ایف بی آرریفنڈزروک کرریونیوکاغلط ڈیٹاپیش کررہاہےایکسپورٹرز
ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل بے یارومددگار،وزیرتجارت بے اختیار،حکومت بزنس فرینڈلی نہیں،جاویدبلوانی
فائن کے ساتھ کورس یارن پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا جائے، معین رزاق فوٹو: فائل
برآمدکنندگان نے سیلزٹیکس ودیگر ریفنڈز کے نظام کو درہم برہم کرنے کا ذمے دار ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 3سال سے برآمدکنندگان کا ریفنڈ روک کر ایف بی آر ریونیو میں اضافے کے جعلی اعدادوشمار ظاہر کررہا ہے۔
پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری بے یارومددگار ہوگئی ہے، وفاقی سطح پر وزارت کے باوجود وزیرکی تقرری نہیں کی گئی جبکہ وفاقی وزیرتجارت بے اختیار وزیر ثابت ہوئے ہیں جو7 ماہ کا طویل دورانیہ گزرنے کے باوجود اب تک جاری مالی سال کی تجارتی پالیسی کا اعلان نہیں کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں برآمدی صنعتوں کے خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کی جاتی لیکن پاکستان میں ایف بی آر سہل انداز میں ریونیو جنریشن کے لیے اب صنعتی خام مال کی درآمد پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کرنے کے درپے ہے لیکن ایف بی آر کے ان اقدامات سے برآمدی صنعتوں کی بقا مشکل ہوجائے گی اور ان کی کاسٹ آف ان پٹ بڑھنے سے ان کی برآمدی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بزنس فرینڈلی نہیں بلکہ تاجردشمن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل گھٹنے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیںجو نہ صرف برآمدی سرگرمیوں بلکہ صنعتوں کے توسیعی منصوبوں پر عمل درآمدمیں بھی رکاوٹ ہیں۔
ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ریجنل چیئرمین معین رزاق نے کہا کہ کورس کاؤنٹ کے بعدفائن کاؤنٹ یارن کی درآمد پرریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے سے پاکستان کی ٹاول انڈسٹری کی برآمدات بری طرح متاثر ہوں گی، وفاقی وزیرتجارت فائن کاؤنٹ یارن کے ساتھ کورس کاؤنٹ یارن پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کریں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں کوصرف ریونیو جنریشن تک محدود نہ کرے بلکہ ریونیوجنریٹ کرنے والوں کی مشکلات کا بھی احاطہ کرے۔
پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری بے یارومددگار ہوگئی ہے، وفاقی سطح پر وزارت کے باوجود وزیرکی تقرری نہیں کی گئی جبکہ وفاقی وزیرتجارت بے اختیار وزیر ثابت ہوئے ہیں جو7 ماہ کا طویل دورانیہ گزرنے کے باوجود اب تک جاری مالی سال کی تجارتی پالیسی کا اعلان نہیں کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں برآمدی صنعتوں کے خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں کی جاتی لیکن پاکستان میں ایف بی آر سہل انداز میں ریونیو جنریشن کے لیے اب صنعتی خام مال کی درآمد پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کرنے کے درپے ہے لیکن ایف بی آر کے ان اقدامات سے برآمدی صنعتوں کی بقا مشکل ہوجائے گی اور ان کی کاسٹ آف ان پٹ بڑھنے سے ان کی برآمدی سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بزنس فرینڈلی نہیں بلکہ تاجردشمن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل گھٹنے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیںجو نہ صرف برآمدی سرگرمیوں بلکہ صنعتوں کے توسیعی منصوبوں پر عمل درآمدمیں بھی رکاوٹ ہیں۔
ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ریجنل چیئرمین معین رزاق نے کہا کہ کورس کاؤنٹ کے بعدفائن کاؤنٹ یارن کی درآمد پرریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے سے پاکستان کی ٹاول انڈسٹری کی برآمدات بری طرح متاثر ہوں گی، وفاقی وزیرتجارت فائن کاؤنٹ یارن کے ساتھ کورس کاؤنٹ یارن پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کریں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں کوصرف ریونیو جنریشن تک محدود نہ کرے بلکہ ریونیوجنریٹ کرنے والوں کی مشکلات کا بھی احاطہ کرے۔