شوال میں آپریشن اور کرنے کا کام

پاکستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گیا ہے

پاک افغان سرحد کے چند ایک پوائنٹ ہی ایسے ہیں جہاں پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کی چیکنگ کا بندوبست ہے۔ فوٹو : فائل

PESHAWAR:
شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ایک مشکل آپریشن شروع ہے، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جو کچھ ہوتا رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے، اب ان علاقوں میں آئین و قانون کے نفاذ اور دہشت گردوں' ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خاتمے کی ضرورت ہے تاکہ ان علاقوں میں امن قائم ہو سکے اور تعمیر و ترقی کے عمل کا آغاز ہو سکے۔ اس لیے جاری آپریشن کو کامیاب بنانا انتہائی ضروری ہے۔

ہفتہ کو شوال میں بڑی کارروائی ہوئی، اس کارروائی میں 34 دہشت گرد مارے گئے جب کہ پاک فوج کے کیپٹن عمیر عباسی اور تین دیگر اہلکار شہید ہوئے۔ پاک فوج کے ان شہیدوں نے ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں' گزشتہ روز آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پشاور کا دورہ کیا اور شہید کیپٹن عمیر عباسی اور 3 دیگر اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ انھوں نے شہید کیپٹن کے جسد خاکی کو کندھا بھی دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے ہرحد تک جائیں گے، انھیں بھاگنے نہیں دیں گے، ملک کے ہر کونے میں ان کا پیچھا کریں گے اور ان کے تمام خفیہ ٹھکانے تباہ کریں گے۔آرمی چیف نے کورہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا جہاں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان نے انھیں شوال میں آپریشن کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔ آرمی چیف کو بتایا گیا کہ شوال کا علاقہ پاک افغان سرحد کے قریب ہے' دہشت گرد سرحد عبور کر کے پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہیں' پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کو فرار نہیں ہونے دیا بلکہ انھیں مار دیا گیا۔

پاکستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گیا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس سرحد کو کھلا چھوڑے رکھا گیا ہے جس کا خمیازہ آج بھگتا جا رہا ہے۔ پاک افغان سرحد کو بہت پہلے محفوظ بنایا جانا چاہیے تھا' اگر اسے محفوظ بنا لیا ہوتا تو آج افغانستان سے پاکستان کی جانب دراندازی ممکن نہ ہوتی۔


اب بھی ماضی کی کوتاہیوں اور غفلت کا ازالہ ممکن ہے۔ پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں ریاست کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی شروع کر کے یہاں ریاست کی رٹ کو بحال کیا ہے۔ افغانستان کی سرحد کے قریب بعض علاقے اب بھی ایسے ہیں جہاں ریاستی رٹ قائم کرنا لازمی ہے۔ اتوار کو بھی جو دہشت گرد مارے گئے وہ افغانستان سے ہی پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ اصولی طور پر تو افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے پاکستان کی طرف آنے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال کریں لیکن ان کی جانب سے ایسا نہیں ہوا۔ پاک افغان سرحد کے چند ایک پوائنٹ ہی ایسے ہیں جہاں پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کی چیکنگ کا بندوبست ہے۔

باقی ساری سرحد پر کوئی انتظامات نہیں ہیں، بلاشبہ سرحد کے پاس پاک فوج کی چوکیاں موجود ہیں لیکن پھر بھی بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی چیک نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے طورپر اقدامات کرے۔ افغانستان اپنے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی کرے یا نہ کرے، پاکستان کو اس جھنجھٹ سے نکل کر اپنے طورپر اقدامات کرنے چاہئیں۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے افراد کے لیے نئے قوانین بنائے گئے ہیں۔ پیدل یا ٹرانسپورٹ پر سرحد پار کرنے والوں کی تعداد کو محدود کیا جائے۔ جو لوگ پاکستان میں داخل ہوں انھیں ویزے کا پابند بنایا جائے۔

اسی طرح پاکستان سے افغانستان جانے والے قبائلیوں کو بھی ویزے کا پابند بنایا جائے۔ اس طریقے سے آمدورفت کا ریکارڈ بھی موجود رہے گا اور آنے جانے والے افراد کی تعداد میں بھی کمی آئے گی۔ افغانستان سے پاکستان آنے والوں کے لیے ایئرروٹ کی پابندی لگائی جائے، یعنی ان پر ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے کی پابندی عائد کی جائے۔ اسی طرح پاکستان سے افغانستان جانے والوں پر بھی ہوائی جہاز کے ذریعے جانا لازم قرار دیا جائے۔ اس طریقے سے ہی آمدورفت میں کمی آئے گی اور ریکارڈ کو مینٹین کرنا بھی آسان ہو گا۔پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل بھی شروع کیا جانا چاہیے۔

یہ باڑ دہشت گردوں کی روک تھام میں خاصی مدد گار ثابت ہو گی۔ اس حوالے سے اب مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ ملک کی سیاسی قیادت کو اس حوالے سے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک قبائلی علاقوں کو پاکستان کے قانون کے طابع نہیں کیا جاتا اس وقت تک خیبرپختونخوا میں نہ امن ہو سکتا ہے نہ وہاں صنعتی کاری کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔حکومت کو اب اس حوالے سے جلد از جلد اقدامات کرنے چاہئیں۔
Load Next Story