ کھاریاں کی فوجی چھائونی امریکا کی دین ہے اور ہمارے کتنے ہی سیاستدانوں اور خاکی و سول افسروں کی عیاشیاں اور خوشحالیاں بھی امریکا کی مہربانی ہیں لیکن ہم شاید بھول گئے کہ امریکا جیسی سپر پاور کے تعلقات اور کرمفرمائیاں ہمارے نہیں اس کے اپنے مفاد میں ہیں اور اپنے ٹیکس دہندوں کی رقم وہ لٹا نہیں سکتا۔ یہ امریکا کا کمال ہے کہ اس نے پاکستان کو ایسے حالات میں پھنسا دیا کہ پاکستانی اس حالت پر خوش تھے اور امریکا بھی خوش دونوں اپنا اپنا مطلب پورا کر رہے تھے۔
بیچ میں سوویت یونین کا قصہ بھی آ گیا یہ سوویت اتحاد امریکا کا دشمن تو تھا ہی ہر میدان میں اس کا حریف اور جان و مال کا مستقل خطرہ لیکن یہ خواہ مخواہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ بن گیا۔ میں سوویت یونین اور پاکستان کے درمیان نظریاتی کشمکش کا ذکر نہیں کرتا بلکہ یہ کہوں گا کہ سوویت یونین نے اپنی مقبوضہ ایشیائی مسلم ریاستوں کی سرحد پر موجود مسلمان افغانستان پر قبضہ کر لیا اور یہاں سے آگے وہ پاکستان سے گزرتا ہوا گرم پانیوں کے سمندروں تک جانا چاہتا تھا یعنی سوویت یونین کی اونچی شمالی سرحدوں سے بحیرہ عرب تک ایک بہت ہی طویل راستہ اس میں پاکستان کی تو ہر صورت میں موت تھی کافرانہ نظریات کی مالک طاقت کی حکومت جس کے مسلمانوں کے خلاف معاندانہ اقدامات وسطی ایشیا میں زندہ موجود تھے۔
پاکستان کو نا ممکن تھا کہ اسے قبول کر لیتا۔ تب تک قائداعظم آج کے مسٹر جناح کا پاکستان سیکولر نہیں تھا۔ دنیا کا پہلا مسلمان نظریاتی ملک تھا اور زندگی کے جذبوں سے بھرپور چنانچہ امریکا اور پاکستان کے مقاصد ایک ہو گئے یعنی سوویت یونین کا افغانستان سے انخلاء۔ اس مشترکہ جدوجہد میں دونوں کامیاب ہوئے لیکن چونکہ مقاصد اور مفادات دونوں کے مختلف تھے اس لیے ان مختلف بلکہ متضاد مقاصد اور مفادات کے حصول کے بعد بیگانگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ایک امریکی صدر نے 'کروسیڈ' کا نعرہ لگایا اور پھر اس جہاد میں مسلمان ملکوں پر فوج کشی شروع ہو گئی جب کہ اس کی ضرورت نہ تھی اور تابعدار مسلمان ممالک امریکا کے خلاف کسی جنگ کو شروع نہیں کر رہے تھے۔ یہ امریکا کی زود حسی تھی کہ اس نے بلاوجہ ضرورت سے زیادہ حساس بن کر مسلمانوں کو اپنے مخالف کر لیا۔ یہ امریکی پالیسی سازوں کا معاملہ تھا۔ نفع نقصان ان کا ہے۔
امریکا کی اس پالیسی کی وجہ سے آج مسلمان اس کے انتہائی اہم الیکشن سے لاتعلق ہیں۔ ایک عام پاکستانی سے پوچھیں تو وہ جواب دیتا ہے کہ جو بھی آئے ہمیں کیا سب برابر ہیں ہمارے اوپر تو ڈرون حملے جاری رہیں گے یعنی دوسرے الفاظ میں پاکستان کے بارے میں یہ ڈرونی پالیسی ہی چلتی رہے گی۔ مرگ مفاجات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک عام پاکستانی کی خواہش ہے کہ امریکا کے خلاف لکھا جائے یعنی چیخ و پکار کی جائے لیکن یہ ایک احمقانہ اور بے سود عمل ہو گا اصل کام یہ ہے کہ مسلمان اپنے اندر کم از کم اتنی طاقت تو پیدا کر لیں کہ وہ اس مرگ مفاجات کا سلسلہ ذرا کم ہی کرا سکیں۔ ورنہ پاکستان کے ایک کلاسیکی شاعر میاں محمد بخش کی بات ہی ہو گی کہ ''لسّے دا کیہہ زور محمد، نس جانا یا رونا '' یعنی کمزور یہی کر سکتا ہے کہ کسی زبردست کے سامنے رو پڑتا ہے یا پھر بھاگ جاتا ہے۔ وہ اور کر بھی کیا سکتا ہے۔
آنجہانی سوویت یونین کے بعد واحد سپر پاور امریکا کا ہاتھ پکڑنا تو بڑی بات ہے اس کی طرف گرم نظروں سے دیکھنے والا بھی کوئی نہیں اس لیے جذباتی مسلمانوں سے ایک درخواست ہے کہ وہ ذرا ٹھنڈے دل سے کام لیں اور یہ مت بھولیں کہ اگر وہ پوری دنیا کی امریکا سمیت مخالفت کے باوجود ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو اپنے باعزت جینے کا سامان بھی کر سکتے ہیں اور اگر ہمیں ذلت و رسوائی سے بچنا ہے مغرب کے سپاہیوں سے اپنے گھروں کو بچانا ہے تو ہمیں اپنی باعزت زندگی کا راستہ تلاش کرنا ہی پڑے گا ورنہ
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات