خادم سے حاکم تک کا سفر
جمہوریت کو سیاسی ارتقا کی ایک اعلیٰ ترین منزل کہا جاتا ہے، بادی النظر میں یہ تصور غلط بھی نظر نہیں آتا
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
KARACHI:
جمہوریت کو سیاسی ارتقا کی ایک اعلیٰ ترین منزل کہا جاتا ہے، بادی النظر میں یہ تصور غلط بھی نظر نہیں آتا کیونکہ ہر ملک کی اکثریت اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرتی ہے۔ ماضی میں چونکہ ہزاروں سال تک شخصی اور خاندانی حکمرانیوں کا رواج رہا اور فیصلوں کا حق عموماً فرد واحد کو ہوتا تھا، لہٰذا شخص واحد کے فیصلوں میں نمایاں کوتاہیوں کا امکان ہوتا تھا، جس کا اثر عوام یا رعایا پر ہوتا تھا۔
اس پس منظر میں اگر جمہوریت پر نظر ڈالیں تو یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ شخص واحد کے اختیارات اور فیصلوں کے مقابلے میں ملک کی اکثریت کے منتخب نمایندے زیادہ صحیح فیصلے کر سکتے ہیں۔ یہی تصور جمہوریت کی اساس ہے، لیکن اس حقیقت پر شاید ہی کسی کی نظر جاتی ہے کہ جاگیردارانہ شخصی اور خاندانی نظام کی جگہ جس نظام نے لی اس نظام کے قیام کا بنیادی مقصد سرمایہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے مفادات کا تحفظ تھا۔
اس حقیقت کو چھپانے کے لیے جمہوریت کا وہ ڈھانچہ تیار کیا گیا جس میں بہ ظاہر یہ تاثر ابھارا گیا کہ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکمرانی ہوتا ہے لیکن یہ ایک ایسا فراڈ تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ بے نقاب ہوتا رہا اور اب دنیا کے وہ مفکرین جو اس فراڈ کی حقیقت کو سمجھتے ہیں دنیا کو اس فراڈ سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کو انتخابات میں عوام منتخب کرتے ہیں انھیں اصولاً عوام کے خادم اور ملازم ہونا چاہیے لیکن عملاً ہوتا یہ ہے کہ ابھی انتخابی نتائج آ ہی رہے ہوتے ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب نمایندے بددماغ مغرور حکمران بن جاتے ہیں اور ان کی نفسیات بادشاہوں، شہنشاہوں سے زیادہ حاکمانہ ہو جاتی ہے اور کل تک عوام کے دروازوں پر بھکاریوں کی طرح ووٹوں کی بھیک مانگنے والوں کا حال شاہوں، شہنشاہوں کا سا ہو جاتا ہے کوئی ووٹر ان کے محلوں کے گیٹ تک پہنچنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔
اس جمہوریت کی دوسری خوبی یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ عوامی مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ عوام کے مسائل حل کرتی ہے؟ اس مفروضے کا جواب دینے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ بے چارے عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ مہان جمہوریت عوام کے کتنے مسائل حل کر رہی ہے، عوام کا کس طرح تحفظ کر رہی ہے۔ یہ فراڈ دو ڈھائی سو سال سے چل رہا ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین ہر حوالے سے اس چھوٹے سے استحصالی طبقے کے مفادات کا تحفظ چاہتے تھے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اس طبقے کے نظریاتی غلاموں نے عوام کے تحفظ عوام کے مفادات کے تحفظ امن و امان کے قیام اور ملک و ملت کے مفادات کے تحفظ کے نام پر ایک مربوط اور مضبوط ریاستی مشینری تشکیل دی جو اگرچہ غریب عوام ہی پر مشتمل ہوتی ہے لیکن قانون اور انصاف کے نام پر اسے ہر جگہ ہر وقت عوام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کو لے لیجیے۔ ملازمین نہ صدارت مانگ رہے تھے نہ وزارت نہ اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے نہ کسی قسم کی مراعات مانگ رہے تھے۔ ان کا صرف اتنا سا مطالبہ تھا کہ پی آئی اے جیسے بڑے قومی ادارے کو نہ بیچا جائے۔
یہ ایک جائز مطالبہ تھا کیونکہ قومی اداروں کی فروخت سے ان اداروں کے ملازمین کی ملازمتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں لیکن اس خرید و فروخت سے چونکہ سرمایہ داروں کے مالی مفادات وابستہ ہیں، لہٰذا مطالبہ کرنے والوں کو قانون انصاف اور ریاستی مشینری کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے بلکہ ایسی انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں کہ ملازمین ہڑتالوں احتجاجوں سے توبہ کر لیتے ہیں اور سرمایہ دار طبقے کی لوٹ مار کے راستے ہموار ہو جاتے ہیں۔ کیا عوامی مفادات کے نام پر عوام سے ووٹ لے کر حکمران بننے والوں کو خیال آتا ہے کہ عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ان کا فرض ہے؟
اب ذرا ادھر آئیے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کو منطقی طور پر عوام کے خادم اور ملازم ہونا چاہیے کیونکہ وہ عوام کے ووٹ لے کر حکمران بنتے ہیں اور عوام کے پسینے سے تنخواہیں لے کر ان کے ملازم ہوتے ہیں، لیکن کسی جمہوریت خاص طور پر پسماندہ ملکوں کی جمہوریتوں میں کہیں یہ دیکھا جاتا ہے کہ حکمران عوام کے خادم اور عوام کے ملازم ہیں؟ اس کھلے فراڈ کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر بالادست طبقات اور ان کے مڈل کلاس ساتھی عوام پر مسلط ہو جاتے ہیں اور پھر بدعنوانیوں کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کی داستانیں میڈیا میں تو آ جاتی ہیں لیکن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ کیونکہ ان کی پشت پر ریاستی مشینری کی طاقت ہوتی ہے اور جہاں ضرورت ہوتی ہے اس کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بادشاہوں، راجوں، مہاراجوں کی پہچان ان کا کروفر ہوتا تھا۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی حربہ ہے جسے بادشاہ شہنشاہ، راجا، مہاراج عوام کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے اور اپنی زبانیں بند رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ آپ آج کے اپنے ووٹوں سے منتخب ہونے والے خادموں سرکاری خزانے سے تنخواہیں لینے والے ملازمین کے کروفر پر نظر ڈالیں تو ان کے سامنے ماضی کے بادشاہوں راجوں مہاراجوں کا کروفر ماند پڑ جاتا ہے۔
دنیا کی کل دولت کا 80 فیصد حصہ جس چھوٹی سی اقلیت کے قبضے میں ہے۔ اس نے ہر ملک میں اپنے چھوٹے چھوٹے ایجنٹ پیدا کر دیے ہیں جو اس استحصالی نظام کی حفاظت جمہوریت کے نام پر کر رہے ہیں اور اس نظام میں اس کے ماہرین نے ایک ایسا خودکار میکنزم بنا دیا ہے کہ عوام کو عوام سے لڑا دیا جاتا ہے، دین دھرم رنگ نسل ذات پات زبان اور قومیت کے نام پر عوام کو اس طرح تقسیم کر کے رکھا جاتا ہے کہ عوام اپنی اجتماعی طاقت کو اس لوٹ مار کے نظام کے خلاف استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور اس تقسیم کو معتبر بنانے کا کام قوم پرست رنگ نسل زبان پرست دانشور انجام دیتے ہیں۔
جمہوریت کو سیاسی ارتقا کی ایک اعلیٰ ترین منزل کہا جاتا ہے، بادی النظر میں یہ تصور غلط بھی نظر نہیں آتا کیونکہ ہر ملک کی اکثریت اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرتی ہے۔ ماضی میں چونکہ ہزاروں سال تک شخصی اور خاندانی حکمرانیوں کا رواج رہا اور فیصلوں کا حق عموماً فرد واحد کو ہوتا تھا، لہٰذا شخص واحد کے فیصلوں میں نمایاں کوتاہیوں کا امکان ہوتا تھا، جس کا اثر عوام یا رعایا پر ہوتا تھا۔
اس پس منظر میں اگر جمہوریت پر نظر ڈالیں تو یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ شخص واحد کے اختیارات اور فیصلوں کے مقابلے میں ملک کی اکثریت کے منتخب نمایندے زیادہ صحیح فیصلے کر سکتے ہیں۔ یہی تصور جمہوریت کی اساس ہے، لیکن اس حقیقت پر شاید ہی کسی کی نظر جاتی ہے کہ جاگیردارانہ شخصی اور خاندانی نظام کی جگہ جس نظام نے لی اس نظام کے قیام کا بنیادی مقصد سرمایہ داروں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے مفادات کا تحفظ تھا۔
اس حقیقت کو چھپانے کے لیے جمہوریت کا وہ ڈھانچہ تیار کیا گیا جس میں بہ ظاہر یہ تاثر ابھارا گیا کہ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکمرانی ہوتا ہے لیکن یہ ایک ایسا فراڈ تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ بے نقاب ہوتا رہا اور اب دنیا کے وہ مفکرین جو اس فراڈ کی حقیقت کو سمجھتے ہیں دنیا کو اس فراڈ سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کو انتخابات میں عوام منتخب کرتے ہیں انھیں اصولاً عوام کے خادم اور ملازم ہونا چاہیے لیکن عملاً ہوتا یہ ہے کہ ابھی انتخابی نتائج آ ہی رہے ہوتے ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب نمایندے بددماغ مغرور حکمران بن جاتے ہیں اور ان کی نفسیات بادشاہوں، شہنشاہوں سے زیادہ حاکمانہ ہو جاتی ہے اور کل تک عوام کے دروازوں پر بھکاریوں کی طرح ووٹوں کی بھیک مانگنے والوں کا حال شاہوں، شہنشاہوں کا سا ہو جاتا ہے کوئی ووٹر ان کے محلوں کے گیٹ تک پہنچنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔
اس جمہوریت کی دوسری خوبی یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ عوامی مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ عوام کے مسائل حل کرتی ہے؟ اس مفروضے کا جواب دینے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ بے چارے عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ مہان جمہوریت عوام کے کتنے مسائل حل کر رہی ہے، عوام کا کس طرح تحفظ کر رہی ہے۔ یہ فراڈ دو ڈھائی سو سال سے چل رہا ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مفکرین ہر حوالے سے اس چھوٹے سے استحصالی طبقے کے مفادات کا تحفظ چاہتے تھے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اس طبقے کے نظریاتی غلاموں نے عوام کے تحفظ عوام کے مفادات کے تحفظ امن و امان کے قیام اور ملک و ملت کے مفادات کے تحفظ کے نام پر ایک مربوط اور مضبوط ریاستی مشینری تشکیل دی جو اگرچہ غریب عوام ہی پر مشتمل ہوتی ہے لیکن قانون اور انصاف کے نام پر اسے ہر جگہ ہر وقت عوام کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کو لے لیجیے۔ ملازمین نہ صدارت مانگ رہے تھے نہ وزارت نہ اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے نہ کسی قسم کی مراعات مانگ رہے تھے۔ ان کا صرف اتنا سا مطالبہ تھا کہ پی آئی اے جیسے بڑے قومی ادارے کو نہ بیچا جائے۔
یہ ایک جائز مطالبہ تھا کیونکہ قومی اداروں کی فروخت سے ان اداروں کے ملازمین کی ملازمتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں لیکن اس خرید و فروخت سے چونکہ سرمایہ داروں کے مالی مفادات وابستہ ہیں، لہٰذا مطالبہ کرنے والوں کو قانون انصاف اور ریاستی مشینری کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے بلکہ ایسی انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں کہ ملازمین ہڑتالوں احتجاجوں سے توبہ کر لیتے ہیں اور سرمایہ دار طبقے کی لوٹ مار کے راستے ہموار ہو جاتے ہیں۔ کیا عوامی مفادات کے نام پر عوام سے ووٹ لے کر حکمران بننے والوں کو خیال آتا ہے کہ عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ان کا فرض ہے؟
اب ذرا ادھر آئیے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کو منطقی طور پر عوام کے خادم اور ملازم ہونا چاہیے کیونکہ وہ عوام کے ووٹ لے کر حکمران بنتے ہیں اور عوام کے پسینے سے تنخواہیں لے کر ان کے ملازم ہوتے ہیں، لیکن کسی جمہوریت خاص طور پر پسماندہ ملکوں کی جمہوریتوں میں کہیں یہ دیکھا جاتا ہے کہ حکمران عوام کے خادم اور عوام کے ملازم ہیں؟ اس کھلے فراڈ کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت کے نام پر بالادست طبقات اور ان کے مڈل کلاس ساتھی عوام پر مسلط ہو جاتے ہیں اور پھر بدعنوانیوں کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کی داستانیں میڈیا میں تو آ جاتی ہیں لیکن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ کیونکہ ان کی پشت پر ریاستی مشینری کی طاقت ہوتی ہے اور جہاں ضرورت ہوتی ہے اس کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بادشاہوں، راجوں، مہاراجوں کی پہچان ان کا کروفر ہوتا تھا۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی حربہ ہے جسے بادشاہ شہنشاہ، راجا، مہاراج عوام کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے اور اپنی زبانیں بند رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ آپ آج کے اپنے ووٹوں سے منتخب ہونے والے خادموں سرکاری خزانے سے تنخواہیں لینے والے ملازمین کے کروفر پر نظر ڈالیں تو ان کے سامنے ماضی کے بادشاہوں راجوں مہاراجوں کا کروفر ماند پڑ جاتا ہے۔
دنیا کی کل دولت کا 80 فیصد حصہ جس چھوٹی سی اقلیت کے قبضے میں ہے۔ اس نے ہر ملک میں اپنے چھوٹے چھوٹے ایجنٹ پیدا کر دیے ہیں جو اس استحصالی نظام کی حفاظت جمہوریت کے نام پر کر رہے ہیں اور اس نظام میں اس کے ماہرین نے ایک ایسا خودکار میکنزم بنا دیا ہے کہ عوام کو عوام سے لڑا دیا جاتا ہے، دین دھرم رنگ نسل ذات پات زبان اور قومیت کے نام پر عوام کو اس طرح تقسیم کر کے رکھا جاتا ہے کہ عوام اپنی اجتماعی طاقت کو اس لوٹ مار کے نظام کے خلاف استعمال کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور اس تقسیم کو معتبر بنانے کا کام قوم پرست رنگ نسل زبان پرست دانشور انجام دیتے ہیں۔