پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو ریلیف کہا جا سکتا ہے اب پٹرول کی قیمت دس برس پہلے والی سطح پر آ گئی ہے

اگر توانائی کی قیمتوں میں استحکام ہو گا تو یہ ترقیاتی منصوبے بھی معینہ اخراجات بھی مکمل ہو سکتے ہیں۔ فوٹو؛فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںکمی کی بھجوائی گئی سمری منظورکرلی، گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق یکم مارچ سے پٹرول کی نئی قیمت 62روپے 77پیسے مقرر کر دی گئی ہیں جو فروری میں 71.25روپے تھی،ہائی اوکٹین 75.66 سے کم ہوکر 72روپے 62پیسے اور ہائی اسپیڈڈیزل کی قیمت 75.79سے کم ہوکر 71روپے 12پیسے فی لیٹرہوگیا ہے۔

لائٹ ڈیزل کی قیمت 39.94سے کم ہوکر 37روپے 97 پیسے اورمٹی کے تیل کی قیمت برقرار یعنی 43روپے 25پیسے فی لیٹررہے گی،وزیر اعظم نے مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 66 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو مسترد کر دیا ، اس ضمن میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ عوام کے مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے پاکستان خطے میں واحد ملک ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو ریلیف کہا جا سکتا ہے، اب پٹرول کی قیمت دس برس پہلے والی سطح پر آ گئی ہے، جو یقیناً سراہے جانے کی بات ہے، ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کی اطلاعات خوش آیند ہیں۔ اس سے عوام کے تقریباً تمام طبقات کو فائدہ پہنچے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ قیمتیں کتنا عرصہ تک برقرار رہتی ہیں، اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اوپر گئیں تو لازم ہے کہ پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھیں گی۔ماضی میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے توانائی کا سستا ہونا ضروری ہے۔

یہ معاشیات کا مسلمہ اصول ہے کہ تیل، گیس اور بجلی جتنی سستی ہو گی، کاروباری سرگرمیوں میں اتنا ہی اضافہ ہو گا۔ عوامی جمہوریہ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ آج چین پوری دنیا پر چھا گیا ہے، اس کی مصنوعات کی قیمتیں ترقی یافتہ ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہیں، یہ اس لیے ہے کہ چین میں توانائی سستی اور وافر ہے، صنعتکاروں پر بے جا ٹیکس نہیں ہیں، لیبر بھی سستی ہے، یوں چین کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک بھی اپنی صنعتیں چین میں شفٹ کر رہے ہیں، چین پچاس برس پہلے تک ایک غریب ملک تھا لیکن آج وہ تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔


پاکستان میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے ، یہاں بہترین افرادی قوت ہے اور قدرتی وسائل بھی موجود ہیں لیکن پاکستان کے بہت سے دیگر مسائل کے علاوہ ایک اہم مسئلہ توانائی کی مہنگائی اور اس کی کمی ہے۔بجلی اور گیس کی قلت نے ملکی معیشت کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے، وہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔بجلی اور گیس کی قلت دور کرنے کے لیے کئی اقدامات اور منصوبے شروع ہیں اور آنے والے وقت میں صورت حال بہتر ہو جائے گی لیکن مسئلہ وہی ہے کہ توانائی سستی ہونی چاہیے کیونکہ توانائی سستی ہو گی تو اس سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مٹی کا تیل عام آدمی استعمال کرتا ہے، اس لیے اوگرا کی طرف سے مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔یہ صائب فیصلہ ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں کسی ملک نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی کمی نہیں کی جتنی پاکستان نے کی ہے ، ریونیو میں خسارے کے باوجود حکومت نے عوام کے مفاد کو ترجیح دی ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ اڑھائی برس کے دوران لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور یقین ہے کہ 2018 میں لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے ۔یہ باتیں بالکل درست ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے جنگی انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ممکن ہو سکے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر کیا جائے، اس طریقے سے معیشت کے کئی شعبوں میں استحکام آئے گا خصوصاً ٹرانسپورٹ کے کرائے کم از کم سال کے عرصے کے لیے مستحکم رہیں گے۔

اسی طرح بجلی اور گیس کے نرخ بھی سالانہ بنیادوں پر طے ہونے چاہئیں، ایک ترقی پذیر ملک کے لیے توانائی کے ذرایع کی قیمتوں میں استحکام انتہائی ضروری ہے، اس طریقے سے تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے کو اپنے خرچ اور اخراجات کا توازن قائم رکھنا خاصا آسان ہو جائے گا۔ مارکیٹ اکانومی کو ترقی اور استحکام دینے کے لیے بھی ایسا کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے بھی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، اگر توانائی کی قیمتوں میں استحکام ہو گا تو یہ ترقیاتی منصوبے بھی معینہ اخراجات بھی مکمل ہو سکتے ہیں۔
Load Next Story