نجی تعلیمی اداروں کو فیسیں بڑھانے سے روکنے کا قانون

سرکاری اسکول،کالجوں اوریونیورسٹیوں کی تعدادبہت کم ہےحکومت نئےتعلیمی ادارےقائم نہیں کررہی جسکا خلا نجی شعبہ پوراکررہاہے

تعلیم کے میدان میں اول تو ملک بھر میں ہر سطح پر یکساں نصاب نافذ کیا جانا چاہیے اور اساتذہ کا وقار بڑھانا چاہیے، فوٹو : فائل

پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی فیسوں نے متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے، نجی شعبے میں قائم اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں والدین سے بھاری فیس وصول کر رہے ہیں خصوصاً امریکن اور برطانوی اسکول سسٹم کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی فیسیں متوسط طبقے کی بساط سے باہر ہیں۔

سرکاری اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعداد بہت کم ہے، حکومت نئے تعلیمی ادارے قائم نہیں کر رہی جس کا خلا نجی شعبہ پورا کر رہا ہے۔ بلاشبہ نجی شعبہ بھی پاکستان میں معیاری تعلیم کو فروغ دے رہا ہے لیکن نجی شعبے کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ اب پنجاب میں اس حوالے سے قانون سازی کی گئی ہے کہ نجی تعلیمی ادارے از خود فیسوں میں اضافہ نہیں کر سکیں گے۔

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو فیسوں میں اضافہ کرنے سے روکنے اور واجبات کا نظام ریگولیٹ کرنے کا ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے مطابق نجی تعلیمی ادارے از خود فیسوں میں اضافہ نہیں کر سکیں گے بلکہ اس کے لیے تعلیمی سال کے آغاز سے کم از کم تین ماہ قبل رجسٹریشن اتھارٹی کو درخواست دی جائے گی نیز تعلیمی ادارے والدین کو کسی مخصوص مقام سے نصابی کتب، یونیفارم وغیرہ خریدنے کا پابند بھی نہیں کر سکیں گے اور فیسوں میں اضافہ بھی 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا۔


خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو 20 ہزار روپے یومیہ جرمانہ ہو گا نیز اس ادارے پر 20 لاکھ روپے کی پنالٹی بھی عائد کی جا سکے گی۔ تعلیم کی تمام شہریوں کو فراہمی اصولی طور پر تو ریاست کی ہی ذمے داری ہے جس پر قیام پاکستان کے ابتدائی کئی سال تک عمل بھی ہوتا رہا جب اسکولوں کی فیس روپوں تو کجا آنوں اور پیسوں میں وصول کی جاتی تھی، اب عام آدمی کے لیے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے درست اقدام کیا ہے لیکن اسے ہوشربا فیسوں میں کمی کرنے کا فیصلہ بھی کرنا چاہیے۔ بہرحال کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے۔ دوسرے صوبوں کو بھی اس حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں۔

تعلیم کے میدان میں اول تو ملک بھر میں ہر سطح پر یکساں نصاب نافذ کیا جانا چاہیے اور اساتذہ کا وقار بڑھانا چاہیے تا کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان تدریس کی طرف آئیں۔ موجودہ حالت میں تو اسکول ٹیچر کے لیے گھر چلانا انتہائی دشوار ہے جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیچر کا درجہ معاشرے میں سب سے بلند ہے۔

انھیں عدالت میں کرسی پیش کی جاتی ہے۔ اب پنجاب حکومت نے جہاں نجی تعلیمی اداروں پر بلا اجازت فیسوں میں من مانے اضافے پر پابندی لگا دی ہے وہاں اس اہم ترین شعبے کی دیگر قباحتوں کو دور کرنے کے لیے بھی قانون سازی کرنی ہو گی کیونکہ تعلیم کا شعبہ ہی ملک و قوم کی عزت اور وقار کو دنیا بھر میں سربلند کر سکتا ہے۔
Load Next Story