ویل ڈن مسٹر پرائم منسٹر

ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی عورتوں کی سنوائی وزیراعظم ہاؤس میں ہو گی۔

zahedahina@gmail.com

KARACHI:
ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی عورتوں کی سنوائی وزیراعظم ہاؤس میں ہو گی۔ کاری کر دی جانے والی لڑکیوں کی چیخیں بھی انسانی چیخیں سمجھی جائیں گی اور ان کو انصاف ملنے کی بات وزیراعظم کے لبوں سے نکلے گی۔

قلم جب سے ہاتھ میں آیا، دوسرے موضوعات کے علاوہ سماج میں عورتوں پر گزرنے والے ظلم و ستم پر لکھنے کو اپنا فرض جانا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی ملک کی نصف آبادی کے ساتھ عمومی طور پر غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہو، اسے اس کا حق نہ دیا جاتا ہو اور پھر فرض کر لیا جائے کہ وہ ملک ترقی کرے گا اور قوموں کی برادری میں باوقار ٹھہرے گا۔

مجھے اس وقت اگست 1999ء کے دن یاد آتے ہیں جب پاکستان کے ایوان بالا میں مرحوم جمیل الدین عالی، مرحوم اقبال حیدر اور سینیٹر اعتزاز احسن نے غیرت کے نام پر عورتوں کے بے دریغ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی اور اس حوالے سے ایک قرارداد پیش کرنی چاہی تھی۔ اس کا فوری سبب حنا جیلانی کے دفتر میں اپنے چچا اور ماں کے ہاتھوں قتل ہونے والی سمیعہ سرور کا الم ناک واقعہ بنا تھا جسے 'غیرت کا قتل' قرار دیا گیا تھا اور جسے ہمارے ایوان بالا کے بعض اراکین نے 'جائز' اور اپنی روایات کا حصہ کہا تھا۔

ہمارے اس وقت کے ایوان بالا کی غالب اکثریت نے خواتین پر تشدد کی مذمت میں تیار کی جانے والی قرارداد کو نہ صرف یہ کہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ سمیعہ سرور کے قتل پر ہونے والے احتجاج کو ''خرافات'' قرار دیا۔ لطف کی بات تو یہ ہے کہ ایوان بالا میں ''غیرت'' کے نام پر عورتوں کے قتل کے خلاف پیش کی جانے والی ایک بے ضرر قرارداد کی مخالفت کرنے والوں میں جسٹس جاوید اقبال بھی تھے اور سوشلسٹ انقلاب کے نام پر ترک وطن کرنے والے اجمل خٹک بھی۔ ان مخالفین میں اسلام اور شریعت کے نام پر سیاست کرنے والے بھی تھے اور وہ بھی جنھیں اپنی لبرل سیاست پر ناز تھا۔

اس وقت یہ تمام باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ پرائم منسٹر ہاؤس میں شرمین عبید چنائے کی ڈاکومنٹری فلم ''اے گرل ان دی ریور'' دکھائی گئی۔ وہ لڑکی جو باپ اور چچا کی طرف سے کاری کر کے دریا میں پھینک دی گئی تھی، اس کے باوجود زندہ بچ جاتی ہے۔ یہ اٹھارہ سالہ لڑکی جس کا نام صبا قیصر ہے اس کی خطا صرف یہ تھی کہ وہ ایک ایسے نوجوان سے شادی کرنا چاہتی تھی جو حسب نسب میں اس سے کم تھا۔

خاندان کے مردوں نے فیصلہ کیا کہ صبا قیصر کو قتل کر دینا چاہیے کیونکہ اس نے خاندان کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ شرمین عبید چنائے اس سے پہلے ان لڑکیوں پر فلم بنا چکی ہے جن کے چہرے تیزاب پھینک کر مسخ کر دیے گئے اور ان میں سے کئی جان سے گزر گئیں۔ ''سیونگ فیس'' کو 2012ء میں آسکر ایوارڈ ملا اور اب اس نے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل سے بچ جانے والی صبا قیصر پر فلم بنائی ہے جو 88 ویں اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی ہے۔

اس فلم کو دیکھنے کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے شرمین کو بہت داد دی اور کہا کہ پاکستان کی اس بیٹی نے ہم سب کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کا غیرت سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے اپنے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ خواتین کو ہر میدان میں آگے بڑھنے اور مساوی مواقع فراہم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ میاں صاحب کی یہ خواہش ان تمام عورتوں اور مردوں کے لیے ایک مژدۂ جانفزا ٹھہرتی ہے جو پاکستان بننے کے بعد سے عورتوں کو مساوی حقوق دلانے کے خواہش مند ہیں لیکن ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

زیادہ پرانی نہیں، صرف 5 برس پہلے کی بات ہے کہ جب دسمبر 2011ء میں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایک خاتون رکن نے پوائنٹ آف آرڈر پر اسمبلی کے تمام اراکین کی توجہ اس بات پر دلائی تھی کہ گیارہ مہینوں میں سندھ کے اندر 577 لڑکیاں اور عورتیں غیرت کے نام پر قتل کی گئیں۔ یہ خوفناک رجحان کینسر کی سی تیزی سے پھیل رہا ہے اور گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران 43 عورتیں غیرت کے نام پر قتل کر دی گئی ہیں۔

خاتون رکن اسمبلی کا یہ بیان صوبائی اسمبلی کے اراکین پر بم کی طرح گرا اور ایوان میں سناٹا چھا گیا۔ ان خاتون نے بتایا کہ چند دنوں پہلے ضلع شکارپور میں ایک عورت کو قتل کیا گیا اور اسے غسل، کفن اور کسی مذہبی رسم کے بغیر کسی نامعلوم مقام پر دفنا دیا گیا۔


یہ واقعات اب اتنے عام ہو چکے ہیں کہ لوگوں پر ان کا اثر ہونا بھی ختم ہو گیا ہے۔ اس بارے میں پولیس اور علاقے کے بااثر زمینداروں کا رویہ ناقابل معافی ہے جو اس طرح کے واقعات کو نظر انداز کر دینے میں ہی اپنی 'شان' سمجھتے ہیں۔ پولیس کے لیے اس نوعیت کے قتل 'آمدنی' کا ذریعہ ہیں۔ وہ قاتل سے بھاری رقم لے کر اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اگر قاتل گرفتار بھی ہو جائے تو وہ 'اعتراف جرم' یہ کہہ کر کرتا ہے کہ ایسا اس نے اپنی 'غیرت' کی وجہ سے اشتعال کی حالت میں کیا۔

اس 'اعتراف' کی وجہ سے اس شخص کو معمولی سزا ہوتی ہے جسے کاٹ کر وہ جیل سے باہر آتا ہے اور اپنے علاقے میں 'ہیرو' سمجھا جاتا ہے۔ غیرت کے یہ قتل عموماً جائیداد کی خاطر یا کسی شخص سے پرانی دشمنی کا حساب چکانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ بہنیں اگر بیاہ دی جائیں تو پھر جائیداد کی تقسیم کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر ذاتی دشمنی کی بنا پر کسی شخص کو قتل کرنا ہے تو اس کو انجام تک پہنچانے کے بعد اپنی بیوی، بہن یا بھاوج اور بعض حالات میں ماں تک کو قتل کر کے دشمن کی لاش کے برابر میں ڈال دیا جاتا ہے اور مقتولین پر ناجائز تعلقات کا الزام لگایا جاتا ہے۔ پاکستان ہو، ہندوستان یا بنگلہ دیش ہو، ان ملکوں میں غریب اور اثر و رسوخ سے محروم عورتوں کے ساتھ ہونے والا سلوک عموماً افسوسناک اور بعض حالتوں میں شرمناک ہے۔ کچھ دنوں سے ہمارے یہاں شادی سے انکار یا گھریلو جھگڑے کا انتقام لینے کے لیے لڑکیوں اور عورتوں پر تیزاب پھینک کر ان کا چہرہ بگاڑ دینا یا ان کی آنکھیں ضایع کرنا کوئی انوکھی بات نہیں رہا۔

شرمین نے 2011ء میں تیزاب کا شکار ہونے والی لڑکیوں پر ایک فلم بنائی تھی جس پر اسے 2012ء میں آسکر انعام سے نوازا گیا اور اب نام نہاد غیرت کے قتل کے معاملے پر اس کی فلم اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کی جا چکی ہے۔ اپنی اس فلم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ اس موضوع پر بہت دنوں سے فلم بنانا چاہ رہی تھی لیکن غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والیاں اپنی داستان ستم سنانے کے لیے زندہ نہیں رہتیں۔

صبا قیصر کے بچ جانے کی خبر جیسے ہی شرمین کو ملی، اس نے رابطے شروع کر دیے اور اس اسپتال تک جا پہنچی جہاں صبا کا علاج ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر خود بیٹیوں کا باپ تھا اور اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اپنی بیٹی یا بھتیجی کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کیسے کر سکتا ہے۔ صبا اور اس کے شوہر کی خواہش تھی کہ ان پر ہونے والا ظلم زیادہ سے زیادہ لوگوں کے علم میں آئے تا کہ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ یہ کتنا خوف ناک جرم ہے۔

شرمین اور اس کی ٹیم کو بڑی مشکل سے صبا کے خاندان تک رسائی ہوئی۔ صبا کی والدہ اور بھائی بہن سب ہی اس واقعے سے دہشت زدہ تھے۔ اسے یقیناً بہت مشکل ہوئی لیکن آخرکار شرمین اور اس کی ٹیم کے لیے یہ ممکن ہو سکا کہ وہ اس کے گھر اور گرد و نواح کی فلم بنا سکیں، گھر والوں سے بات کر سکیں۔

فلم کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جب شرمین نے جیل میں صبا کے باپ سے ملاقات کی۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے وہ شخص تھا جو اس وقت بھی اپنے آپ کو درست سمجھ رہا تھا۔ اس سے سوالات کرتے ہوئے شرمین کو اپنے جذبات چھپانے اور اپنے غصے کو ضبط کرنے میں بہت مشکل ہوئی۔

صبا کا باپ اس وقت بھی یہی کہہ رہا تھا کہ مجھے موقع ملے تو میں آیندہ بھی یہی کروں گا۔ شرمین کا کہنا ہے کہ میں سوچتی رہی کہ اس شخص نے دنیا کے بارے میں سماجی اور خاندانی ذمے داریوں کے بارے میں دوسرا زاویہ نظر دیکھا ہی نہیں تھا۔ غیرت کے قتل جیسے سماجی کینسر کا علاج اسی وقت ممکن ہے جب میڈیا، وکیل، جج، پولیس اور نہایت بااثر افراد اپنا وزن سماجی انصاف کے پلڑے میں ڈالیں اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کریں کہ عورت بھی مرد کی طرح انسان ہے، وہ بھی اپنے حقوق رکھتی ہے، اسے آپ تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے محروم نہیں کر سکتے، نہ اپنی پسند کی شادی کرنے پر 'کاری' قرار دے کر اس کا قتل کر سکتے ہیں اور اس قتل کے بعد سینہ پھلا کر اپنے خاندان اور علاقے میں ہیرو نہیں بن سکتے۔

وزیراعظم نے اپنے آفس میں یہ فلم خود دیکھی اور سفیروں، وزیروں، پارلیمان کے اراکین اور دوسرے بہت سے لوگوں کو دکھائی۔ نواز شریف اب ایک بدلے ہوئے انسان ہیں۔ کاش دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہ بھی اس مسئلے پر یہی رویہ اختیار کریں۔
Load Next Story