مردم شماری ایک بار پھر موخر
دہشتگردی کے خلاف فورسز کی آپریشن ضرب عضب اور دیگر اہم ٹاسک میں مصروفیت بلاشبہ اہم اہداف کی تکمیل کے لیے بہت ضروری ہے
وقت کی للکار بھی یہی ہے کہ مردم شماری پینڈورا باکس نہیں بلکہ یہ آبادی کا شفاف انڈیکس اور ایک قابل اعتبار ڈیموگرافک آئینہ ہے فوٹو: فائل
مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے سیکیورٹی فورسز کی ذمے داریوں اور جاری آپریشنز کی بنا پر مردم شماری کا شیڈول دوبارہ جاری کرنے پر کلی اتفاق کیا ہے جب کہ نئی تاریخ کا اعلان فریقین کی مشاورت کے بعد کیا جائے گا، وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بہت اہم ہے ۔ پیر کو وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت تقریباً 11 ماہ بعد مشترکہ مفادات کونسل کا 28 واں اجلاس ہوا جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس تقریباً11 ماہ بعد ہوا جس میں متعدد اہم امور زیر غور لائے گئے جب کہ مردم شماری بھی 18سال بعد ہونے جارہی تھی اور تمام تر تحفظات و خدشات کے باوجود یہ یقینی نظر آرہا تھا کہ اس بار مردم شماری کے عمل کو بوتل کے جن کی طرح باہر نکالنے کے بجائے اس ناگزیر آئینی ضرورت سے کماحقہ ذمے داری کے ساتھ نمٹا جائے گا، اور عوامی حلقوں، ماہرین اور سیاسی جماعتوں کے تعاون و اشتراک سے مردم شماری طے شدہ شیڈول و معیاد میں مکمل کی جائے گی۔
دہشتگردی کے خلاف فورسز کی آپریشن ضرب عضب اور دیگر اہم ٹاسک میں مصروفیت بلاشبہ اہم اہداف کی تکمیل کے لیے بہت ضروری ہے، اس لیے 9 نکاتی ایجنڈے کے اجلاس میں تمام صوبوں نے اتفاق کیاکہ مردم شماری شیڈول کے مطابق کرانا ممکن نہیں ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مردم شماری کے لیے ہزارہا سیکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے جواس وقت دستیاب نہیں، سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ذمے داریوں اور جاری آپریشنز میں مصروف ہیں، افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، اساتذہ بھی امتحانات میں مصروف ہیں، ان تینوں وجوہ کے باعث مردم شماری مارچ میں کرانے کا فیصلہ موخر کردیا گیا۔
بہر حال بنیادی سوال پھر بھی یہی رہے گا کہ جب مردم شماری کرانے کا بگل بجایا گیا تو میڈیا پر اس کے مختلف پہلوں پربحث ومباحثوں کے دوران اس امر کا ادراک پہلے کیوں نہیں کیا گیا کہ اتنے سارے داخلی مسائل اور سیکیورٹی فورسز کی عدم دستیابی کے باعث یہ کام نہیں ہوسکے گا لہٰذا اس فیصلہ کے اندر ملکی امور کے بارے میں تدبر و حکمت پر مبنی فیصلوں کا ایک نادیدیہ بحران اور فقدان نظر آتا ہے۔
ارباب اختیار کو خدشات اور اپنی تیاریوں میں موجد سقم اور کمزوریوں کا احساس پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو اس اندیشہ اور شک میں مبتلا نہ ہونے دیا جائے کہ سیاست دان اور حکومت دونوں مردم شماری سے پیچھے ہٹ گئے، کیونکہ ووٹرز انتخابی حلقہ بندیوں کی کشمکش کا تماشا دیکھ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ کو اس میں مداخلت کرنا پڑی۔ المختصر یہ کہا گیا کہ آیندہ مردم شماری صوبوں اور اداروں کی مشاورت سے کی جائے گی اور یہ کام صرف3دن میں ہوگا، کوئی افغان مہاجر اور غیرملکی رجسٹرڈ نہیں ہوگا، صرف قومی شناختی کارڈرکھنے والے ہی رجسٹرڈ ہوسکیں گے۔
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا مردم شماری اس کے نتائج اور اثرات کی بحث اس ملک میں شروع سے رہی ہے، اس کی بنیاد پر ملک دولخت ہوا، متعلقہ قانون میں وفاقی حکومت کو بہت سارے اختیارات ہیں، اس قانون میں صوبے کہیں دکھائی نہیں دیتے، ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ وقت کی للکار بھی یہی ہے کہ مردم شماری پینڈورا باکس نہیں بلکہ یہ آبادی کا شفاف انڈیکس اور ایک قابل اعتبار ڈیموگرافک آئینہ ہے جس میں پاکستان جھلکتا ہے۔
اجلاس کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس تقریباً11 ماہ بعد ہوا جس میں متعدد اہم امور زیر غور لائے گئے جب کہ مردم شماری بھی 18سال بعد ہونے جارہی تھی اور تمام تر تحفظات و خدشات کے باوجود یہ یقینی نظر آرہا تھا کہ اس بار مردم شماری کے عمل کو بوتل کے جن کی طرح باہر نکالنے کے بجائے اس ناگزیر آئینی ضرورت سے کماحقہ ذمے داری کے ساتھ نمٹا جائے گا، اور عوامی حلقوں، ماہرین اور سیاسی جماعتوں کے تعاون و اشتراک سے مردم شماری طے شدہ شیڈول و معیاد میں مکمل کی جائے گی۔
دہشتگردی کے خلاف فورسز کی آپریشن ضرب عضب اور دیگر اہم ٹاسک میں مصروفیت بلاشبہ اہم اہداف کی تکمیل کے لیے بہت ضروری ہے، اس لیے 9 نکاتی ایجنڈے کے اجلاس میں تمام صوبوں نے اتفاق کیاکہ مردم شماری شیڈول کے مطابق کرانا ممکن نہیں ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مردم شماری کے لیے ہزارہا سیکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے جواس وقت دستیاب نہیں، سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ذمے داریوں اور جاری آپریشنز میں مصروف ہیں، افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، اساتذہ بھی امتحانات میں مصروف ہیں، ان تینوں وجوہ کے باعث مردم شماری مارچ میں کرانے کا فیصلہ موخر کردیا گیا۔
بہر حال بنیادی سوال پھر بھی یہی رہے گا کہ جب مردم شماری کرانے کا بگل بجایا گیا تو میڈیا پر اس کے مختلف پہلوں پربحث ومباحثوں کے دوران اس امر کا ادراک پہلے کیوں نہیں کیا گیا کہ اتنے سارے داخلی مسائل اور سیکیورٹی فورسز کی عدم دستیابی کے باعث یہ کام نہیں ہوسکے گا لہٰذا اس فیصلہ کے اندر ملکی امور کے بارے میں تدبر و حکمت پر مبنی فیصلوں کا ایک نادیدیہ بحران اور فقدان نظر آتا ہے۔
ارباب اختیار کو خدشات اور اپنی تیاریوں میں موجد سقم اور کمزوریوں کا احساس پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو اس اندیشہ اور شک میں مبتلا نہ ہونے دیا جائے کہ سیاست دان اور حکومت دونوں مردم شماری سے پیچھے ہٹ گئے، کیونکہ ووٹرز انتخابی حلقہ بندیوں کی کشمکش کا تماشا دیکھ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ کو اس میں مداخلت کرنا پڑی۔ المختصر یہ کہا گیا کہ آیندہ مردم شماری صوبوں اور اداروں کی مشاورت سے کی جائے گی اور یہ کام صرف3دن میں ہوگا، کوئی افغان مہاجر اور غیرملکی رجسٹرڈ نہیں ہوگا، صرف قومی شناختی کارڈرکھنے والے ہی رجسٹرڈ ہوسکیں گے۔
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا مردم شماری اس کے نتائج اور اثرات کی بحث اس ملک میں شروع سے رہی ہے، اس کی بنیاد پر ملک دولخت ہوا، متعلقہ قانون میں وفاقی حکومت کو بہت سارے اختیارات ہیں، اس قانون میں صوبے کہیں دکھائی نہیں دیتے، ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ وقت کی للکار بھی یہی ہے کہ مردم شماری پینڈورا باکس نہیں بلکہ یہ آبادی کا شفاف انڈیکس اور ایک قابل اعتبار ڈیموگرافک آئینہ ہے جس میں پاکستان جھلکتا ہے۔