سندھ ایک ہزار آبادی والے گاؤں میں فلٹر پلانٹ لگانے کا منصوبہ
سندھ حکومت عوام کو صاف پانی کی فراہمی ان کی دہلیز تک پہنچانے کیلیے کوشاں ہے،ڈویژنل کمشنر کی زیر صدارت اجلاس
سندھ حکومت عوام کو صاف پانی کی فراہمی ان کی دہلیز تک پہنچانے کیلیے کوشاں ہے،ڈویژنل کمشنر کی زیر صدارت اجلاس ۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس ، فائل
ڈویژنل کمشنر حیدرآباد احمد بخش ناریجو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 1000 افراد یا اس سے زائد کی آبادی والے ہرگوٹھ میں فلٹر پلانٹ لگانے کا منصوبہ تیارکیا ہے تاکہ صوبے کے تمام لوگوں کو ان کی دہلیز پر پینے کا صاف پانی فراہم کر کے مختلف بیماریوں سے بچایا جا سکے۔
اپنے کیمپ آفس میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پہلے مرحلے میں قائم فلٹر پلانٹس کو ایک ہفتے کے اندر بجلی کے کنکشن فراہم کر کے فعال بنایا جائے، فلٹر پلانٹس کے نصب ہونے سے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا۔ ڈویژن کے تمام اضلاع کی متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں 1000 یا اس سے زیادہ لوگوں پر مشتمل آبادی والے گاؤں کی فہرستیں تیار کر کے سیکریٹری اسپیشل انیشیٹو ڈپارٹمنٹ یا وزیر اعلی سندھ کے اسپیشل سیکریٹری کو بھیجیں تاکہ فلٹر پلانٹ کی تنصیب کا کام شروع کیا جا سکے ۔
اس موقع پر پرگرام کے پہلے مرحلے والے کام کا جائزہ لیتے ہوئے احمد بخش ناریجو نے بتایا کہ حیدرآباد ڈویژن کے ہرضلع میں 25 فلٹر پلانٹ کے حساب سے کُل 225 فلٹر پلانٹس لگانے کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور ان فلٹر پلانٹس کو بجلی کے کنکشن دینے کیلیے حیسکو نے 127 ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے گئے جن کی ادائیگی کر دی گئی ہے، جن میں سے آج تک 23 فلٹر پلانٹس کو کنکشن دیے گئے ہیں۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر نے فلٹر پلانٹس کو بجلی کے کنکشن دینے میں سست روی اور ڈیمانڈ نوٹس جاری نہ کرنے پر حیسکو حکام پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر کنسٹرکشن حیسکو کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے درخواست دینے کے بعد دو دن کے اندر ڈیمانڈ نوٹس جاری کر کے 8 دن میں بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں حیدرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، پروجیکٹ ڈائریکٹر کنسٹرکشن حیسکو امید علی قریشی افسران کے علاوہ متعلقہ محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی۔
اپنے کیمپ آفس میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پہلے مرحلے میں قائم فلٹر پلانٹس کو ایک ہفتے کے اندر بجلی کے کنکشن فراہم کر کے فعال بنایا جائے، فلٹر پلانٹس کے نصب ہونے سے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا۔ ڈویژن کے تمام اضلاع کی متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں 1000 یا اس سے زیادہ لوگوں پر مشتمل آبادی والے گاؤں کی فہرستیں تیار کر کے سیکریٹری اسپیشل انیشیٹو ڈپارٹمنٹ یا وزیر اعلی سندھ کے اسپیشل سیکریٹری کو بھیجیں تاکہ فلٹر پلانٹ کی تنصیب کا کام شروع کیا جا سکے ۔
اس موقع پر پرگرام کے پہلے مرحلے والے کام کا جائزہ لیتے ہوئے احمد بخش ناریجو نے بتایا کہ حیدرآباد ڈویژن کے ہرضلع میں 25 فلٹر پلانٹ کے حساب سے کُل 225 فلٹر پلانٹس لگانے کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور ان فلٹر پلانٹس کو بجلی کے کنکشن دینے کیلیے حیسکو نے 127 ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے گئے جن کی ادائیگی کر دی گئی ہے، جن میں سے آج تک 23 فلٹر پلانٹس کو کنکشن دیے گئے ہیں۔ اس موقع پر ڈویژنل کمشنر نے فلٹر پلانٹس کو بجلی کے کنکشن دینے میں سست روی اور ڈیمانڈ نوٹس جاری نہ کرنے پر حیسکو حکام پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر کنسٹرکشن حیسکو کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے درخواست دینے کے بعد دو دن کے اندر ڈیمانڈ نوٹس جاری کر کے 8 دن میں بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔ اجلاس میں حیدرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، پروجیکٹ ڈائریکٹر کنسٹرکشن حیسکو امید علی قریشی افسران کے علاوہ متعلقہ محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی۔