کراچی کے مسئلے کا حل فوجی آپریشن نہیںسیاسی حل نکالنا ہوگامشاہد
ق لیگ میں دراڑڈالنے کی سازش قبول نہیں،آرمی چیف کے بیان کی تائیدکرتے ہیں،گفتگو
فوٹو : فائل
TORONTO:
مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکریٹری سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ کراچی کے مسئلے کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ یہ مسئلہ سیاسی طریقے سے حل کرنا ہوگا۔
وہ بدھ کی شب کراچی آمد کے موقع پر ایرپورٹ پر میڈیا سے گفتگوکررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے، یہاں قیام امن کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مشاہد حسین نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ق) میں دراڑیں ڈالنے کی سازش کو قبول نہیں کیا جائے گا، شیرازی برادران کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر ہم نے اپنے تحفظات سے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو آگاہ کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیاست کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔حلیف جماعت ہو یا حریف، سیاست میں اصولوں کی پاسداری ضروری ہوتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور سندھ میں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کو توڑنے کی کوشش عوامی طاقت سے ناکام بنا دی جائے گی۔ انھوں نے انتباہ کیا کہ انتخابات کا التواکسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ق) آئندہ انتخابات میں سائیکل کے انتخابی نشان سے حصہ لے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کسی فرد یا ادارے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے، قومی مفاد کے تحفظ کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اصغر خان کیس کے فیصلے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مشاہد حسین نے کہا کہ یہفیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم چیف آف آرمی اسٹاف کے بیان کی تائید کرتے ہیں۔ماضی میں اگر کسی فوجی نے کوئی غلطی کی ہے تو پورے ادارے پر الزام لگانا درست نہیں، فوج دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی بقااورسالمیت کی جنگ لڑ رہی ہے،اس جنگ میں پاک فوج کے سیکڑوں افسران اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں، ہمیں ان شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکریٹری سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ کراچی کے مسئلے کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ یہ مسئلہ سیاسی طریقے سے حل کرنا ہوگا۔
وہ بدھ کی شب کراچی آمد کے موقع پر ایرپورٹ پر میڈیا سے گفتگوکررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے، یہاں قیام امن کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مشاہد حسین نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ق) میں دراڑیں ڈالنے کی سازش کو قبول نہیں کیا جائے گا، شیرازی برادران کی پیپلز پارٹی میں شمولیت پر ہم نے اپنے تحفظات سے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو آگاہ کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیاست کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔حلیف جماعت ہو یا حریف، سیاست میں اصولوں کی پاسداری ضروری ہوتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور سندھ میں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کو توڑنے کی کوشش عوامی طاقت سے ناکام بنا دی جائے گی۔ انھوں نے انتباہ کیا کہ انتخابات کا التواکسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ق) آئندہ انتخابات میں سائیکل کے انتخابی نشان سے حصہ لے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کسی فرد یا ادارے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے، قومی مفاد کے تحفظ کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اصغر خان کیس کے فیصلے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مشاہد حسین نے کہا کہ یہفیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم چیف آف آرمی اسٹاف کے بیان کی تائید کرتے ہیں۔ماضی میں اگر کسی فوجی نے کوئی غلطی کی ہے تو پورے ادارے پر الزام لگانا درست نہیں، فوج دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی بقااورسالمیت کی جنگ لڑ رہی ہے،اس جنگ میں پاک فوج کے سیکڑوں افسران اور جوانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں، ہمیں ان شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔