حکومت عسکریت پسندوں پر پابندی عائد کرےمعراج محمد خان

سوات میں تعلیمی حق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں طالبان نے ملالہ پر حملہ کیا

معراج محمد خان پریس کانفرنس میں تحریک برائے امن اور مذہبی رواداری کا اعلان کر رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

تحریک برائے امن اور مذہبی رواداری کے رہنماوبزرگ سیاستدان معراج محمد خان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت عسکریت پسند جہادی تنظیموں خاص کر طالبان یا ان کے حمایتوں پرپابندی عائد کرے۔


ان خیالات کا اظہار معراج محمد خان نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا،اس موقع پر اقبال علوی، اظہر جمیل و دیگر بھی موجود تھے، انھوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی اور اس کی ساتھیوں پر سوات میں تعلیمی حق کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں طالبان نے حملہ کیا،ملالہ ایک مثال بن گئی ہے،انھوں نے کہا کہ ملک کو جن مختلف بحرانوں کا سامنا ہے جیسا کہ امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، ٹارگٹ کلنگ، خوف، بم دھماکے، بڑھتے ہوئے انتشار اور افراتفری میں ممکن ہے پاکستان ایک ریاست کے طور پر زندہ رہنے کے قابل ہوجائے۔

قائد اعظم کے ویژن کی روشنی میں پاکستان کو بغیر کسی رنگ، نسل، ذات، مذہب یا عقیدے کے حقیقی جمہوری ترقی پسندانہ اور اصولوں پر مبنی ریاست بنایا جائے، ملک بھرمیں لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے، خاص کر طلبہ اور نوجوانوں کو اس امن اور مذہبی رواداری کی تحریک کا حصہ بنانے کیلیے ملک گیر سیمینارز، مظاہروں، ٹی وی ٹاک شوز، ایس ایم ایس، ریلیوں کا انعقاد کیا جائیگا۔
Load Next Story