وفاق اور خیبرپختونخوا میں ہائیڈل منافع پر تصفیہ
بجلی کی پیداوار کے لیے گیس کی فراہمی سے متعلق صوبائی حکومت کو مخصوص حق دیدیا گیا ہے
وفاق اور صوبوں کے درمیان متنازعہ معاملات کو طول دینے کے بجائے فوری حل کیا جانا چاہیے فوٹو : فائل
وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کئی دہائیوں پرانے نیٹ ہائیڈل منافع کے بقایاجات سمیت توانائی کے شعبہ میں تصفیہ طلب دیگر معاملات بھی طے پا گئے ہیں جس کے مطابق وفاق چار سال میں خیبر پختونخوا کو 70ارب روپے کے بقایا جات ادا کرے گا۔ بجلی کی پیداوار کے لیے گیس کی فراہمی سے متعلق صوبائی حکومت کو مخصوص حق دیدیا گیا ہے۔ واضح رہے کے پی کے کی طرف سے طویل عرصے سے وفاق سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ان کے صوبے کو ہائیڈل پاور کا مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا جا رہا۔
اس حوالے سے گزشتہ روز وفاق اور کے پی کے حکومت کے درمیان طے پانے والے معاملات کے بارے میں مفاہمت کی یادداشت کا معاہدہ (ایم او یو) طے پا گیا ہے۔ اس موقعے پر خزانہ، پانی و بجلی کے وفاقی وزراء کے پی کے کے وزیر اعلی اور ان کی کابینہ کے اہم ارکان بھی موجود تھے۔ اتنے طویل عرصے کے بعد اس اہم معاملے کا خوش اسلوبی سے حل کر لیا جانا یقیناً وفاقی حکومت کی مفاہمتی پالیسی کا آئینہ دار ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کے پی کے حکومت کے مسائل کافی عرصہ سے التواء کا شکار تھے جنھیں ماضی کی حکومتیں حل کرنے سے اغماض برتتی رہیں اور بالآخر یہ مسئلہ حل کر دیا گیا ہے۔ اس مثبت پیش رفت پر وفاق اور کے پی کے کی صوبائی حکومت دونوں مبارکباد کی مستحق ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اس موقع پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے دیرینہ مسائل حل ہو گئے ہیں۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان متنازعہ معاملات کو طول دینے کے بجائے فوری حل کیا جانا چاہیے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے بجلی کے منافع کے معاملات حل ہو گئے ہیں' اب صوبائی حکومت کو اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی خصوصاً دہشت گردی کے خاتمے اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی جیسے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
اس حوالے سے گزشتہ روز وفاق اور کے پی کے حکومت کے درمیان طے پانے والے معاملات کے بارے میں مفاہمت کی یادداشت کا معاہدہ (ایم او یو) طے پا گیا ہے۔ اس موقعے پر خزانہ، پانی و بجلی کے وفاقی وزراء کے پی کے کے وزیر اعلی اور ان کی کابینہ کے اہم ارکان بھی موجود تھے۔ اتنے طویل عرصے کے بعد اس اہم معاملے کا خوش اسلوبی سے حل کر لیا جانا یقیناً وفاقی حکومت کی مفاہمتی پالیسی کا آئینہ دار ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کے پی کے حکومت کے مسائل کافی عرصہ سے التواء کا شکار تھے جنھیں ماضی کی حکومتیں حل کرنے سے اغماض برتتی رہیں اور بالآخر یہ مسئلہ حل کر دیا گیا ہے۔ اس مثبت پیش رفت پر وفاق اور کے پی کے کی صوبائی حکومت دونوں مبارکباد کی مستحق ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اس موقع پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے دیرینہ مسائل حل ہو گئے ہیں۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان متنازعہ معاملات کو طول دینے کے بجائے فوری حل کیا جانا چاہیے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے بجلی کے منافع کے معاملات حل ہو گئے ہیں' اب صوبائی حکومت کو اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی خصوصاً دہشت گردی کے خاتمے اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی جیسے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔