پٹھانکوٹ حملہ کیس اور بھارت کا منفی رویہ
پاکستان نے بھارت کی طرف سے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی شروع کر دی اور اس سے ہر ممکن تعاون کیا
یہ واقعہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کوئی نیا کھیل بھی ہو سکتا ہے جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل
پنجاب حکومت نے پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہے جو 18فروری کو گوجرانوالہ میں واقعے سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر کی بنیاد پرکام کرے گی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھارت بھی جائے گی اور جائے وقوعہ کا معائنہ کرے گی۔
دوسری جانب بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اپنی وہی پرانی رٹ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو پٹھانکوٹ ایئر بیس کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ پاکستان کو ہم ثبوت پیش کریں گے وہ کارروائی کرتا جائے' یہی اس کا کام ہے۔
علاوہ ازیں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے پٹھانکوٹ حملہ کیس میں بھارت سے مکمل تعاون کیا تاہم بھارت کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس حملہ کیس کی تحقیقات کے بارے میں پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملے کے بعد بھارت نے یہ الزام لگانا شروع کر دیا کہ یہ کارروائی پاکستان کے اندر سے چند دہشت گردوں نے کی ہے اور اس نے اس سلسلے میں اپنی طرف سے کچھ ثبوت بھی پیش کر دیے۔
پاکستان نے بھارت کی طرف سے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی شروع کر دی اور اس سے ہر ممکن تعاون کیا یہاں تک کہ گوجرانوالہ میں اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی جو پاکستان کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا کہ دہشت گردی کی واردات دشمن کی سرزمین پر ہوئی اور اس کا مقدمہ پاکستان میں درج کر لیا گیا۔ پاکستان تمام حقائق جاننے کے لیے پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملے کی تحقیقات کرنا چاہتا ہے تاکہ اصل ملزموں تک پہنچا جا سکے لیکن بھارتی حکومت تعاون نہیں کر رہی اور چاہتی ہے کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم انھی ثبوتوں پر کام کرے جو بھارت نے فراہم کیے ہیں۔
بھارت کے فراہم کردہ ثبوت ناکافی ہیں جن کی بنیاد پر تحقیقات کر کے اصل حقائق تک نہیں پہنچا جا سکتا لہٰذا لازم ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جائے۔
پاکستان کا جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کا مطالبہ بالکل درست ہے لیکن بھارت کی جانب سے اس سلسلے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا عمل بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے' معاملہ کچھ اور ہے' ممکن ہے کہ بھارت کے فراہم کردہ ثبوت من گھڑت ہوں،یہ واقعہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کوئی نیا کھیل بھی ہو سکتا ہے جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس لیے اصل حقائق جاننے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے اور بھارتی حکومت کو اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہیے۔
دوسری جانب بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اپنی وہی پرانی رٹ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو پٹھانکوٹ ایئر بیس کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ پاکستان کو ہم ثبوت پیش کریں گے وہ کارروائی کرتا جائے' یہی اس کا کام ہے۔
علاوہ ازیں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے پٹھانکوٹ حملہ کیس میں بھارت سے مکمل تعاون کیا تاہم بھارت کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس حملہ کیس کی تحقیقات کے بارے میں پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملے کے بعد بھارت نے یہ الزام لگانا شروع کر دیا کہ یہ کارروائی پاکستان کے اندر سے چند دہشت گردوں نے کی ہے اور اس نے اس سلسلے میں اپنی طرف سے کچھ ثبوت بھی پیش کر دیے۔
پاکستان نے بھارت کی طرف سے فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی شروع کر دی اور اس سے ہر ممکن تعاون کیا یہاں تک کہ گوجرانوالہ میں اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی جو پاکستان کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا کہ دہشت گردی کی واردات دشمن کی سرزمین پر ہوئی اور اس کا مقدمہ پاکستان میں درج کر لیا گیا۔ پاکستان تمام حقائق جاننے کے لیے پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملے کی تحقیقات کرنا چاہتا ہے تاکہ اصل ملزموں تک پہنچا جا سکے لیکن بھارتی حکومت تعاون نہیں کر رہی اور چاہتی ہے کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم انھی ثبوتوں پر کام کرے جو بھارت نے فراہم کیے ہیں۔
بھارت کے فراہم کردہ ثبوت ناکافی ہیں جن کی بنیاد پر تحقیقات کر کے اصل حقائق تک نہیں پہنچا جا سکتا لہٰذا لازم ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جائے۔
پاکستان کا جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کا مطالبہ بالکل درست ہے لیکن بھارت کی جانب سے اس سلسلے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا عمل بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے' معاملہ کچھ اور ہے' ممکن ہے کہ بھارت کے فراہم کردہ ثبوت من گھڑت ہوں،یہ واقعہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کوئی نیا کھیل بھی ہو سکتا ہے جس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس لیے اصل حقائق جاننے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے اور بھارتی حکومت کو اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہیے۔