پاک امریکا اسٹرٹیجک مذاکرات کا چھٹا دور

اسٹرٹیجک مذاکرات انتہائی اہمیت کےحامل ہیں ان سےدونوں ملکوں کےدرمیان موجود شکوک وشبہادت دور ہونےکےامکانات پیدا ہوئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے آپریشنز سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک توڑ دیا گیا ہے فوٹو: فائل

KARACHI:
پاک امریکا تزویراتی مذاکرات کا چھٹا دور آج واشنگٹن میں شروع ہو رہا ہے۔ امریکا نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت وزیر خارجہ جان کیری اور پاکستانی وفد کی قیادت مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کریں گے۔ واضح رہے پاکستان کے ساتھ دہشتگردی کے حوالے سے امریکا کی پہلے بھی کئی مرتبہ بات چیت ہو چکی ہے جس میں امریکا کی طرف سے زیادہ زور ''ڈو مور'' پر دیا گیا۔

حالیہ مذاکرات میں دہشتگردی کے علاوہ خطے کے مسائل، خطرات اور تجارت کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے مگر اکثر دفاعی تجزیہ نگار خطے میں عدم استحکام کا ذمے دار خود امریکا کو قرار دیتے ہیں جو اپنے مخصوص مفادات کے لیے افغانستان اور بھارت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

افغانستان میں امریکی افواج اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کو موثر طور پر روکنے کے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے، یہ الگ بات ہے کہ ڈرون حملوں کے ذریعے متعدد دہشتگردوں کی ہلاکتوں کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ امریکی ترجمان نے کہا ہے کہ دہشتگردی پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے خطرہ ہے جس کے لیے دونوں میں قریبی تعاون ضروری ہے تاہم اب اس معاملے پر تعاون کے جو آثار نمایاں ہوئے ہیں وہ خوش آیند ہے۔


امریکی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ پاک بھارت بہتر تعلقات کی حوصلہ افزائی کی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کے فیصلے پر بھارت کی مخالفت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا یہ چھٹا دور ہو گا لیکن موجودہ حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کا یہ تیسرا دور ہے جس میں معیشت اور مالیات، توانائی، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، انسداد دہشتگردی، سیکیورٹی، اسٹرٹیجک سلامتی، جوہری عدم پھیلاؤ اور دفاع کے امور زیر بحث آ سکتے ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے بھارت اور بعض امریکی سینیٹروں کے اعتراضات کے باجود پاکستان کو آٹھ ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردی سے نمٹنے اور شورش کے مقابلے کے لیے جاری آپریشن میں مدد کے لیے ہم ان طیاروں کی فروخت کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ پاکستان کے ایف سولہ طیاروں نے ملک میں جاری آپریشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے آپریشنز سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک توڑ دیا گیا ہے اس اعتبار سے یہ فوجی آپریشن پاکستان کے علاوہ امریکا، نیٹو اور خطے کے مفاد میں بھی ہے کیونکہ ایف سولہ طیارے دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں پاکستان کی صلاحیت کو بڑھائیں گے۔

بہرحال امریکا اور پاکستان کے درمیان اسٹرٹیجک مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں' ان سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود شکوک و شبہادت دور ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں' دونوں ملکوں کے درمیان بعض معاملات پر ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے۔ اگر امریکا افغانستان اور بھارت کے پراپیگنڈے پر کان نہ دھرے تو افغانستان اور پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا جس کا فائدہ بھارت کو بھی ہو گا۔
Load Next Story