راجندرسنگھ بیدری اورلاہور ’’عشق کے لیے لاہورسے بہتردنیا میں کوئی اورجگہ نہیں‘‘

ایک ٹی وی انٹرویو میں ذکر لاہور پر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے تھے

47ء میں ان کے پبلشنگ ہاؤس کے دفتر اور گودام کو لوٹ کر جلا دیا گیا تھا ۔ فوٹو : فائل

راجندر سنگھ بیدی نے لکھا '' عشق کے لیے لاہورسے بہتر دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں۔'' اس شہر سے تقسیم کے ہنگام ، وہ برے حال بانکے دھاڑے جان بچاتے چلے گئے تھے ، پراس کی یاد انھیں تڑپاتی رہی ۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں وہ ذکر، لاہور پر پھوٹ پھوٹ کر روئے ۔ یکم ستمبر 1915ء کو لاہورمیں آنکھ کھولنے والے، اس ادیب نے، بچپن میں اس شہر میں انسان کے ہاتھوں انسان کا خون بہتے دیکھا ،جس کا اس قدر گہرا اثر قبول کیا کہ وقتی طور پر قوت گویائی سے محروم ہوگئے۔

لکھنے کا آغاز کیا تو نام رکھا ، محسن لاہوری۔ کالج میگزین میں نظم سے ادبی سفر شروع کیا۔ پنجابی میں خامہ فرسائی بھی کی۔ ''دکھ سکھ ''کے عنوان سے کہانی لکھی۔ اردو میں پہلی کہانی رابندر ناتھ ٹیگور کے رنگ میں ''مہارانی کا تحفہ '' تھی جس نے 1936ء میں ''ادبی دنیا'' کے سالنامے میں شائع ہو کر بہترین کہانی کا انعام حاصل کیا ۔

اس کے بعد چل سو چل ۔ مزے سے کہانیاں لکھیں۔ افسانوں کا مجموعہ ''دانہ و دام '' چھپ گیا ۔ یہ مگر پتا نہ تھا کہ کتاب کی رائلٹی بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ اوپندر ناتھ اشک سے یہ معلوم پڑا تو پبلشر سے دو دو ہاتھ کرنے گئے، اس نے پہلے تو گنڈیریوں پر ٹرخا دیا ، لیکن بعد میں پیسے بھی دے دیے ۔ پبلشر تھے، نذیر احمد چودھری ، جن سے بعد ازاں ان کا تعلق ، پبلشر رائٹر کی سطح سے اٹھ کر گہری دوستی میں بدل گیا ۔

بیدی کے لاہور سے رشتے ناتے کے بارے میں باتیں بہت سی ہیں، جن کے بیان سے پہلے اس ماحول کا ذکر ہو جائے،جس نے انھیں کہانی کار بنانے میں بنیاد کے پتھر کا کام کیا ۔ بیدی کے بقول ''میری ماں اکثر بیمار رہا کرتی تھیں اور میرے والد جو بہت ہی devoted قسم کے شوہر تھے ، ایک دھیلے کرایے پر بازار سے ناول لے آتے تھے اور میری بیمار ماں کے پاس بیٹھ کے انھیں سنایا کرتے تھے ۔ ہم بچے پائنتی میں دبک کر سنا کرتے تھے۔

آپ مانیں گے کہ پانچ چھ سال کی عمر میں شرلاک ہومز ، ٹاڈزراجستھان ، مسٹریز آف دی کورٹ آف پیرس اور رطب ویابس قسم کے ناول جو تھے وہ ہمارا پس منظر ہو گئے۔

افسانہ تو شعور کی چیز ہے۔ شعور میں ایک شکل بیٹھ گئی افسانے کی،چناچہ جب میں نے انیس یا بیس برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ کوئی دقت ہی نہیں پیش آرہی۔ میرے ایک چچا تھے جن کے پاس ایک پرنٹنگ پریس تھا لاہور میں ، وہاں اردو کی کتابیں چھپتی تھیں۔ پہلے لاہور میں تو اردو ہی کا رواج تھا۔ ہر کتاب جو وہاں چھپتی اس کی دو تین کاپیاں وہاں پڑی رہا کرتی تھیں۔ کچھ ترجمے کی صورت میں کچھ اوریجنل ۔ کچھ تیرتھ رام فیروز پوری ٹائپ کے ، کچھ رومانی قسم کے، وہ سب پڑھے تھے۔ اور جب دوسرے بچے ادھر ادھر کھیلا کرتے تھے، میں مکان کی چھت پہ بیٹھ کے انھیں پڑھا کرتا تھا۔ وہ بھی بنیاد بن گئے،میری افسانے نگاری کی۔''

راجندر سنگھ بیدی نے پانچویں جماعت تک تعلیم لاہور کینٹ کے ایک اسکول میں حاصل کی۔ والد کا تبادلہ کینٹ سے شہر کے ڈاک خانے میں ہو گیا تو کے ایس بی بی ایس خالصہ اسکول میں داخلہ ہو گیا ، جہاں سے میٹرک کیا ۔ ڈی اے وی کالج سے انٹرمیڈیٹ کر لیا تو والد نے بیٹے کوڈاکخانے میں کلرک بھرتی کرا دیا ۔ روزگارکے ساتھ ساتھ لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رہا ۔ نوکری کے ہلے سے لگے تو ایک برس بعد شادی ہو گئی ۔ بچے ہوگئے ۔ تنخواہ قلیل۔ خرچے زیادہ۔ گزر بسر مشکل سے ہوتی ۔ بیوی ، صابرشاکر نہ ہوتی تو زندگی اجیرن ہو جاتی ۔ فکشن کے ساتھ ریڈیو کے لیے بھی لکھتے ۔

ڈاک خانے میں ملازمت کا عرصہ بیدی پر بھاری گزرا ۔ طوعاً و کرہاً یہ کام کرتے رہے ۔ ان کے بقول :
''جب ڈاک خانے میں کام کرتا تھا توڈیوٹی کے گھنٹے مقرر نہ ہونے کے برابر تھے۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ سترہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی دینی پڑتی تھی۔ کام کی کوئی حد نہیں تھی۔ ہر طرح کا کام کرنا پڑتا تھا۔ چٹھیاں چھانٹو ،فائلیں ادھر سے ادھر لے جائو،افسروں کے خط ان کے گھروں پر پہنچائو۔ بڑا برا حال ہو جاتا تھا تھک کر۔رات کوگھر پہنچ کر یوں لگتا کہ اب بستر سے اٹھا نہیں جائے گا۔ پھر جب میری ڈیوٹی منی آرڈر والی کھڑکی پر لگی توبھاگ دوڑ ذرا کم ہوگئی۔

اس کام کے زمانے میں ایک لطیفہ ہوا تھا۔ لوگوں سے منی آرڈر اور روپے وصول کرنے کے بیچ میں ہی میں کہانی بھی لکھا کرتا تھا۔ ایک دن یہی حرکت کر رہا تھا کہ کسی نے سو روپے منی آرڈرکرنے کے لیے فارم دیا،میں نے فارم لے کر رسید بنا دی اور سو روپے لینے بھول گیا۔ حساب کیا تو خبر ہوئی کہ سوروپے کم ہیں،سب کہانی وہانی بھول گیا۔ اس دن کے تمام فارموں کے پتے لکھے اور لوگوں سے پوچھتا پھرا۔ وہ آدمی جس نے روپے نہیں دیے تھے اوررسید لے گیا تھا،جب ملا توکہنے لگا: ''سردار جی!اوروں کے بارہ توبارہ بجے ہی بجتے ہیں مگر لگتا ہے کہ تمھارے بارہ سارے دن بجتے ہیں۔ ''

راجندر سنگھ بیدی کے ہاں اپنی تعلیم ادھوری رہ جانے کا احساس رہا۔ لاہورکینٹ سے ان کا تبادلہ شہر میں ہوگیا تو منشی فاضل میں داخلہ لیا جہاں غم روزگار سے فراغت کے بعد پہنچ جاتے ،یہ سلسلہ مگرزیادہ لمبا نہ کھینچا،جس کی وجہ لاہورمیں مسجد شہید گنج کے باعث پیدا ہونے والی کشیدہ فضا بنی۔ ڈاکخانے میں کام کے دوران'' ادب لطیف ''کے اعزازی مدیر بھی بنے۔ ان کے بقول''وہ کام اعزازی تھا،بالکل اعزازی تھا۔ وہ پیسا ویسا دینے میں بالکل یقین نہیں رکھتے تھے،وہاں (لاہورمیں)میں پوسٹ آفس کا کام بھی کرتا تھا اورساتھ ہی یہ بھی کرتا تھا۔''

بیدی نے دس برس سے زائد عرصہ ڈاکخانے کی ملازمت کے بعد آخرکار 1943ء میں اس کمبل سے جان چھڑالی۔ اس وقت جی پی او میں ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔کنھیا لال کپورکے بقول ، بیدی نے یہ ملازمت کرشن چندر کے کہنے پر چھوڑی ،جس سے اس کے سب دوستوں کوحیرت بھی ہوئی کہ بیدی جیسے کم ہمت نے یہ فیصلہ کیسے کرلیا ۔اس ملازمت کوتیاگ کر ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھے۔ اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے ریڈیومیں کام کیا۔ ریڈیو میں ملازمت دلانے میں پطرس بخاری کا ہاتھ تھا۔

برطانیہ اورجاپان کی لڑائی کے دوران ان کو پانچ سو روپے تنخواہ پر پشاور بھیج دیا گیا۔ ایک سال بعد دوبارہ لاہورآگئے۔مہیشور فلمز کے لیے چھ سو روپے مہینہ پرفلم لکھی۔ اس زمانے میں حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میںشریک ہوتے ۔ تخلیقات پیش کرتے ۔ دوسروں کی نگارشات پر رائے دیتے۔ لاہور میںکئی نامور ادیبوں سے دوستانہ مراسم قائم ہوئے ، سب سے بڑھ کردوستی اوپندرناتھ اشک سے تھی ۔ ان کے بقول ''بھئی، سب سے پہلے تو اوپندر ناتھ اشک میرے دوست تھے۔ میں نے ان کے لیے اور انھوں نے میرے لیے بہت کچھ کیا۔ ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا اور وہ میرے گھر میں پڑے رہتے تھے ،وہ خدمت کرتے تھے میری اور میں خدمت کرتا تھا ان کی۔۔۔اس طرح ہماری دوستی لمبے عرصے تک چلی۔۔۔گول باغ میں ہمارا جانا۔۔۔اورایسی جگہوں میں ہمارا جانا کہ ہم گھنٹوں گزارسکیں ۔''

راجندر سنگھ بیدی نے 1946ء میں سنگم پبلشر لمٹیڈ قائم کیا ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ تقسیم قریب آگئی تھی، لیکن بیدی کا لاہور ہی میں رہنے کا ارادہ تھا ،اس لیے وہ ادھر پبلشنگ ہائوس کھول رہے تھے ۔ سنگم پبلشر لمیٹڈ کے پلیٹ فارم سے جو کتابیں شائع ہوئیں، ان میں بیدی کی اپنی ڈراموں کی کتاب ''سات رنگ '' بھی شامل تھی۔ بیدی کو پبلشنگ کے کام سے دلچسپی بہت تھی۔ اپنے ادارے سے شائع ہونے والی کتابوںکا تعارف خود لکھتے ۔ چیخوف کی لمبی کہانی ''مائی لائف'' کامشتاق بھٹی کے قلم سے ترجمہ کتابی صورت میں چھاپا تو اس کے شروع میں چیخوف کے فن پر سیرحاصل بات کی ۔

عبدالمجید بھٹی کے شعری مجموعے ''نام وننگ ''کے بیک فلیپ پر مطلبی فرید آبادی کے مجموعۂ کلام ''ھیاھیا'' کا تعارف بھی بیدی نے لکھا۔ یوگینی نکولائیوچ چرخوف کے ناول کا ''سحر ہونے تک ''کے عنوان سے ابن انشا کے قلم سے ہونے والا ترجمہ بھی چھاپا، ابن انشا ء کے بقول، اس اشاعتی ادارے کی طرف سے شائع ہونے والی یہ پہلی کتاب تھی ۔

بیدی کی زبان پراعتراض بھی ہوتا رہا ہے جس کی وجہ بیانیہ میں پنجابی زبان کے اثرات بھی تھے ۔ بیدی کا اس اعتراض پرنقطہ نظرتھا ''ایک پنجابی کا اپنا انداز ہے اردو میں لکھنے کا ۔ یا تو ایسا ہے کہ میں لکھنؤ میں پیدا ہوا ہوتا ،جس زمانے میں زبان کا گھر لکھنؤ یا دلی سمجھے جاتے تھے ، میں بدقسمتی یا خوش قسمتی سے لاہور میں پیدا ہوگیا اور وہیں کا اثر میں نے قبول کیا ۔''گرم کوٹ ، بیدی کا مشہور افسانہ ہے ، اس کا سارا ماحول لاہور کا ہے اور یہ ایک طرح ان کی ذاتی زندگی سے بھی تعلق رکھتا ہے ، انھوں نے خود ایک جگہ کہہ رکھا ہے ''ہم نے اپنے ہی لوگوں کے بارے میں لکھا ہے ۔

اپنے مسائل کے بارے میں ، بلکہ اپنی زندگی کے بارے میں ،جسے آٹوبایوگرافی بھی کہہ سکتے ہیں ، مثلاً گرم کوٹ کو لیجیے۔ میں خود وہ کلرک تھا پوسٹ آفس میں جوکوٹ نہیں خرید سکتا تھا ، اس لیے وہ چیز وہیں سے پیدا ہوئی ''۔ راجندر سنگھ بیدی لاہور سے چلے گئے مگر یہاں کی یادیں ساری زندگی ان کے ساتھ رہیں، پاکستان سے جو بھی ہندوستان جاتا ، اس سے لاہور اوریارانِ شہر کے بارے میں کرید کرید کر پوچھتے ۔

ان کے آخری برسوں میں ممتاز ادیب انتظارحسین کی ان سے دہلی میں ملاقات ہوئی، جس کا احوال انھوںاپنے سفرنامے ''زمین اورفلک اور''میں یوں قلمبند کیا '' بڑھاپے کی تباہ کاریاں دیکھنی ہوں تو راجندر سنگھ بیدی کو دیکھو ۔ ایسا بڑھاپا آیا کہ ساری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اصل میں یہاں بڑھاپااکیلا نہیں آیا،بیماری کی کمک ساتھ لے کرآیا۔ عناصرمیں اعتدال ختم ہے۔چلنا پھرنا دشواری سے ہوتا ہے۔لاہورکا حال احوال پوچھا پھرافسوس کیا کہ ڈاکٹر نذیر مرگیا۔

میں نے تعجب سے انھیں دیکھا:
''یہ آپ سے کس نے کہا۔اپنے ڈاکٹرصاحب تولاہورکی سڑکوں پردوڑتے پھرتے ہیں۔''
میرے کہے پرانھیں اعتبارنہیں آیا۔پوچھا۔''آپ نے کب انھیں دیکھاتھا۔''

''ابھی انھیں دنوں۔انھیں دنوں انھوں نے مجھے گردے چانپ کھلائے ہیں۔جتنا میں نے کھایا۔اس سے زیادہ انھوں نے کھایا ۔کھاتے ہیں۔قلانچیںبھرتے ہوئے چلتے ہیں۔''
بیدی صاحب بولے:اچھا مجھے تویہی خبرملی تھی''۔۔۔چپ ہوگئے۔شاید انھیں میرے کہے پرابھی تک اعتبارنہیں آیا تھا۔''

ربنا (حمدیہ مجموعہ )
شاعرہ: نورین طلعت عروبہ
صفحات: 168 ،قیمت:300/ = روپے
ناشر: دوست پبلی کیشنز ، اسلام آباد
نورین طلعت عروبہ ان خوش بخت اہل ادب میں شامل ہیں جنہوںنے اپنے قلم کو ہر نوع کی دنیادی آلودگی سے بچائے رکھا اوراپنی فکر اوراپنے علم کو حمدو نعت کے پوتر جذبات سے معطر کیے رکھاجس طرح نعت کہنے کا سلیقہ اور ہنر( عجزو انکسار سے مملو ہوکر) حفیظ تائب مرحوم کو حاصل تھا اسی طرح نورین طلعت عروبہ نے بھی حمد و خالق ومخلوق اور عبد ومعبود کے تعلق کی روشنی میںبڑے متاثر کن انداز میں اظہار کا وسیلہ بنایا ہے ۔

''حاضری '' کے زیر عنوان پہلے نعتیہ مجموعہ کلام کی اشاعت کے ذریعے شاعرات کی نعتیہ کتب میں پہلے نعتیہ مجموعہ کی خالق ہونے کا اعزاز پایا اور قومی سیرت کانفرنس میں پہلے انعام کی مستحق ٹھہریں ۔دوسرا نعتیہ مجموعہ ''زہے مقدر'' کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تو اسے بھی اول انعام ملا۔اب ''ربنا''کے خوبصورت نام سے ان کی حمدیہ شاعری کا مجموعہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے رب جلیل کی بارگاہ میں عجز و نیاز کے پھول پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

اس خوبصورت حمدیہ کلام کی اشاعت پر یقیناً وہ مبارک باد کی مستحق ہیں ۔سچی بات یہ ہے کہ ان کی شاعری کوپڑھتے ہوئے منہ سے بے اختیار سبحان اﷲ کے پاکیزہ الفاظ ابل پڑتے ہیں ۔بلاشبہ یہ وہ اعزاز ہے جو ہر کس و ناکس کو میسر نہیں ۔کتاب پر امین راحت چغتائی ، ریاض حسین چوہدری ، صبیح رحمانی اور سرور حسین نقشبندی کی طرف سے تبصرہ بھی شامل اشاعت ہے ۔کتاب کی طباعت بھی معیار ی ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تعلیم
مصنف: شیخ عبدالفتاح ابو غدۃ،مترجم: حافظ محمد ناصر مسعود
قیمت:70 روپے،فون نمبر 0322-4439593
پبلشرز: الوھاب قرآن پبلشرز رشید پلازہ، اردو بازار، لاہور
درس وتدریس کی معاشرے میں اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تہذیب وتمدن کی تمام تر ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہے، یہی وہ زینہ ہے جس پر چڑھ کر انسان عقل و شعور کی بلندیوں کو چھوتا ہے، زیر تبصرہ کتاب میں ہادی برحق رسول اللہﷺ کے طریقہ تعلیم و تربیت سے متعلق احادیث پیش کی گئی ہیں، آپ ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو میں دوسروں کے لئے سیکھنے کا سامان موجود ہے اور استاد و شاگرد دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔

اس کتاب میں حضورﷺ کے چالیس طریقہ تعلیم بیان کئے گئے ہیں جیسے تعلیم دیتے ہوئے طالب علم کی ذہنی سطح کا خیال رکھنا، سوال اور مکالمہ کا انداز تعلیم ، قیاس اور مثال کے ذریعے تعلیم دینا ، ضرب الامثال اور تشبیہہ کا استعمال کرنا وغیرہ۔ اس حوالے سے یہ کتاب نادر ہے کہ اس موضوع پر پہلے کوئی ایسی کتاب موجود نہیں ہے جس میں حضورﷺ کے مختلف طریقہ تعلیم کو یکجا کیا گیا ہو۔ معلم اور طالب علم دونوں اس سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ۔



شرح کلام جامیؒ
انتخاب و ترجمہ : راجہ طارق محمود

نعمانی: پروفیسر سید امیر کھوکھر،ناشر: بُک کارنر' جہلم
فون نمبر0544-614977،قیمت: 1200روپے
فارسی و عربی زبانوں کے عظیم شعراء میں مولانا عبدالرحمن جامیؒ کا بھی شمار ہوتاہے۔ آپ نومبر 1414ء میںجام (غور' افغانستان) میں پیدا ہوئے اور نومبر1492ء میں ہرات میں وفات پائی۔ مولانا جامی پندرہویں صدی کے عظیم ترین شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ صوفی' دانشور ' موسیقار اور مورخ بھی تھے۔ شعر و شاعری ' ادب وبلاغت اور علم بدیع میں آپ کو کمال حاصل تھا۔

مولانا جامی نے تمام اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف میں تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ ان میں حمد و نعت ' مثنویٰ' منقبت' قصیدہ نگاری' غزل اور نظم شامل ہیں۔ آپ کے کلام میں سلاست و روانی' غنائیت ' شیر یں بیانی اور سوزو گداز کی خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ شاعری میں حسن ترکیب ' تشبیہات ' استعارات ' تلمیحات اور کنایات بھی جا بجا ملتی ہیں۔

راجا طارق محمود نعمانی فارسی سے شناسا شخصیت ہیں۔ انہوں نے مولانا جامی کے کلام میں سے چیدہ چیدہ حمد و نعت' منقبت و مرثیہ' غزلول' مقطعوں اور رباعیات کا سلیس انداز میں اردو ترجمہ کیا اور پھر انکی شرح بھی بیان کی ہے۔ یوں اب پاکستانی نوجوان نسل مولانا جامی کے چشمہ حکمت و ادب سے بخوبی فیض یاب ہو سکے گی۔ مترجم نے کمال مہارت سے ایک استاد شاعر کے کلام کو اردو میں ڈھالا ہے۔

دور جدید میں ہماری نئی نسل فارسی زبان وادب سے دوری کا شکار ہے۔ یہ کتاب اس بے اعتنائی کو ختم کرنے میں ممدو ومعاون ثابت ہو گی۔ ناشر نے حسب روایت 677صفحات پر مشتمل یہ کتاب دیدہ زیب ارو خوبصورت انداز میں طبع کی ہے۔ کاغذ عمدہ ہے اور طباعت انتہائی معیاری ' صوفیانہ شاعر ی کے دلدادہ اس کتاب کو پسندیدہ اور مرغوب پائیں گے۔ جہلم جیسے الگ تھلگ شہر سے بک کارنر مختلف علوم پر اعلیٰ کتب شائع کر کے شائقین علم و ادب کی پیاس بجھا رہا ہے۔ ناشر کا جوش و جذبہ قابل قدر ہے۔



اضطراب زندگی( ناول)
مصنفہ: راحت افشاں،قیمت:450روپے
ناشر...مکتبہ جمال، تیسری منزل، حسن مارکیٹ، اردوبازار ،لاہور

زیرنظرناول مصنفہ کا دوسرا ناول ہے، اس کی کہانی تین کرداروں کے گرد گھومتی ہے، بنیادی طورپر یہ محبت کی ایک داستان ہے۔ تاہم یہ محض ایک لو سٹوری نہیں ہے بلکہ یہ ہمیں معاشرے کے بہت سے تلخ و شیریں حقائق سے روشناس کراتی ہے۔ مصنفہ کہتی ہیں:'' میری تحریروں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خواتین پر جو کچھ گزرتی ہے لوگ اس سے سبق حاصل کرسکیں اور یہ کہ شاید دکھوں کے مارے ہوئے ان لوگوں کو صبر اور حوصلہ مل جائے اور میری تحریریں ان کے لئے حیات نو کا باعث بن جائیں۔ اس معاشرے میں سبھی برے لوگ نہیں، اچھے لوگ بھی ہیں اور حقیقت میں انہی لوگوں کے دم سے یہ دنیا قائم ہے۔ میری تحریروں کا ایک مقصد معاشرے میں عورت کواس کا جائز مقام دلانا اور مردوں کے امتیازی سلوک میں تبدیلی لانا ہے''۔ 'اضطراب زندگی' کے تمام کردار اسی عہد کے ہیں جس میںہم سانس لے رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ ناول بھی پہلے کی طرح قارئین کی خوب پذیرائی سمیٹے گا۔

اے مژگانِ محبت(ناول)
مصنفہ: نازیہ کنول نازی،قیمت:500 روپے
ناشر:القریش پبلی کیشنز، سرکلرروڈ چوک اردوبازار لاہور
نازیہ کنول نازی ڈائجسٹوں کی دنیا میں ایک بڑا مقبول نام ہیں، ان کے ناول، ناولٹ اور انھیں پسند کرنے والے قارئین کی دنیا اس قدروسیع وعریض ہے کہ احاطہ کرنا مشکل ہے۔ 'اے مژگان محبت' کی کہانی انہی بے شمار کہانیوں میں سے ایک ہے جو ہمارے معاشرے میں پلتی بڑھتی رہتی ہیں ، بہت سے کردار ان کہانیوں میں جنم لیتے ہیں اور بہت سے دم توڑ دیتے ہیں۔ تاہم 'اے مژگان محبت' میں ایسے سبق ملتے ہیں کہ جنھیں سیکھ لیاجائے تو پھر انسان کو حیات جاوداں مل جاتی ہے۔

زیرنظرناول(ناول نگار کے بقول) ادب کی دنیا میں ان کی پہچان کا باعث بنا اور یہ وہ ناول ہے جسے لکھتے ہوئے اور لکھنے کے بعد وہ بے تحاشا روئیں اور یہ وہی ناول ہے جس کے لیے انھیں لگتا تھا کہ اگر نہیں لکھیں گی تو پاگل ہو جائیں گی۔ ان کے ناول اور ناولٹ ان گنت ہیں۔آخر اس ناول میں ہے کیا جو وہ لکھتے ہوئے بھی روئیں اور لکھنے کے بعد بھی، اور اگرنہ لکھتیں تو پاگل ہوجاتیں، یہ تو پڑھنے سے ہی پتہ چلے گا۔ البتہ اس سے ملنے والے چند احساسات درج ذیل ہیں: ''والدین سے بڑھ کر اس دنیا میں کچھ بھی نہیں ہے کوئی ایک لڑکی خواہ وہ کتنی بھی اچھی ہو ہمارے والدین کا نعم البدل نہیں ہوسکتی''

اور یہ کہ:'' محبت ایسا دریاہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو اس کا پانی کم نہیں ہوتا''
''محبت طاقِ دل پہ جلتا ہوا وہ چراغ آخری شب ہے کہ اس کی لو اگرمدہم بھی پڑجائے تو اندر کا اجالا کم نہیں ہوتا''

ترک وفا(ناول)
مصنفہ: نایاب جیلانی،قیمت:700 روپے
ناشر:القریش پبلی کیشنز، سرکلر روڈ چوک اردوبازار لاہور
'ترک وفا' ایک طویل ناول ہے، ناول نگار کہتی ہیں:'' اس ناول کو حقیقی معنوں میں دل اور صرف دل کے ساتھ لکھاہے۔'' اس کی کہانی جرمنی کے پس منظر میں لکھی گئی ہے، موضوع کے حساب سے انتہائی نازک اور حساس، ٹیلی پیتھی کے ذریعے ذہنوں کو اپنے''بس'' میں کرکے ذہنوں کو غلام بنانے والی لڑکی کی کہانی، اللہ تعالیٰ نے اس جرمن لڑکی کو غیرمعمولی قوت متحرکہ عطاکی تھی، ''تیزنگاہ بینی'' سے ''ٹرانس'' میں لانے اور بے بس کردینے میں اسے کمال حاصل تھا، وہ اپنی شاندار صلاحیتوں اور غیرمعمولی نگاہ بینی سے کوئی بہترین کام نہیں لے سکی تھی۔ پھر وہ راستے سے بھٹک گئی، گمراہ ہوگئی، اس کی گمراہی نے اس پر اور دیگرکئی خاندانوں پر کیا کیا اثرات مرتب کئے، وہ یہ ناول پڑھ کر بخوبی معلوم ہوجائیں گے۔ مصنفہ کو ناول لکھتے ہوئے بے شمار کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑا کیونکہ اس کا ٹاپک بہت مشکل تھا، موضوع بہت حساس تھا۔ یقیناً ایسے ہی مراحل سے گزر کر ایک دلچسپ ناول لکھاجاتاہے۔ آپ بھی ناول پڑھ کر خوب مسحور ہوں گے۔

فرقہ وارانہ فساد کی تلخ یاد
یہ اسکول کے زمانے کی بات ہے،شاید28ء یا 29ء ہو گا۔ہم لاہورکے ڈبی بازار میں رہتے تھے،جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ایک دن اچانک فرقہ وارانہ فساد شروع ہوگیا۔ ہم جہاں رہتے تھے وہاں سکھ اور ہندو مارے جانے لگے اور شاہ عالمی گیٹ کے آس پاس مسلمان۔ بڑا ہنگامہ تھا۔ میں ایک روزاپنے گھرکی کھڑکی سے باہرسڑک پردیکھ رہا تھا،باہرجانا تومنع تھا۔ میں نے دیکھا کہ سامنے سے ایک سکھ چلا آرہا ہے ،اچانک کچھ آدمیوں نے اسے نرغے میں لے لیا۔ ایک کھیرے بیچنے والا تھا :علم دین، وہ لاٹھی لے کر آگے بڑھا اور اسے ما رمار کر گرا دیا۔ سامنے کی دکان والا حجام اپنا استرا لے کرآگے بڑھا اوراسترے سے اس کا سرتن سے جدا کر دیا۔ اور پھراس کی آنکھیں نکال لیں۔ ڈر کی وجہ سے میں چیخنا چاہتا تھا مگر چیخ نہ سکا جس کا اثر یہ ہوا کہ میں گونگا ہوگیا۔ بولا ہی نہیں جاتا تھا۔ اسی بیچ بیمار پڑ گیا۔ رفتہ رفتہ گویائی واپس آئی مگر بہت دنوں تک زبان کی لکنت نہیں گئی۔ یہ واقعہ دیکھا توخود کوبہت بے بس محسوس کیا۔
(''بیدی نامہ ''کے مصنف شمس الحق عثمانی سے گفتگو)

اوپندرناتھ اشک سے دوستی
اشک کا گھرانارکلی کے بازار سے ہٹ کر پیچھے ایک گنجان آباد گلی میں تھا،جس میں اکثرعورتیںاپنے مکان سے ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے سنائی دیتی تھیں۔''بابھو''آج تیرے کیاپکاہے؟''اوروہ جواب میں کہتی ''آج کچھ نہیں پکا۔یہ باہرکھانا کھا رہے ہیں نا۔ تودال ایک کٹوری میں بھیج دینا ۔''اورکہیں آپ بے خبرجارہے ہوں تواوپرسے کوڑا گرتا ہے اورآپ کی طبیعت صاف کردیتا ہے۔گلی میں اتنی جگہ نہیں کہ کوئی اچھل کرایک طرف ہوجائے۔کوئی لڑکا کوٹھے میں کھڑا سامنے کی کھڑکی میں جھکی ہوئی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کراس کی ہتھیلیاں کھجلادیتا ہے جولاہورکا عام منظر ہے اورجس سے پتاچلتاہے کہ عشق کے لیے لاہور سے بہتر دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں۔ اور اشک اس گلی میں رہتا تھا۔''
(راجندر سنگھ بیدی کے تحریرکردہ خاکے
''ترک غمزہ زن ''سے اقتباس )

دسمبرکی ایک شام کو تفریح کلب سے واپس آتے ہوئے میں ارادتاً انارکلی میں سے گزرا ۔اس وقت میری جیب میں دس روپے کا نوٹ تھا ۔ آٹا ، دال ، ایندھن ، بجلی ، بیمہ کمپنی کے بل چکا دینے پر میرے پاس وہی دس کا نوٹ بچ رہا تھا ۔ جیب میں دام ہوں تو انارکلی میں سے گزرنا معیوب نہیں۔

اس وقت اپنے آپ پرغصہ بھی نہیں آتا بلکہ اپنی ذات کچھ بھلی معلوم ہوتی ہے ۔ اس وقت انارکلی بازار میں چاروں طرف سوٹ ہی سوٹ نظر آرہے تھے اور ساڑھیاں ۔ چند سال سے ہر نتھو خیرا سوٹ پہننے لگا ہے۔ میں نے سنا ہے،گذشتہ چند سال میں کئی ٹن سونا ہمارے ملک سے باہر چلا گیا ہے ۔ شاید اسی لیے لوگ جسمانی زیبائش کا خیال بھی بہت زیادہ رکھتے ہیں ،ورنہ جو لوگ سچ مچ امیر ہیں ایسی شان وشوکت اورظاہری تکلفات کی چنداں پروا نہیں کرتے ۔
''گرم کوٹ ''



رفیع پیراورموہنی حمید ،دونوں کی آوازکا جواب نہیں تھا
''رفیع پیرسے بھی آپ کا تعلق رہا ہوگا۔''
''میں جب آل انڈیا ریڈیولاہورمیں کام کرتا تھا۔ان کا ڈراما ''اکھیاں''بہت مشہور ہوا تھا ۔ یہ بہت خوبصورت ڈراما تھا۔انھوں نے دوتین بڑے بڑے ڈرامے لکھے ہیں ۔ لیکن میرا خیال ہے ،وہ جرمن زبان سے ترجمہ کرلیا کرتے تھے۔''
''آپ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ نقل ۔۔۔''
''جب ایک دوکتابیں ہمارے ہاتھ لگیں تو ''اکھیاں''اوردوسرے ڈرامے بھی وہاں سے اڑائے ہوئے تھے۔ ان کا اپنا کچھ نہیں تھا ۔ ویسے میری ان سے اچھی علیک سلیک تھی لیکن گہرے تعلقات نہیں تھے ۔''
''وہ ڈرامے کے فن کاربھی تھے۔''
''ہاں تسلیم ،اور ان کی آواز کوسلام۔بہت خوب صورت آواز تھی۔ایک اورآواز تھی،موہنی حمید کی، اس کا بھی جواب نہیں تھا۔ موہنی حمید سے بھی اچھی یاد اللہ تھی۔ایک دوباراس پر مصیبتیںپڑیں(یہ مت پوچھیں،کیا مصیبتیں تھیں وہ؟)ہم نے بیچ میں پڑ کران کی مددکی۔''
(احمد سلیم اور سکھ بیر سے ہونے والے مکالمہ سے اقتباس )

بیدی کے ''گرہن'' پرداد تحسین کا شور
ڈاکٹرآفتاب احمد نے حلقہ ارباب ذوق پر اپنے مضمون میں اس کے باقاعدہ قیام سے پہلے چند ادب پسند دوستوں کی ایک انجمن کا ذکرکیا ہے جہاں یہ لوگ مہینے میں دوایک بارکسی ایک گھرمیں مل بیٹھتے تھے اور ایک دوسرے کواپنے اپنے افسانے مضامین اوراشعارسناتے ۔ اس انجمن کے ایک ایسے اجلاس کے بارے میں ،جس میں بیدی نے افسانہ پڑھا ، آفتاب احمد نے لکھا ہے:''۔۔۔ کچھ عرصہ کے بعد اس انجمن کا ایک اورجلسہ شیرمحمد اخترہی کے ایک ادب پسند دوست منصور احمد کے گھر پر ہوا۔ یہ گھر ہمارے محلے ہی میں واقع تھا ۔ یہاں شریک ہونے والوں میں میرے دوست صفدرمیر(زینو)اورامجد حسین بھی تھے ۔ یہاں بھی نشست فرشی تھی اور یہاں بھی پرتکلف چائے کا اہتمام تھا ، لوگ بھی کچھ زیادہ تھے ۔ میرا جی کو پہلی دفعہ میں نے یہیں دیکھا ، قیوم نظر بھی ان کے ساتھ تھے جن سے صفدر،امجد اور میری پہلے سے ملاقات تھی کیونکہ وہ بھی ہمارے محلہ دار تھے ۔ بہرحال یہاں اوپندرناتھ اشک نے ایک افسانہ پڑھا جس کا نام مجھے یاد نہیں اوراس کے بعد راجندرسنگھ بیدی نے اپنا مشہورافسانہ ''گرہن ''پڑھ کرسنایا۔ مجھے یاد ہے کہ بیدی اپنے افسانہ کا آخری حصہ اس جذبے سے پڑھ رہے تھے کہ سامعین پرانہماک کے مارے سکتے کا عالم تھا اورجونہی افسانہ ختم ہوا ہرطرف سے داد تحسین کا ایسا شور اٹھا کہ محفل گویا محفل مشاعرہ بن گئی ۔ ''



۔۔۔ پھرانھوں نے اپنا ایک ادارہ ''سنگم پبلشرز لمیٹڈ''کے نام سے نسبت روڈ پرقائم کیا۔یہ ادارہ کافی کامیاب رہا۔ مگراب 1947ء کا عمل تھا۔ ہرطرف بلوے ہو رہے تھے۔ انھوں نے اپنی بیوی اور بچوں کو روپڑ، اپنے بھائی کے پاس بھیج دیا اور خود لاہور ہی میں اپنے ماڈل ٹائون کے گھرمیں مقیم رہے۔ جب ''سنگم پبلشرز لمیٹڈ''کے دفتر اور گودام کولوٹ کرجلادیاگیا تو یہ ماڈل ٹائون میں اپنا بھرابھرایا گھرچھوڑ کرروپڑ چلے گئے اوروہاں سے اہل وعیال کے ساتھ مل کر اور اپنی جان کو انتہائی خطرے میں ڈال کر انھوں نے متعدد مسلمان گھرانوں کی جانیں بچائیں اور ان کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔
'' صلاح الدین محمودکے بیدی پرمضمون سے اقتباس''
Load Next Story