شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں پاک فوج کے جوانوں نے بے مثال قربانیاں پیش کر کے وطن کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا

تمام سیاسی جماعتیں اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ اور روشن بنایا جا سکے۔ فوٹو؛فائل

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آخری مرحلے کے تحت فضائی اور زمینی کارروائی میں 34دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے ایک کیپٹن سمیت 4اہلکار شہید ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد شوال کے علاقے منگروتی سے پاک افغان سرحد پار کر کے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ پاک فوج نے انھیں محاصرے میں لے لیا' فائرنگ کے تبادلے میں 19دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جب کہ پاک فوج کے ایک کیپٹن سمیت چار اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق ہفتے کی صبح تحصیل دتہ خیل میں پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے 15شدت پسند ہلاک ہو گئے جن میں 6ازبک بھی شامل ہیں، کارروائی میں شدت پسندوں کے چار ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔ علاوہ ازیں دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملے میں ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے شوال میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ شہید اہلکاروں نے آخری سانس تک جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے ملک کے مستقبل کو اپنے آنے والے کل پر ترجیح دی اور ثابت کر دیا کہ ملکی دفاع پر کوئی آنچ نہیں آسکتی، قوم کو اس وقت جس جذبے کی ضرورت تھی شہداء اس کی زندہ مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں،وہ ہمیشہ ہمارے دلوں اور دعاؤں میں زندہ رہیں گے، یہ تو اچھائی اور برائی کی جنگ ہے، نذرانے پیش کرنے والے قوم کا فخر ہیں۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بدھ کو حکم دیا تھا کہ شمالی وزیرستان کے اہم علاقے شوال میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے آپریشن ضرب عضب کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ پاک فوج آپریشن ضرب عضب کے دوران شمالی وزیرستان کے بڑے علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا کر چکی ہے اب صرف شوال میں دہشت گردوں کے چند ٹھکانے باقی رہ گئے ہیں جنھیں ختم کرنے کے لیے آخری معرکہ لڑا جا رہا ہے، امید ہے کہ شوال پر قبضے کے بعد دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے بھی ختم ہو جائیں گے اور یہ علاقہ مکمل طور پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے پاک ہو جائے گا۔


دتہ خیل میں فضائی کارروائی کے دوران چھ ازبک شدت پسندوں کی ہلاکت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے میں ابھی تک غیر ملکیوں کی ایک تعداد پناہ لیے ہوئے ہے۔ یہ غیرملکی اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے جن علاقوں میں یہ پناہ لیے ہوئے تھے اب وہاں آپریشن ہونے سے یہ ان کے لیے غیر محفوظ ہو چکے ہیں دوسری جانب ان غیرملکیوں کو ان کے اپنے ممالک بھی قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں' اگر یہ اپنے ملک بھی واپس جاتے ہیں تو وہاں انھیں گرفتاری اور سزاؤں کا ڈر ہے۔

پاکستان میں دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہیں ختم ہونے کے بعد ان کے پاس پناہ کے لیے واحد راستہ افغانستان رہ گیا ہے جہاں ان کے حمایتی بڑی تعداد میں موجود ہیں، اس لیے یہ دہشت گرد پاکستان چھوڑ کر افغانستان فرار ہو رہے ہیں۔ شوال میں زمینی جھڑپ بھی اسی گروہ کے ساتھ ہوئی جو سرحد پار کرکے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا جس میں پاک فوج کے جوانوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں پاک فوج کے جوانوں نے بے مثال قربانیاں پیش کر کے وطن کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا اور یہ ثابت کیا ہے کہ دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور اور اس کی پناہ گاہیں خواہ کتنے ہی دشوار گزار علاقے میں کیوں نہ ہوں' اللہ کے یہ سپاہی اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔

شوال پر قبضے کے بعد بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ ختم نہیں ہو گی بلکہ اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کو اندرون ملک مختلف علاقوں میں چھپے ہوئے بے شناخت اور گمنام دہشت گردوں' ان کے سہولت کاروں اور مالی امداد دینے والوں کے علاوہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو روکنے کے لیے بھرپور کارروائی کرنا ہوگی' اس طرح یہ جنگ کتنا طول پکڑتی اور کب اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

افغانستان میں چھپے ہوئے دہشت گرد ملکی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ رہیں گے اس لیے سرحدوں پر سیکیورٹی کے بھرپور اقدامات کرنے کے علاوہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ مل کر ان دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جانی چاہیے کیونکہ پرامن افغانستان پاکستان کی سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ صرف فوج کی ذمے داری نہیں بلکہ اندرون ملک بے شناخت دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے اب سیاسی قیادت اور سول اداروں کو بھی عسکری اداروں کی طرح متحرک ہونا اور اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانا ہوں گی کیونکہ یہ سب کی بقا اور سلامتی کی جنگ ہے جسے سب نے مل کر لڑنا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ اور روشن بنایا جا سکے۔
Load Next Story