ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ قومی ٹیم میں تبدیلیوں کی لہر کیا گل کھلائے گی
بھارتی میڈیا پاکستان ٹیم کے حوالے سے منفی خبروں کی تلاش میں ہوگا
بھارتی میڈیا پاکستان ٹیم کے حوالے سے منفی خبروں کی تلاش میں ہوگا،:فوٹو : فائل
کرکٹ کی بیشتر بڑی ٹیمیں میگاایونٹس کی تیاری کئی برس قبل ہی شروع کردیتی ہیں، ایک ٹورنامنٹ کے ختم ہوتے ہی آئندہ کی پلاننگ اور ممکنہ فیصلوں پر غور شروع کردیا جاتا ہے، دوسری طرف پاکستان ہمیشہ عین موقع پر بڑی تبدیلیاں کرکے ایونٹ میں بہتر کارکردگی کے خواب دیکھنے کی روش پر قائم رہا ہے۔
گزشتہ سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈکپ سے قبل بھی انوکھے فیصلے کئے گئے، مستقبل کی تیاری سے غافل پی سی بی کے پاس کوئی متبادل پلان تھا، نہ ہی میگا ایونٹ کی کنڈیشنز میں پرفارم کرنے والے کھلاڑی، ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان نظر آیا،گرتے پڑتے گرین شرٹس کا سفر کوارٹرفائنل میں تمام ہوا۔
بعد ازاں پورا سال ہیڈ کوچ وقار یونس بار بار اایک ہی جملہ دہراکر اپنی جان چھڑاتے رہے کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن غیر قانونی قرار پانے پر ٹیم کمبی نیشن خراب اور ہماری مشکلات میں اضافہ ہوا،انہوں نے یہ کبھی وضاحت نہیں کہ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں ناقص کارکردگی بھی کیا ان دونوں کھلاڑیوں پر پابندی کا نتیجہ تھی؟ ورلڈکپ کی ناکام مہم کے بعد ٹیم کی تعمیر نوپورا ایک سال تھا لیکن گرین شرٹس بہتری کی بجائے زوال کی جانب سفر کرتے نظر آئے۔
میگا ایونٹ کے دوران اور بعد ازاں ہر پریس کانفرنس میں وقار یونس اس عزم کا اظہار کرتے نظر آئے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرتے ہوئے ٹیم کو جارحانہ کرکٹ کے سبق پڑھائیں گے، ون ڈے میں 300سے زائد رنز عام سی بات ہوگئی، ہمیں بھی جدید انداز اپنانا ہوگا، تاہم عملی طور اس معاملے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی، زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں گرتے پڑے کامیابی کے بعد دورہ سری لنکا میں کئی اہم کھلاڑیوں سے محروم میزبان ٹیم کے مقابل فتح کے سوا محدود اوورز کی کرکٹ میں بہتری کے آثار نظر نہیں آئے۔
یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں انگلینڈ کیخلاف سیریز میں عمدہ کھیل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی سلوپچز بھی اعتماد کی بحالی معاون ثابت ہوسکتا تھا لیکن گرین شرٹس ناکامیوں کی داستان رقم کرتے رہے، دورہ نیوزی لینڈ میں بھی کارکردگی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی، ایک میچ میں کامیابی کے بعد فتح کی دیوی روٹھی رہی،اگلے دونوں معرکوں میں گرین شرٹس بغیر لڑے ہی ہار گئے۔
اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا چیلنج درپیش ہے، دنیا کی بیشتر ٹیموں نے فٹنس مسائل کی وجہ سے ایک دو تبدیلیوں پر اکتفا کرتے ہوئے بیک اپ میں موجود کھلاڑیوں کی مدد سے سکواڈ کو حتمی شکل دینے میں دیر نہیں لگائی، پاکستان نے طویل کشمکش کے بعد ڈیڈ لائن گزرنے کے 2روز بعد 15پلیئرز کے ناموں کا اعلان کیا۔
انہی کرکٹرز کو ایشیا کپ میں بھی شرکت منتخب کیا، غیر یقینی کیفیت کا شکار سلیکٹرز، کوچ اور کپتان نے حیران کن فیصلوں کا جوا کھیلا، احمد شہزاد دورہ نیوزی لینڈ میں ناکام رہے لیکن پاکستان سپر لیگ میں میسر آنے والی ایشیائی کنڈیشنز میں ان کی فارم واپس آتی نظر آرہی تھی، ماضی کا ریکارڈ ان کے حق میں، فیلڈنگ بھی اچھی تھی لیکن اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ نہ کھیلنے والے خرم منظور کو میگا ایونٹ میں ڈیبیو منتخب کرلیا گیا، اوپنرنے اس سے قبل صرف 16 ٹیسٹ اور7 ون ڈے میچز میں ملک کی نمائندگی کی ہے۔
انہیں پاکستان کی طرف سے محدود اوورز کا کوئی میچ کھیلے 6سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ غیر موزوں سمجھتے ہوئے پی ایس ایل کی کسی فرنچائز نے خرم منظور کی خریداری پر ایک ڈالر خرچ کرنا گوارا نہیں کیا لیکن سلیکٹرز نے انہیں ڈومیسٹک اور انگلینڈ لائنز کے خلاف کارکردگی کی بنیاد پر میگا ایونٹ میں جارحانہ کرکٹ کی آس لگالی،خدشہ یہی ہے کہ ایک آدھ میچ میں ناکامی کے بعد انہیں ڈراپ کرکے اوپننگ کا بوجھ کسی اور پر لاد دیا جائے گا، دوسری صورت میں قربانی کا بکرا بنائے جانے سرفراز احمد موجود ہوں گے۔
صہیب مقصود اور عمر گل ماضی میں باربار مواقع ملنے کے باوجود آزمائے گئے تھے لیکن ایک بار پھر فارم اور فٹنس ثابت نہ کرسکے، محمد رضوان دورہ نیوزی لینڈ میں ''مسٹر رن آؤٹ'' بنے رہے لیکن وکٹ کیپر بیٹسمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے رخصتی کا پروانہ ہی جاری کردیا گیا، پی ایس ایل کے عمدہ پرفارمر نوجوان آل راؤنڈر محمد نواز نے بجا طور اپنی جگہ بنائی، تاہم ورلڈٹی ٹوئنٹی میں کھیلنے کا موقع ملنے پر حریف ٹیموں کے تجربہ کار کھلاڑیوں کا سامنا ان کی ذہنی مضبوطی اور مہارت کا اصل امتحان ہوگا۔
دورہ نیوزی لینڈ میں ایک بھی میچ کھیلے بغیر افتخار احمد کی صلاحیتوں کو سلیکٹرز نے پرکھ لیا لیکن سعد نسیم اور عامر یامین نہ جانے کیوں بھارت میں شیڈول میگا ایونٹ غیر موزوں ہوگئے؟
پی ایس ایل کے دوران ہی چیف سلیکٹر ہارون رشید نے ایک ''خوشخبری'' بھی سنادی تھی کہ ایشیا کپ میں کارکردگی دیکھنے کے بعد بھی سکواڈ میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں، ہمارے پاس 8مارچ تک وقت موجود ہے،تاہم ایشیا کپ سے قبل ہی اکھاڑ پچھاڑ کے اس موقع سے حتی المقدور فائدہ اٹھاتے ہوئے تبدیلیوں کی نئی لہر دوڑا بھی دی گئی، فٹنس مشکوک قرار دیتے ہوئے رومان رئیس اور بابر اعظم کو ڈراپ کرکے پی ایس ایل میں متاثر کرنے والے محمد سمیع اور شرجیل خان کو شامل کرلیا گیا، افتخار احمد صرف ایشیا کپ میں سکواڈ کا حصہ ہوں گے۔
ورلڈٹی ٹوئنٹی میں ان کی جگہ خالد لطیف لیں گے، دوسری جانب پی ایس ایل میں صرف 48رنز سکور کرنے کیساتھ 4وکٹوں کی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے عماد وسیم کو ایک موقع اور دینے کا فیصلہ کیا گیا، کسی بھی میگا ایونٹ سکواڈ تشکیل دینے کے بعد دوسرا اہم ترین کام پلیئرز کو ذہنی طور پر صلاحیتوں کے مطابق پرفارم کرنے تیار کرنا ہوتا ہے لیکن پہلے چیف سلیکٹر نے سب پر غیریقینی کی تلوار لٹکائی، اب ایشیا کپ ڈھاکا میں موجود ہیڈ کوچ وقار یونس نے بھی روٹیشن پالیسی جاری رکھنے کا بیان داغ دیا ہے۔
اس ساری اکھاڑ پچھاڑ میں فی الحال ٹیم کا کوئی مستقل بیٹنگ آرڈر نظر نہیں آرہا،شرجیل خان کی آمد کے بعد نت نئی اوپننگ جوڑیاں دیکھنے کو ملیں گی، محمد حفیظ کا نمبر آگے پیچھے ہوگا، سرفراز احمد کو بھی کسی موقع پر آواز دینے کی پالیسی اپ سیٹ کرتی رہے گی، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ہمارے تجربات لیبارٹری ثابت ہوگا، سپین بولنگ میں پاکستان کے پاس شاہد آفریدی، شعیب ملک، محمد نواز کی صورت میں تجربے اور صلاحیت کا امتزاج موجود ہے، پیس بیٹری میں مشکوک فٹنس کے باوجود محمد عرفان سے توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔
وسیم اکرم کی رہنمائی میں انہوں نے پی ایس ایل میں اپنی طویل قامت کا فائدہ اٹھانے لینتھ تبدیل کی اور ایک بہتر بولر کے روپ میں سامنے آئے، وہ حریفوں خوف کی علامت بن سکتے ہیں، ان کیساتھ وہاب ریاض، محمد عامر بھی لیفٹ آرمر ہیں، موقع پڑنے پر رائٹ آرم بولرز محمد سمیع اور انورعلی کو آزمایا جاسکتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ کسی پلیئر کی ایک آدھ غیر معمولی کارکردگی شاید مضبوط حریفوں کو اپ سیٹ کرنے کا ذریعہ بن جائے،سلیکشن میں تسلسل تو نظر نہیں آسکا، ایشیا کپ میں ٹیم کمبی نیشن سے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ ہی کی جائے تو بہتر ہوگا، پلیئنگ الیون کے اندر باہر ہوتے پلیئر اعتماد سے عاری ہوگئے تو اپنے کردار سے انصاف کرنے ذہنی طور پر کیسے تیار ہونگے؟
قومی ٹیم کی ورلڈٹی ٹوئنٹی میں شرکت حکومت کی طرف سے گرین سگنل مل چکا، تاہم بھارت میں میچز کے دوران پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہوں گے، گزشتہ ٹورز میں ٹیم منیجر انتخاب عالم کی ڈسپلن کے حوالے سے گرفت ڈھیلی نظر آئی، بھارتی میڈیا پاکستان ٹیم کے حوالے سے منفی خبروں کی تلاش میں ہوگا، پڑوسی ملک میں منیجر سکیورٹی کرنل(ر) اعظم اور منیجر میڈیا آغااکبر کو بھی مستعد رہنا ہوگا۔
گزشتہ سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈکپ سے قبل بھی انوکھے فیصلے کئے گئے، مستقبل کی تیاری سے غافل پی سی بی کے پاس کوئی متبادل پلان تھا، نہ ہی میگا ایونٹ کی کنڈیشنز میں پرفارم کرنے والے کھلاڑی، ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان نظر آیا،گرتے پڑتے گرین شرٹس کا سفر کوارٹرفائنل میں تمام ہوا۔
بعد ازاں پورا سال ہیڈ کوچ وقار یونس بار بار اایک ہی جملہ دہراکر اپنی جان چھڑاتے رہے کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن غیر قانونی قرار پانے پر ٹیم کمبی نیشن خراب اور ہماری مشکلات میں اضافہ ہوا،انہوں نے یہ کبھی وضاحت نہیں کہ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں ناقص کارکردگی بھی کیا ان دونوں کھلاڑیوں پر پابندی کا نتیجہ تھی؟ ورلڈکپ کی ناکام مہم کے بعد ٹیم کی تعمیر نوپورا ایک سال تھا لیکن گرین شرٹس بہتری کی بجائے زوال کی جانب سفر کرتے نظر آئے۔
میگا ایونٹ کے دوران اور بعد ازاں ہر پریس کانفرنس میں وقار یونس اس عزم کا اظہار کرتے نظر آئے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرتے ہوئے ٹیم کو جارحانہ کرکٹ کے سبق پڑھائیں گے، ون ڈے میں 300سے زائد رنز عام سی بات ہوگئی، ہمیں بھی جدید انداز اپنانا ہوگا، تاہم عملی طور اس معاملے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی، زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز میں گرتے پڑے کامیابی کے بعد دورہ سری لنکا میں کئی اہم کھلاڑیوں سے محروم میزبان ٹیم کے مقابل فتح کے سوا محدود اوورز کی کرکٹ میں بہتری کے آثار نظر نہیں آئے۔
یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں انگلینڈ کیخلاف سیریز میں عمدہ کھیل ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی سلوپچز بھی اعتماد کی بحالی معاون ثابت ہوسکتا تھا لیکن گرین شرٹس ناکامیوں کی داستان رقم کرتے رہے، دورہ نیوزی لینڈ میں بھی کارکردگی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی، ایک میچ میں کامیابی کے بعد فتح کی دیوی روٹھی رہی،اگلے دونوں معرکوں میں گرین شرٹس بغیر لڑے ہی ہار گئے۔
اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا چیلنج درپیش ہے، دنیا کی بیشتر ٹیموں نے فٹنس مسائل کی وجہ سے ایک دو تبدیلیوں پر اکتفا کرتے ہوئے بیک اپ میں موجود کھلاڑیوں کی مدد سے سکواڈ کو حتمی شکل دینے میں دیر نہیں لگائی، پاکستان نے طویل کشمکش کے بعد ڈیڈ لائن گزرنے کے 2روز بعد 15پلیئرز کے ناموں کا اعلان کیا۔
انہی کرکٹرز کو ایشیا کپ میں بھی شرکت منتخب کیا، غیر یقینی کیفیت کا شکار سلیکٹرز، کوچ اور کپتان نے حیران کن فیصلوں کا جوا کھیلا، احمد شہزاد دورہ نیوزی لینڈ میں ناکام رہے لیکن پاکستان سپر لیگ میں میسر آنے والی ایشیائی کنڈیشنز میں ان کی فارم واپس آتی نظر آرہی تھی، ماضی کا ریکارڈ ان کے حق میں، فیلڈنگ بھی اچھی تھی لیکن اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ نہ کھیلنے والے خرم منظور کو میگا ایونٹ میں ڈیبیو منتخب کرلیا گیا، اوپنرنے اس سے قبل صرف 16 ٹیسٹ اور7 ون ڈے میچز میں ملک کی نمائندگی کی ہے۔
انہیں پاکستان کی طرف سے محدود اوورز کا کوئی میچ کھیلے 6سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ غیر موزوں سمجھتے ہوئے پی ایس ایل کی کسی فرنچائز نے خرم منظور کی خریداری پر ایک ڈالر خرچ کرنا گوارا نہیں کیا لیکن سلیکٹرز نے انہیں ڈومیسٹک اور انگلینڈ لائنز کے خلاف کارکردگی کی بنیاد پر میگا ایونٹ میں جارحانہ کرکٹ کی آس لگالی،خدشہ یہی ہے کہ ایک آدھ میچ میں ناکامی کے بعد انہیں ڈراپ کرکے اوپننگ کا بوجھ کسی اور پر لاد دیا جائے گا، دوسری صورت میں قربانی کا بکرا بنائے جانے سرفراز احمد موجود ہوں گے۔
صہیب مقصود اور عمر گل ماضی میں باربار مواقع ملنے کے باوجود آزمائے گئے تھے لیکن ایک بار پھر فارم اور فٹنس ثابت نہ کرسکے، محمد رضوان دورہ نیوزی لینڈ میں ''مسٹر رن آؤٹ'' بنے رہے لیکن وکٹ کیپر بیٹسمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے رخصتی کا پروانہ ہی جاری کردیا گیا، پی ایس ایل کے عمدہ پرفارمر نوجوان آل راؤنڈر محمد نواز نے بجا طور اپنی جگہ بنائی، تاہم ورلڈٹی ٹوئنٹی میں کھیلنے کا موقع ملنے پر حریف ٹیموں کے تجربہ کار کھلاڑیوں کا سامنا ان کی ذہنی مضبوطی اور مہارت کا اصل امتحان ہوگا۔
دورہ نیوزی لینڈ میں ایک بھی میچ کھیلے بغیر افتخار احمد کی صلاحیتوں کو سلیکٹرز نے پرکھ لیا لیکن سعد نسیم اور عامر یامین نہ جانے کیوں بھارت میں شیڈول میگا ایونٹ غیر موزوں ہوگئے؟
پی ایس ایل کے دوران ہی چیف سلیکٹر ہارون رشید نے ایک ''خوشخبری'' بھی سنادی تھی کہ ایشیا کپ میں کارکردگی دیکھنے کے بعد بھی سکواڈ میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں، ہمارے پاس 8مارچ تک وقت موجود ہے،تاہم ایشیا کپ سے قبل ہی اکھاڑ پچھاڑ کے اس موقع سے حتی المقدور فائدہ اٹھاتے ہوئے تبدیلیوں کی نئی لہر دوڑا بھی دی گئی، فٹنس مشکوک قرار دیتے ہوئے رومان رئیس اور بابر اعظم کو ڈراپ کرکے پی ایس ایل میں متاثر کرنے والے محمد سمیع اور شرجیل خان کو شامل کرلیا گیا، افتخار احمد صرف ایشیا کپ میں سکواڈ کا حصہ ہوں گے۔
ورلڈٹی ٹوئنٹی میں ان کی جگہ خالد لطیف لیں گے، دوسری جانب پی ایس ایل میں صرف 48رنز سکور کرنے کیساتھ 4وکٹوں کی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے عماد وسیم کو ایک موقع اور دینے کا فیصلہ کیا گیا، کسی بھی میگا ایونٹ سکواڈ تشکیل دینے کے بعد دوسرا اہم ترین کام پلیئرز کو ذہنی طور پر صلاحیتوں کے مطابق پرفارم کرنے تیار کرنا ہوتا ہے لیکن پہلے چیف سلیکٹر نے سب پر غیریقینی کی تلوار لٹکائی، اب ایشیا کپ ڈھاکا میں موجود ہیڈ کوچ وقار یونس نے بھی روٹیشن پالیسی جاری رکھنے کا بیان داغ دیا ہے۔
اس ساری اکھاڑ پچھاڑ میں فی الحال ٹیم کا کوئی مستقل بیٹنگ آرڈر نظر نہیں آرہا،شرجیل خان کی آمد کے بعد نت نئی اوپننگ جوڑیاں دیکھنے کو ملیں گی، محمد حفیظ کا نمبر آگے پیچھے ہوگا، سرفراز احمد کو بھی کسی موقع پر آواز دینے کی پالیسی اپ سیٹ کرتی رہے گی، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ہمارے تجربات لیبارٹری ثابت ہوگا، سپین بولنگ میں پاکستان کے پاس شاہد آفریدی، شعیب ملک، محمد نواز کی صورت میں تجربے اور صلاحیت کا امتزاج موجود ہے، پیس بیٹری میں مشکوک فٹنس کے باوجود محمد عرفان سے توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔
وسیم اکرم کی رہنمائی میں انہوں نے پی ایس ایل میں اپنی طویل قامت کا فائدہ اٹھانے لینتھ تبدیل کی اور ایک بہتر بولر کے روپ میں سامنے آئے، وہ حریفوں خوف کی علامت بن سکتے ہیں، ان کیساتھ وہاب ریاض، محمد عامر بھی لیفٹ آرمر ہیں، موقع پڑنے پر رائٹ آرم بولرز محمد سمیع اور انورعلی کو آزمایا جاسکتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ کسی پلیئر کی ایک آدھ غیر معمولی کارکردگی شاید مضبوط حریفوں کو اپ سیٹ کرنے کا ذریعہ بن جائے،سلیکشن میں تسلسل تو نظر نہیں آسکا، ایشیا کپ میں ٹیم کمبی نیشن سے زیادہ چھیڑ چھاڑ نہ ہی کی جائے تو بہتر ہوگا، پلیئنگ الیون کے اندر باہر ہوتے پلیئر اعتماد سے عاری ہوگئے تو اپنے کردار سے انصاف کرنے ذہنی طور پر کیسے تیار ہونگے؟
قومی ٹیم کی ورلڈٹی ٹوئنٹی میں شرکت حکومت کی طرف سے گرین سگنل مل چکا، تاہم بھارت میں میچز کے دوران پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہوں گے، گزشتہ ٹورز میں ٹیم منیجر انتخاب عالم کی ڈسپلن کے حوالے سے گرفت ڈھیلی نظر آئی، بھارتی میڈیا پاکستان ٹیم کے حوالے سے منفی خبروں کی تلاش میں ہوگا، پڑوسی ملک میں منیجر سکیورٹی کرنل(ر) اعظم اور منیجر میڈیا آغااکبر کو بھی مستعد رہنا ہوگا۔