دہشت گردوں کی شکست یقینی ہے

دہشتگردی کے بارے میں اب یہ تصور مسلمہ ہے کہ دنیا کو بحیثیت مجموعی دہشتگردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے

اگر اپوزیشن نے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے میں دانشمندی اور جوش و جذبہ سے کام لیا تو قوم دیکھے گی کہ دہشتگردوں کی شکست فاش زیادہ دور نہیں۔ فوٹو؛فائل

اب اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہم جس عہد میں جی رہے ہیں وہ عہد وحشت ہے جس میں دہشتگردوں، عسکریت پسندوں اور گن پوائنٹ پر اپنے خود ساختہ ایجنڈے کی تکمیل پر کمر بستہ جنگجوؤں نے دنیا کو حصار میں لے لیا ہے۔ یوں دہشتگردی کے بارے میں اب یہ تصور مسلمہ ہے کہ دنیا کو بحیثیت مجموعی دہشتگردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے، سب نائن الیون کے بعد سے عالمی امن، اقتصادی ترقی و استحکام کے لیے نوع انسانی کے مشترکہ مستقبل کی فکر میں غلطاں ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں مکمل امن کی بحالی کا جس عزم کا اظہار گزشتہ روز کیا وہ دہشتگردی کے اسی عالمی عفریت کو روکنے اور شکست دینے سے عبارت ہے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کو تیز کیا جائے، وفاق ہر طرح کا تعاون کرے گا۔ شہر قائد کی روشنیاں دوبارہ واپس لے کر آئیں گے۔ ان کا انداز نظر یہ ہے کہ امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے ساتھ ساتھ ترقی کا عمل بھی تیز ہو رہا ہے۔ شہر میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، قتل و غارت سمیت جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور انھیں مکمل ختم کرتے ہوئے کراچی میں امن و امان کو بحال کیا جائے گا۔

ہمارا عزم ہے کہ جب تک کراچی کا امن مکمل بحال نہیں ہو جاتا آپریشن بند نہیں ہو گا۔ اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کراچی آپریشن میں پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور انھیں شاباش دی۔ تاہم یہ ٹاسک مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، کیونکہ پاکستان مین پہلی بار احتساب اور جرائم پیشہ گروہوں، مختلف مافیاؤں اور قتل و غارت میں ملوث عناصر سمیت طالبان کے انتہا پسند مذہبی دھڑوں، کالعدم تنظیموں اور اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف ایک ہمہ گیر کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔

ایک طرف پاک فوج نے فاٹا سے ان گروپوں کے نشیمن اجاڑ کر رکھ دیے جو ہرکولیس اور چنگیز خان بن کر شمالی و جنوبی وزیرستان پر اپنی سلطنت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے، آج ان کے نام نہاد کمانڈرز افغانستان میں روپوش ہیں یا کراچی، کوئٹہ، پشاور اور پنجاب کے شہری و دیہی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے یکساں موقف اور مستحکم حکمت عملی کے ذریعے دہشتگردوں کا بھرپور تعاقب شروع کیا ہے۔


آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں ہماری حالیہ کامیابیوں اور روایتی جنگی تربیت کے معیار سے ثابت ہو گیا کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ وفاقی حکومت ماضی کے برعکس دلیرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، دہشتگردوں کو عدالتوں سے بہیمانہ جرائم کی سزائیں مل رہی ہیں۔ صوبائی حکومتیں ادراک کرنے لگی ہیں کہ دہشتگرد کسی کے دوست نہیں۔

انہیں پکڑنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کام ہونا چاہیے تا کہ دہشتگرد اور کرپٹ و کرمنل عناصر ایک شہر سے نکل کر دوسری جگہ چھپ نہ سکے، کوئی بیرون ملک فرار نہ ہو سکے، ایسی اطلاعات خوش آیند ہیں کہ دہشتگردوں کو موثر انٹیلی جنس پر مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک خبر کے مطابق کینٹ کے علاقہ میں صدر ممنون حسین کے قافلے میں شامل دو گاڑیوں کے پولیس ڈرائیورز کو مشکوک حرکات پر حساس اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔ یہ ٹیررازم مخالف اسٹرٹیجی کا نکتہ عروج ہے، سیکیورٹی حکام کی افغانستان کی صورتحال پر بھی نظر ہے جہاں افغان سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن میں داعش کے7 جنگجوؤں سمیت50 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے، اسلام آباد سے اغوا ہونے والے سابق افغان گورنر فضل اﷲ واحدی کو مردان سے بازیاب کرا لیا گیا، افغانستان نے فضل اﷲ واحدی کو غیر مشروط طور پر بحفاظت بازیاب کرانے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اس منظم میکنزم کو ہمہ جہتی شکل دینے کی ضرورت ہے، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پشاور نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشتگر د کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے دو عدد ہینڈ گرنیڈ اور ایک عدد بم بر آمد کر لیا۔ لیاری گینگ وار کے لیڈر راشد بلوچ کے سہو لت کار نواب گل کو بھی بھانہ ماڑی سے گرفتار کیا گیا۔ گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے خلاف تحقیقات جاری ہے، دہشتگردوں کے سہولت کاروں میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے، ان کے مالیاتی گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے، اربوں کھربوں کے کرپشن کیسز عدالتوں میں فیصلہ پذیر ہونے کے منتظر ہیں۔ مقدمہ حساس اداروں نے چینی تعمیراتی کمپنی اور ٹرین پر دہشتگردوں کے حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، مراسلے میں چینی کمپنی اور ٹرین کی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ حقائق ایک تبدیل شدہ سیاسی و عسکری حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ریاست مخالف قوتیں احساس شکست سے دوچار ہیں، وہ جان چکی ہیں کہ دہشت گردی کا اونٹ پہاڑ تلے آ گیا ہے، وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کی طرف سے مسلسل کمک ملنی چاہیے، انٹیلی جنس کا یہی معیار رہا جب کہ کرپشن، جرم، ظلم اور ناانصافی کے خلاف ارباب اختیار جمہوری روایات اور شفاف سیاسی طرز عمل پر مبنی قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے پر متحد و متفق رہے، اگر اپوزیشن نے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے میں دانشمندی اور جوش و جذبہ سے کام لیا تو قوم دیکھے گی کہ دہشتگردوں کی شکست فاش زیادہ دور نہیں۔
Load Next Story