بھارت زمینی حقائق کا ادراک کرے
بھارت کو صاف گوئی اور نیک نیت ہوکر مذاکرات اور امن کی بات چیت کے لیے روبرو بیٹھنا ہوگا
خطے میں امن واستحکام تاریخ کا قرض ہےاس سے صرف نظر کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔ فوٹو : فائل
پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ کی تحقیقات کے لیے پاکستان پوری ذمے داری اور سنجیدگی سے مسلمہ قانونی طریقہ کار کی روشنی میں اقدامات کر رہا ہے۔ ایک تفتیشی پاکستانی ٹیم بھارت کے دورہ پر جانے والی ہے، تاہم اس ضمن میں بعض بھارتی حکام سمیت میڈیا پاکستان کے سامنے بلاجواز مطالبات کے انبار لگا رہا ہے۔
ہیڈلی کے معاملہ کو اچھالا جا رہا ہے، ایک حالیہ سیمینار میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ دہشتگردی اور شورش جیسی صورتحال خطے میں قربتوں اور مواصلاتی رابطوں کی سارک ممالک کی پالیسیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارتی میڈیا نے پینترا بدلا ہے اور بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے الزام عائد کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ پٹھان کوٹ حملہ آوروں کو پاکستانی حکومت کی مدد حاصل تھی۔
منگل کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع منوہر پریکر نے راجیہ سبھا میں ضمنی سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پٹھانکوٹ حملے کے حوالے سے این آئی اے کی تحقیقات میں سب چیزیں سامنے آجائیں گی، حملے میں یقینی طور پر پاکستان کے غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں، کوئی بھی غیر ریاستی عناصر ریاست کی حمایت کے بغیر کوئی کام اتنی آسانی سے نہیں کرسکتے۔
پٹھانکوٹ جیسے اہم اڈوں کو سرحدی علاقوں سے دور منتقل کرنے کے حوالے سے ایک سوال پر منوہر پریکر نے کہا پٹھانکوٹ ائیربیس بہت اہم اڈا ہے کیونکہ یہ سرحد کے قریب واقع ہے اور پٹھانکوٹ ائیربیس پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے، اس کی دوسری جگہ منتقلی ایک مہنگا کام ہوگا۔ یہ بیان در حقیقت مجوزہ پاک بھارت مذاکرات اور سانحہ پٹھان کوٹ کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی کوشش ہے۔ جب کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور دو پڑوسی ملکوں کے مابین دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے جس میکنزم کی ضرورت ہے اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بھارتی حکومت اس کوشش میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے کہ اپنے وزراء کو پٹھان کوٹ حملہ کے بارے میں سنجیدہ ہونے کا پابند بنائے اور انھیں باور کرائے کہ پٹھانکوٹ ایئربیس واقعہ کے بارے میں پاکستان میں ہونے والی تحقیقات سے متعلق اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے دباؤ کی حکمت عملی کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس سے تو محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی اسٹبلشمنٹ اپنی تزویراتی، عسکری اور ٹیکٹیکل لغزشوں اور اس نااہلی پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے جس کا اعتراف خود وزیر دفاع منوہر پریکر نے 12فروری 2016ء کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔
اس انٹرویو کا زور اسی بات پر رہا کہ بھارتی حکومت پاکستان پر کیوں اتنا اعتبار کرتی ہے اور وہ پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کے دعوے تو کرتے ہیں مگر عملاً بھارتی عوام کو پاکستان سے دوطرفہ بات چیت اور بہتر تعلقات کا عندیہ دیا جاتا ہے جب کہ جنگجویانہ انداز فکر کے حامل اینکر نے وزیر دفاع منوہر پریکر کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پٹھان کوٹ پر حملہ ہوا تو آپ نے کہا تھا کہ جنہوں نے ہمیں تکلیف پہنچائی ہے اس کا ہم جواب دیں گے، مگر جواب کہاں ہے، جس پر بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم کوئی کارروائی ٹی وی پر بتا کر نہیں کریں گے۔
یہ انداز نظر خطے کی صورتحال کی بہتری کے لیے کبھی مفید نہیں ہوسکتا، بھارت کو صاف گوئی اور نیک نیت ہوکر مذاکرات اور امن کی بات چیت کے لیے روبرو بیٹھنا ہوگا۔ دو عملی سے جاری تحقیقات کو بھارتی الزام تراشیاں نہ صرف متنازعہ بنا دیں گی بلکہ بھارتی جنگجو حلقے پاک بھارت مذاکرات کے لیے ہموار و سازگار ہونے والی فضا کو بھی خراب کردیں گے۔ ماضی میں ایسا ہوتا آیا ہے۔ اس لیے مودی سرکار کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاک بھارت مذاکرات سے دنیا کو یہ مثبت پیغام دیا جا سکے کہ بھارت پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے اور مسائل کے حل میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
تاہم دوسری جانب سفارتی محاذ کچھ امید افزا محسوس ہونے لگا ہے کیونکہ بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ ہم اسلام آباد سے جدید بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ مختلف ایشوز ہیں جن کے حل کے لیے رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ غالباً اسی سمت قدم بڑھانے کے لیے بھارتی حکومت کو اقدامات کرنا ہونگے۔ پاکستان سے متعلق مخاصمت یا دشمنی کا رویہ بھارتی سائیکی کا مسئلہ اور مائنڈ سیٹ میں مضمر دیرینہ خرابی کا ہے جس کو بنیاد بنا کر کبھی پاکستانی فنکاروں کے ثقافتی شو اور تصویری نمائش میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں یا پھر ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ ٹی 20 ورلڈ کپ کے 19 مارچ کو ہونے والے پاک بھارت میچ میں سیکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کرلیتے ہیں۔
دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 19 مارچ کو دھرم شالہ میں سب سے بڑا پاک بھارت مقابلہ طے ہے تاہم ریاستی وزیراعلیٰ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو یہ کہتے ہوئے سیکیورٹی دینے سے صاف انکار کردیا کہ ہماچل پردیش کے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اس لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیکیورٹی نہیں دی جاسکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک بھارت مسائل کا حل اسی اکیسویں صدی میں ہونا شرط اول ہے۔ خطے میں امن واستحکام تاریخ کا قرض ہے ،اس سے صرف نظر کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔
ہیڈلی کے معاملہ کو اچھالا جا رہا ہے، ایک حالیہ سیمینار میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ دہشتگردی اور شورش جیسی صورتحال خطے میں قربتوں اور مواصلاتی رابطوں کی سارک ممالک کی پالیسیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارتی میڈیا نے پینترا بدلا ہے اور بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے الزام عائد کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ پٹھان کوٹ حملہ آوروں کو پاکستانی حکومت کی مدد حاصل تھی۔
منگل کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع منوہر پریکر نے راجیہ سبھا میں ضمنی سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پٹھانکوٹ حملے کے حوالے سے این آئی اے کی تحقیقات میں سب چیزیں سامنے آجائیں گی، حملے میں یقینی طور پر پاکستان کے غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں، کوئی بھی غیر ریاستی عناصر ریاست کی حمایت کے بغیر کوئی کام اتنی آسانی سے نہیں کرسکتے۔
پٹھانکوٹ جیسے اہم اڈوں کو سرحدی علاقوں سے دور منتقل کرنے کے حوالے سے ایک سوال پر منوہر پریکر نے کہا پٹھانکوٹ ائیربیس بہت اہم اڈا ہے کیونکہ یہ سرحد کے قریب واقع ہے اور پٹھانکوٹ ائیربیس پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے، اس کی دوسری جگہ منتقلی ایک مہنگا کام ہوگا۔ یہ بیان در حقیقت مجوزہ پاک بھارت مذاکرات اور سانحہ پٹھان کوٹ کی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی کوشش ہے۔ جب کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور دو پڑوسی ملکوں کے مابین دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے جس میکنزم کی ضرورت ہے اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
بھارتی حکومت اس کوشش میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے کہ اپنے وزراء کو پٹھان کوٹ حملہ کے بارے میں سنجیدہ ہونے کا پابند بنائے اور انھیں باور کرائے کہ پٹھانکوٹ ایئربیس واقعہ کے بارے میں پاکستان میں ہونے والی تحقیقات سے متعلق اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے دباؤ کی حکمت عملی کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس سے تو محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی اسٹبلشمنٹ اپنی تزویراتی، عسکری اور ٹیکٹیکل لغزشوں اور اس نااہلی پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے جس کا اعتراف خود وزیر دفاع منوہر پریکر نے 12فروری 2016ء کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔
اس انٹرویو کا زور اسی بات پر رہا کہ بھارتی حکومت پاکستان پر کیوں اتنا اعتبار کرتی ہے اور وہ پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کے دعوے تو کرتے ہیں مگر عملاً بھارتی عوام کو پاکستان سے دوطرفہ بات چیت اور بہتر تعلقات کا عندیہ دیا جاتا ہے جب کہ جنگجویانہ انداز فکر کے حامل اینکر نے وزیر دفاع منوہر پریکر کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پٹھان کوٹ پر حملہ ہوا تو آپ نے کہا تھا کہ جنہوں نے ہمیں تکلیف پہنچائی ہے اس کا ہم جواب دیں گے، مگر جواب کہاں ہے، جس پر بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم کوئی کارروائی ٹی وی پر بتا کر نہیں کریں گے۔
یہ انداز نظر خطے کی صورتحال کی بہتری کے لیے کبھی مفید نہیں ہوسکتا، بھارت کو صاف گوئی اور نیک نیت ہوکر مذاکرات اور امن کی بات چیت کے لیے روبرو بیٹھنا ہوگا۔ دو عملی سے جاری تحقیقات کو بھارتی الزام تراشیاں نہ صرف متنازعہ بنا دیں گی بلکہ بھارتی جنگجو حلقے پاک بھارت مذاکرات کے لیے ہموار و سازگار ہونے والی فضا کو بھی خراب کردیں گے۔ ماضی میں ایسا ہوتا آیا ہے۔ اس لیے مودی سرکار کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاک بھارت مذاکرات سے دنیا کو یہ مثبت پیغام دیا جا سکے کہ بھارت پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے اور مسائل کے حل میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
تاہم دوسری جانب سفارتی محاذ کچھ امید افزا محسوس ہونے لگا ہے کیونکہ بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ ہم اسلام آباد سے جدید بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ مختلف ایشوز ہیں جن کے حل کے لیے رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ غالباً اسی سمت قدم بڑھانے کے لیے بھارتی حکومت کو اقدامات کرنا ہونگے۔ پاکستان سے متعلق مخاصمت یا دشمنی کا رویہ بھارتی سائیکی کا مسئلہ اور مائنڈ سیٹ میں مضمر دیرینہ خرابی کا ہے جس کو بنیاد بنا کر کبھی پاکستانی فنکاروں کے ثقافتی شو اور تصویری نمائش میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں یا پھر ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ ٹی 20 ورلڈ کپ کے 19 مارچ کو ہونے والے پاک بھارت میچ میں سیکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کرلیتے ہیں۔
دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 19 مارچ کو دھرم شالہ میں سب سے بڑا پاک بھارت مقابلہ طے ہے تاہم ریاستی وزیراعلیٰ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو یہ کہتے ہوئے سیکیورٹی دینے سے صاف انکار کردیا کہ ہماچل پردیش کے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اس لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیکیورٹی نہیں دی جاسکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک بھارت مسائل کا حل اسی اکیسویں صدی میں ہونا شرط اول ہے۔ خطے میں امن واستحکام تاریخ کا قرض ہے ،اس سے صرف نظر کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔